• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی افریقہ کی ناوی پلّے کو نوبیل امن انعام، بین الاقوامی قانون کے فروغ میں خدمات کا اعتراف

Updated: October 09, 2026, 4:06 PM IST | Oslo

نسل پرستی کے خلاف جدوجہد سے روانڈا کی نسل کشی کے مقدمات تک، سابق اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے انصاف اور جواب دہی کے لیے طویل عرصے تک کام کیا۔

Navi Pillay. Picture: INN
نوی پلے۔ تصویر: آئی این این

جنوبی افریقہ کی ممتاز ماہرِ قانون اور انسانی حقوق کی علم بردار ناوانیتھم ’ناوی‘ پلّے کو ۲۰۲۶ء کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ ناروے کی نوبیل کمیٹی نے جمعہ ۹؍ اکتوبر کو اعلان کیا کہ انہیں امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق پلّے نے غیر معمولی جرأت اور دیانت داری کے ساتھ ایک ایسے عالمی قانونی نظام کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
نوبیل کمیٹی نے پلّے کی زندگی کے مختلف ادوار کو ان کے کام کے تسلسل سے جوڑا ہے۔ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے نظام کے دوران سیاسی کارکنوں اور قیدیوں کا دفاع کرنے سے لے کر روانڈا کی نسل کشی کے بعد قائم بین الاقوامی ٹریبونل میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دینے اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہی تک، ان کا پیشہ ورانہ سفر قانون کے ذریعے انسانی حقوق کے تحفظ سے وابستہ رہا۔ کمیٹی کے مطابق ان کی خدمات نے بین الاقوامی انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔

یہ بھی پڑھئے:فلائی دبئی طیارہ حادثہ: کپتان اسمت مچھار کو اسرائیل کا اعلیٰ شہری اعزاز ملے گا

ناوی پلّے ۲۳؍ ستمبر ۱۹۴۱ء کو جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں تمل نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کا بچپن ایسے دور میں گزرا جب ملک میں نسل پرستی کا قانونی نظام نافذ تھا اور سیاہ فام شہریوں کو تعلیم، ملازمت، رہائش اور سیاسی حقوق سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں امتیازی سلوک کا سامنا تھا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف نیٹل سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۶۵ء میں قانون کی ڈگری مکمل کی۔ بعد میں انہوں نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی اسناد بھی حاصل کیں۔
۱۹۶۷ء میں پلّے نے نیٹل صوبے میں اپنی قانونی پریکٹس شروع کی۔ وہ اس علاقے میں وکالت کا اپنا دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف سرگرم کارکنوں اور سیاسی قیدیوں کا دفاع کیا، پولیس حراست میں تشدد اور تنہائی میں قید رکھنے کے طریقوں کو چیلنج کیا اور قیدیوں کے قانونی حقوق کے لیے مقدمات لڑے۔ ان کی قانونی جدوجہد میں روبن جزیرے کی جیل میں قید سیاسی کارکنوں کے حقوق کا معاملہ بھی شامل تھا، جہاں نیلسن منڈیلا سمیت نسل پرستی کے خلاف تحریک کے متعدد رہنما قید رہے تھے۔ 
۱۹۹۴ء میں جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے نظام کے خاتمے کے بعد پلّے کو ۱۹۹۵ء میں صوبہ نیٹل کی ہائی کورٹ میں قائم مقام جج مقرر کیا گیا۔ اسی سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انہیں روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کا جج منتخب کیا۔ انہوں نے اس ٹریبونل میں ۸؍ سال خدمات انجام دیں اور ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۳ء تک اس کی صدر بھی رہیں۔ اس عدالت کا کام ۱۹۹۴ء میں روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کے ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات چلانا تھا۔
روانڈا کے ٹریبونل میں پلّے کا کردار بین الاقوامی قانون کی تاریخ کے ایک اہم مقدمے سے بھی جڑا ہے۔ ژاں پال اکایسو کے مقدمے میں عدالت نے قرار دیا کہ مخصوص حالات میں جنسی تشدد اور عصمت دری نسل کشی کے جرائم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ اس فیصلے نے بین الاقوامی فوجداری قانون میں جنسی تشدد کو جنگ کے دوران ہونے والے جرائم اور نسل کشی کے تناظر میں سمجھنے کے لیے اہم قانونی بنیاد فراہم کی۔ پلّے نے اس مقدمے میں جج کی حیثیت سے کام کیا، جسے بین الاقوامی انصاف کی تاریخ میں ایک اہم نظیر سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:طاعون کا مشتبہ معاملہ: ڈبلیو ایچ او نے روس سے معلومات طلب کی

۲۰۰۳ء میں پلّے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج منتخب ہوئیں، جہاں انہوں نے اپیلوں سے متعلق شعبے میں خدمات انجام دیں۔ ۲۰۰۸ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انہیں ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مقرر کیا۔ انہوں نے یکم ستمبر ۲۰۰۸ء سے اگست ۲۰۱۴ء تک یہ عہدہ سنبھالا۔ اس حیثیت میں ان کی ذمہ داری دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ، امتیازی سلوک کی روک تھام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں عالمی سطح پر توجہ دلانا تھی۔ 
ہائی کمشنر کی حیثیت سے پلّے نے خواتین، تارکین وطن، مقامی آبادیوں، معذور افراد اور جنسی اقلیتوں سمیت ان گروہوں کے حقوق پر توجہ دی جنہیں مختلف معاشروں میں امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے۔ جنوبی افریقہ میں وہ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں سے بھی وابستہ رہیں اور ایکویلٹی ناؤ نامی بین الاقوامی تنظیم کی شریک بانیوں میں شامل تھیں۔ اس تنظیم کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیاز اور تشدد کے خاتمے کے لیے قانونی اور سماجی سطح پر کام کرنا ہے۔
نوبیل امن انعام کے لیے پلّے کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنگی جرائم، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد سے متعلق سوالات عالمی سیاست میں اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت اور دیگر قانونی اداروں کا کام ایسے افراد کی جواب دہی سے متعلق ہے جن پر سنگین بین الاقوامی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہوں۔ پلّے کا پیشہ ورانہ سفر قومی عدالتوں، بین الاقوامی ٹریبونل اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام سے گزرا ہے، جسے نوبیل کمیٹی نے ان کے انتخاب کی وضاحت میں نمایاں کیا۔ 
۲۰۲۶ء کے نوبیل امن انعام کے لیے مجموعی طور پر ۲۸۷؍ امیدوار نامزد کیے گئے تھے، جن میں ۲۰۸؍ افراد اور ۷۹؍ تنظیمیں شامل تھیں۔ نوبیل کمیٹی امیدواروں کے نام اور ان کے بارے میں اندرونی غور و خوض کی تفصیلات عموماً ۵۰؍ برس تک خفیہ رکھتی ہے، اس لیے نامزد افراد کی مکمل سرکاری فہرست جاری نہیں کی جاتی۔ پلّے کو ملنے والے انعام کی رقم ۱۲؍ ملین سویڈش کرونا ہے اور رسمی تقریب ۱۰؍ دسمبر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK