Inquilab Logo Happiest Places to Work

سہراب الدین فرضی انکائونٹر: تمام ۲۲؍ ملزمین بری

Updated: May 08, 2026, 9:39 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ نے اس تاریخی مقدمے کا صرف زبانی فیصلہ سنایا کہ ’’ عرضداشت مسترد کی جاتی ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا.‘‘

Sohrabuddin and his wife Kausar Bi (file photo)
سہراب الدین اور اس کی بیوی کوثر بی (فائل فوٹو)

عالمی سطح پر شہرت حاصل کرنے والے سہراب الدین انکائونٹر معاملے کا عدالت نے  فیصلہ سنا دیا ہے اور تماملزمین کو بری کر دیا ہے۔  سہراب الدین اور ان کے ساتھی تُلسی رام پرجا پتی کے فرضی انکائونٹر اور سہراب الدین کی اہلیہ کوثر بی کو قتل کرنے کا معاملہ بامبے ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا جس میں موجودہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی ایک ملزم تھے لیکن انہیں بہت پہلے اس کیس سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ اب باقی ۲۲؍ ملزمین، بشمول پولیس افسران، کو بری کر نے کا فیصلہ سنا یا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وِجے کو حکومت سازی کی دعوت نہ دینے پر برہمی

یاد رہے کہ اس سے قبل ممبئی میں واقع سیشن کورٹ نے دسمبر ۲۰۱۸ء میں ۲۲؍ ملزمین کو تینوں الزامات سے بری کردیا تھا۔ ان میں سے ۲۱؍ ملزمین گجرات اور راجستھان سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران اور اہلکار تھے جبکہ ایک ملزم گجرات میں واقع ایک فارم ہائوس کا مالک تھا جس جگہ مبینہ طور پر سہراب الدین اور ان کی اہلیہ کوثر بی کوانکائونٹر سے قبل غیرقانونی طور پر قید کرکے رکھا گیا تھا۔ 
  اس معاملے کی تفتیش کرنے والی سی بی آئی کے افسران نے کہہ دیا تھا کہ انہوں نے ملزمین کو بری کرنے کے سیشن کورٹ کے فیصلے کو قبول کرلیا ہے اور وہ اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کریں گے۔ اس پر سہراب الدین کے بھائیوں رباب الدین اور نایاب الدین نے اپریل ۲۰۱۹ء میں اس فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس اپیل کو جمعرات کو چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس گوتم انکھد پر مشتمل دو رُکنی بنچ نے مسترد کردیا۔ تاہم ہائی کورٹ نے کن وجوہات کی بناء پر انہیں بری کیا ہے اس کی تفصیلی وجوہات ابھی معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اسپیم کالز سے متاثر ممالک کی فہرست میں پانچویں مقام پر، ۲۰۲۵ء میں ۶۶؍ فیصد کالز اسپیم نکلے

یاد رہے کہ نومبر ۲۰۰۵ء میں سہراب الدین کو گجرات میں احمد آباد کے قریب انکائونٹر میں مار دیا گیا تھا اور اس کے چند روز بعد مبینہ طور پر انکائونٹر میں ملوث پولیس افسران نے ان کی بیوی کو بھی قتل کردیا تھا لیکن ان کی لاش بھی نہیں ملی تھی۔ سہراب الدین کا قریبی ساتھی تُلسی رام پرجاپتی اس معاملے کے اہم ترین گواہ مانا جارہاتھا لیکن دسمبر ۲۰۰۶ء میں اسے بھی انکائونٹر میں مار دیا گیا تھا۔ اپیل کے مطابق ان تینوں کو سازش کے تحت قتل کیا گیا تھا۔ ۷؍ سال کے طویل عرصے بعد آئے اس فیصلے سے سہراب الدین کے بھائیوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاملے نے اپنے وقت میں عالمی سطح پر شہرت حاصل کی تھی اور نریندر مودی جو اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اس کے سبب مسلسل سوالوں کے گھیرے میں تھے۔ میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا تھاکہ گجرات کے اس وقت کے وزیر داخلہ امیت شاہ کا سہراب الدین کے انکائونٹر میں اہم رول تھا۔ انہیں اس کیس میں ملزم بھی بنایا گیا تھا۔ معاملے کی سماعت گجرات میں شفاف طریقے سے نہیں ہو سکتی اس لئے اس مقدمے کو ممبئی منتقل کیا گیا تھا۔ یہاں سیشن کورٹ نے امیت شاہ کے علاوہ راجستھان کے سابق وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ، آئی پی ایس افسران دنیش ایم این، راج کمار پانڈین اور ڈی جی ونجارا سمیت ۱۶؍ افراد کو ۲۰۱۹ء میں بری کر دیا تھا۔ہائی کورٹ میں اس کی سماعت دسمبر ۲۰۲۵ء میں شروع ہوئی تھی اور ۱۶؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو مکمل ہوئی تھی مگر عدالت نے اس کا فیصلہ محفوظ رکھا تھا جسے جمعرات کو سنایا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK