Updated: October 09, 2026, 3:23 PM IST
| Tel Aviv
فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ ہائی جیکنگ اور تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنے والے ہندوستانی کپتان اسمت مچھار کو اسرائیل کے اعلیٰ ترین شہری بہادری کے اعزاز سے نوازا جائے گا۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے ان کی بہادری کو بڑے سانحے کو ٹالنے کا سبب قرار دیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات میں معاون پائلٹ کی بھرتی کے دوران سلامتی سے متعلق خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
کپتان اسمت مچھار۔ تصویر: آئی این این
۳۰؍ ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر ہائی جیک کیے جانے اور بعد ازاں طیارے کو تباہ ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنے والے کپتان اسمت مچھار کو اسرائیل کا اعلیٰ ترین شہری بہادری کا اعزاز ’میڈل فار سویلین بریوری‘ دیا جائے گا۔ اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے جمعرات کو کہا کہ کپتان اسمت مچھار کی بہادری نے ’’ایک بڑے سانحے کو ٹالنے میں مدد کی۔‘‘ ان کی صحت یابی کے بعد صدر انہیں شہری بہادری کے لیے صدارتی اعزاز سے نوازیں گے۔ ہرزوگ نے کہا، ’’ہم ان کی مکمل اور جلد صحت یابی کے خواہش مند ہیں۔ شکریہ، کپتان! اسرائیل آپ کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فرانس: عدالت نے مسلم طلبہ کے زیر تعلیم اسکول پر ۶؍ ماہ کی پابندی برقرار رکھی
فلائی دبئی کے طیارے میں کیا واقعہ پیش آیا؟
۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ ۱۰۷۳؍ میں سلامتی کا سنگین بحران پیدا ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق، ۲۹؍ سالہ عمانی معاون پائلٹ، جس کے انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے کا شبہ تھا، نے کاک پٹ میں ہندوستانی کپتان پر حملہ کردیا۔ اس کے بعد اس نے طیارے کا آٹو پائلٹ نظام بند کرکے بوئنگ ۷۳۷؍ میکس ۸؍ کو ۳۴؍ ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے کی جانب غوطہ لگانے پر مجبور کردیا۔ زخمی ہونے کے باوجود کپتان اسمت نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد کیبن عملے اور مسافروں نے مداخلت کرکے حملہ آور کو قابو کرلیا۔ بعد ازاں طیارے کو بحفاظت ہنگامی طور پر سعودی عرب کے شہر تبوک میں واقع پرنس سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: ۱۰؍ اکتوبر کو ۶۰؍ ممالک میں احتجاج، ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں متحرک
تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟
واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اسرائیل اور عمان کے شہری ہوا بازی اور خفیہ اداروں نے تحقیقات شروع کیں، جن میں امریکہ نے بھی تعاون کیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، معاون پائلٹ حمام الحماّمی نے پوچھ گچھ کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے جان بوجھ کر طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، ابتدائی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے کسی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی براہِ راست ہدایت کے بغیر اکیلے یہ کارروائی کی۔ تحقیقات میں معاون پائلٹ کی بھرتی کے دوران سرحد پار سلامتی اور جانچ پڑتال کے نظام میں خامیوں کا بھی پتا چلا۔ اسے انتہا پسندی سے متعلق خدشات کے باعث عمان ایئر نے اس سے پہلے ہی فعال پروازوں کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا تھا۔ تاہم، یہ معلومات بین الاقوامی سطح پر متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں، جس کے باعث وہ معمول کی مجرمانہ پس منظر کی جانچ سے گزرنے میں کامیاب رہا اور اسے فلائی دبئی میں ملازمت مل گئی۔ تحقیقاتی حکام نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ عمان ایئر کو اس کے انتہا پسندانہ رجحانات کا علم کیسے ہوا تھا اور کن وجوہات کی بنا پر اس کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے تھے۔