تمل ناڈو کےگورنرکا جمہوری روایت سے انحراف، اکثریت کی حمایت کا ثبوت مانگا، قانونی ماہرین نے سخت تنقید کی،کپل سبل نے بی جےپی کاایجنٹ قراردیا، کمل ہاسن نے سپریم کورٹ کافیصلہ یاد دلایا ۔ ’ٹی وی کے‘ نے بائیں محاذ، مسلم لیگ اور ’وی سی کے‘ سے مدد مانگی۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 9:21 AM IST | Chennai
تمل ناڈو کےگورنرکا جمہوری روایت سے انحراف، اکثریت کی حمایت کا ثبوت مانگا، قانونی ماہرین نے سخت تنقید کی،کپل سبل نے بی جےپی کاایجنٹ قراردیا، کمل ہاسن نے سپریم کورٹ کافیصلہ یاد دلایا ۔ ’ٹی وی کے‘ نے بائیں محاذ، مسلم لیگ اور ’وی سی کے‘ سے مدد مانگی۔
الیکشن میں سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی پارٹی کوحکومت سازی کا موقع دینے کی جمہوری روایت اور ایس آر بومئی کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے جمعرات کو دوسری ملاقات ،میں بھی ’ٹی وی کے ‘ سربراہ وجے تھلاپتی کو حکومت سازی کی دعوت دینے سے انکار کردیا ۔ وجے کی پارٹی نے۲۳۴؍ رکنی اسمبلی کی ۱۰۸؍ سیٹوں پرکامیابی حاصل کی ہے جبکہ کانگریس جس نے ۵؍ سیٹیں جیتی ہیں، نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح ان کے پاس ۱۱۳؍ اراکین کی حمایت ہےمگر گورنر کے دفتر سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ تھلاپتی وجے جن کا پورا نام جوزف وجے چندر شیکھر ہے، حکومت سازی کیلئے مطلوبہ تعداد کی حمایت ثابت نہیں کرسکے۔
’ ٹی وی کے‘ نے بائیں محاذ، مسلم لیگ اور سی وی کے سے مدد مانگی
راج بھون کے اس رویہ پر شدید تنقیدوں کے بیچ وجے تھلاپتی کی پارٹی ’ٹی وی کے‘ نےبائیں محاذ، انڈین مسلم لیگ اور ’سی وی کے ‘ سے مدد مانگی ہے۔ وجے کی پارٹی کے لیڈر سی ٹی آر نرمل کمار نے جمعرات کو سی پی آئی کے ریاستی سیکریٹری ایم ویراپانڈین اور سی پی ایم کے سیکریٹری پی شان مگم سے ذاتی طو رپر ملاقات کی۔انہوں نے بتایا کہ حمایت دینے والی پارٹیوں کووِجے اپنی حکومت میں شامل کرنے کے حق میں ہیں تاکہ وہ ووٹرسے کئے گئے وعدوں کو وفا کرسکیں۔ اس سے قبل ٹی وی کے انڈین مسلم لیگ اور وی سی کے کو ای میل بھیج کر حمایت مانگ چکی ہے۔وی سی کے، سی پی آئی، سی پی ایم اور مسلم لیگ نےاسمبلی الیکشن میں ۲-۲؍ سیٹیں جیتی ہیں۔ وی سی کے، مسلم لیگ اور بایاں محاذ چونکہ ڈی ایم کے کی اتحادی ہیں اسلئے ٹی وی کے کی درخواست ملنے کے بعد جمعرات کو انہوں نے رخصت پزیر وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن سے ملاقات کی۔
گورنرراجندر وشوناتھ آرلیکر پر شدید تنقیدیں
ٹی وی کے کو گورنر کی جانب سے حکومت سازی کا موقع نہ دیئے جانے پر شدید تنقیدیں ہورہی ہیں۔ خود بی جےپی لیڈر سبرامنیم سوامی نے اس پر حیرت کا اظہار کرتےہوئےانہیں فوراً موقع دینے کی مانگ کی ہے۔ سابق مرکزی وزیرا ور سپریم کورٹ کے معروف وکیل کپل سبل نے تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشوناتھ کے طرز عمل پر برہمی کااظہا رکرتے ہوئے گورنروں پر آئین کے غلط استعمال کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ بی جے پی کے ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سہراب الدین فرضی انکائونٹر: تمام ۲۲؍ ملزمین بری
معروف اداکار کمل ہاسن نے بھی گونر کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ایس آر بومئی کیس میں سپریم کورٹ کافیصلہ یاد دلایا ہے۔ مذکورہ فیصلے میں کورٹ نے واضح طو رپر کہا ہے کہ ’’اکثریت راج بھون میں نہیں ایوان اسمبلی میں ثابت کی جانی چاہئے۔‘‘ انہوں نے متنبہ کیا کہ ’’وجے نے عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل کی ہے، انہیں مدعو نہ کیا جاناتمل ناڈو کےعوام کے فیصلے کی توہین ہے۔‘‘
شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے گورنر کے رویے کو ’’غیر آئینی ‘‘ قرار دیا ہےجبکہ این سی پی (شرد پوار) نے اس کا الزام بی جےپی پر عائد کیا اور کہا کہ وہ اپنی ناکامی کا بدلہ لے رہی ہے۔ پرکاش امبیڈکر نے بھی نشاندہی کی ہے کہ وجے کی پارٹی کو آئین کے آرٹیکل ۱۶۴(۲) کے تحت ایوان میں یہ ثابت کرنا ہے کہ انہیں اکثریت کی حمایت حاصل ہے یا نہیں، راج بھون میں اس کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔