Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان اسپیم کالز سے متاثر ممالک کی فہرست میں پانچویں مقام پر، ۲۰۲۵ء میں ۶۶؍ فیصد کالز اسپیم نکلے

Updated: May 07, 2026, 10:16 PM IST | New Delhi

ٹروکالر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں صارفین کو موصول ہونے والی ۶۶ فیصد نامعلوم کالز ’اسپیم‘ کے طور پر رپورٹ کی گئیں۔ رپورٹ میں حکومتی اقدامات اور ’ڈو ناٹ ڈسٹرب‘ (DND) میکانزم کی موجودگی کے باوجود ملک میں اسپم ایکو سسٹم کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ٹروکالر (Truecaller) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ہندوستان دنیا میں اسپیم کالز سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں پانچویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ ملک میں صرف ۲۰۲۵ء میں صارفین کو موصول ہونے والی ۶۶ فیصد نامعلوم کالز ’اسپیم‘ کے طور پر رپورٹ کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں حکومتی اقدامات اور ’ڈو ناٹ ڈسٹرب‘ (ڈی این ڈی DND) میکانزم کی موجودگی کے باوجود ملک میں اسپم ایکو سسٹم کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے نتائج کے مطابق، صرف ۲۰۲۵ء میں ہندوستان میں ۶۸ء۴۱ بلین اسپیم کالز اور ۰۳ء۱۲۹ بلین اسپیم پیغامات ریکارڈ کئے گئے۔ ٹروکالر پر صارفین نے سال گزشتہ کے دوران تقریباً ۸۹ء۱۱ بلین اسپیم کالز کو بلاک کیا۔ عالمی سطح پر، ٹروکالر نے ۲۰۲۵ء میں ۶۸ بلین سے زیادہ اسپیم اور فراڈ کالز کی نشان دہی کی۔ انڈونیشیا ۷۹ فیصد اسپم کالز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، اس کے بعد چلی (۷۰ فیصد)، ویتنام، برازیل اور پھر ہندوستان کا نمبر آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں فراڈ کالز کی تعداد تقریباً ۷ء۷ بلین رہی۔ ان میں سے سیلز اور ٹیلی مارکیٹنگ کالز کا حصہ ۳۶ فیصد، مالیاتی خدمات سے جڑے کالز کا حصہ ۱۸ فیصد اور دھوکہ دہی سے جڑے کالز کا حصہ ۱۲ فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت خاتون صحافیوں کے خلاف بدسلوکی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے: یو این کی رپورٹ میں انکشاف

ڈی این ڈی (DND) اقدامات کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟

ہندوستان کا نیشنل کسٹمر پریفرنس رجسٹر (NCPR)، جسے عام طور پر ڈی این ڈی (DND) کہا جاتا ہے، رجسٹرڈ ٹیلی مارکیٹرز کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے آپریٹرز کیلئے لازمی ہے کہ وہ ۱۴۰ جیسے مخصوص سابقے والے نمبر استعمال کریں اور صارفین کی ترجیحات کی تعمیل کریں۔ صارفین ۱۹۰۹ پر کال یا میسج کرکے یا ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی TRAI) کی ڈی این ڈی ایپلی کیشن کے ذریعے اسے فعال کرسکتے ہیں۔ تاہم، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سسٹم کو غیر رجسٹرڈ ٹیلی مارکیٹرز (UTMs) بڑے پیمانے پر نظر انداز کر رہے ہیں، جو سرکاری ٹیلی مارکیٹنگ لائنوں کے بجائے عام ۱۰ ہندسوں والے موبائل نمبرز استعمال کرتے ہیں۔ صارفین تک پہنچنے کیلئے غیر رجسٹرڈ ٹیلی مارکیٹرز بلک سم کارڈز اور ”سم فارمز“ (SIM farms) پر انحصار کرتے ہیں، جس سے وہ ریگولیٹری فریم ورک سے باہر کام کرنے اور ڈی این ڈی پابندیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اب واٹس ایپ کے ذریعے اپنا بجلی کا بل حاصل کیجئے

حکومت اور ٹیلی کام کمپنیوں کی اسپیم مخالف مہم

حکومت اور ٹیلی کام آپریٹرز نے گزشتہ ایک سال کے دوران اسپم کے خلاف اقدامات تیز کر دیئے ہیں۔ ۲۰۲۶ء کے اوائل تک، ٹرائی نے اسپیم کالز اور اسپیم پیغامات کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر ٹیلی کام کمپنیوں پر ۵ء۱ بلین روپئے کے جرمانے عائد کئے۔ صارفین کی شکایات کی بنیاد پر ۲۰۲۵ء کے آخر تک ۱ء۲ ملین سے زائد موبائل نمبرز اور ایک لاکھ اداروں کو بلیک لسٹ کیا گیا۔ صرف ۲۰۲۵ء میں غیر رجسٹرڈ ٹیلی مارکیٹرز کو ۷ لاکھ ۳۱ ہزار نوٹسز جاری کئے گئے۔ حکومت نے صارف رضامندی کے سخت قواعد، شکایات کے حل کیلئے تیز رفتار ٹائم لائنز اور پروموشنل پیغامات کو ٹریک کرنے کیلئے ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی (DLT) سسٹم بھی متعارف کرایا۔

یہ بھی پڑھئے: انسانی عمل دخل کے بغیر اے آئی بے قابو دنیا بنا سکتی ہے: ماہرین

حکومتی اقدامات کے درمیان اسیپم کے نئے حربے سامنے آ رہے ہیں

حکومتی سطح پر ان اقدامات کے باوجود، اسپیمرز نئی ٹیکنالوجیز کا سہارا لے رہے ہیں۔ رپورٹ میں اسپوفنگ (spoofing)، نمبر روٹیشن، وی او آئی پی (VoIP) روٹنگ اور اے آئی (AI) پر مبنی روبو کالنگ سسٹمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کو نوٹ کیا گیا ہے۔ آواز کی نقل (voice cloning) اور خودکار ڈائلرز کو بھی اسپیم کارروائیوں کو وسعت دینے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مبینہ طور پر مختلف ایپس، ویب سائٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز سے ڈیٹا لیک ہونے سے اسپیمرز کو فون نمبر آسانی سے حاصل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگرچہ ٹیلی کام آپریٹرز اور ریگولیٹرز زیادہ جارحانہ انداز میں کام کر رہے ہیں، لیکن بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور کم آپریشنل اخراجات کی وجہ سے پورے ہندوستان میں اسپم کی شرح بدستور بلند ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK