• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسی ماہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے

Updated: October 17, 2026, 9:40 AM IST | Agency | New Delhi

خواتین ریزرویشن اور حد بندی بل پیش کرنے کا امکان!حکومت کو چھوٹی چھوٹی پارٹیوں سے حمایت کی امید۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس رواں ماہ کے آخر میں بلایا جا سکتا ہے۔ حکومت اس اجلاس میں حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو یقین ہے کہ لوک سبھا میں ان بلوں کو منظور کرانے کے لئے اس کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اپوزیشن پارٹیاں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج تیز کر رہی  ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی حکومت کو امید ہے کہ وہ ڈی ایم کے اور کچھ چھوٹی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کر کے حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیم کے بل کو پاس کرا لے گی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت لوک سبھا میں اپنی عددی طاقت کو لے کر پُراعتماد ہے۔ اسی اعتماد کے ساتھ وہ خصوصی اجلاس بلا کر مجوزہ قانون کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپوزیشن پارٹیوں سے رابطہ کر کے حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یمن: لڑائی میں شدت، اتحادی فوج کا مدینہ کی طرف بڑھنے والے ڈرون اورداغے گئے میزائل روکنے کا دعویٰ

قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ۱۳؍ اگست کو ختم ہو گیا تھا لیکن اس کے اب تک حتمی اختتام، یعنی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اجلاس ختم ضرور ہو گیا ہے لیکن اسے باضابطہ طور پر ختم نہیں کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے خصوصی اجلاس بلانے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔

مودی حکومت فی الحال اجلاس کی تاریخوں اور پروگرام کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جب چند ماہ قبل ہی حکومت کو پارلیمنٹ میں دھچکا لگ چکا ہے تو  اب حکومت اسی معاملے پر دوبارہ کوشش کرنے کی تیاری کرتی ہوئی کیوں دکھائی دے رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار حکومت ڈی ایم کے سے  بات چیت کر رہی ہے۔  اس کے علاوہ حکومت کچھ چھوٹی اپوزیشن پارٹیوں  سے بھی رابطے میں ہے۔یاد رہے کہ مودی حکومت نے اپریل میں بھی یہ کوشش کی تھی لیکن اس وقت یہ دونوں بل ۵۴؍ ووٹوں سے ناکام ہو گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK