۱۶؍لاکھ ۱۵؍ہزار ۴۸۹؍طلبہ شریک ہوں گے، ممبئی ڈویژن میں سب سے زیادہ ۳؍لاکھ ۴۹؍ہزار ۸۷۳؍طلبہ امتحان دیں گے، امتحان کے صاف اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے زیادہ تر مراکز پر سی سی ٹی وی سسٹم نصب کیاگیا، بے ضابطگیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 3:47 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
۱۶؍لاکھ ۱۵؍ہزار ۴۸۹؍طلبہ شریک ہوں گے، ممبئی ڈویژن میں سب سے زیادہ ۳؍لاکھ ۴۹؍ہزار ۸۷۳؍طلبہ امتحان دیں گے، امتحان کے صاف اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے زیادہ تر مراکز پر سی سی ٹی وی سسٹم نصب کیاگیا، بے ضابطگیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کی نگرانی میں سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ ( ایس ایس سی) کا امتحان ممبئی سمیت ریاست کے سبھی اضلاع میں جمعہ سے شروع ہورہا ہے۔ ریاست کے ۲۳؍ ہزار ۶۸۳؍ اسکولوں کے ۱۶؍لاکھ ۱۵؍ہزار ۴۸۹؍طلبہ نے دسویں جماعت کے امتحان کیلئے رجسٹریشن کرایا ہے۔ ان میں ۸؍لاکھ ۶۵؍ہزار ۷۴۰؍ لڑکے، ۷؍لاکھ ۴۹؍ہزار ۷۳۶؍لڑکیاں اور ۱۳؍ خواجہ سراء شامل ہیں۔ امتحان ریاست کے ۵؍ہزار ۱۱۱؍ امتحانی مراکز پر منعقد ہوں گے۔ امتحان کی ساری تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ نقل سے پاک امتحان کیلئے ضروری اقدامات کئے گئےہیں۔
۹؍ڈویژنل بورڈز یعنی پونے، ناگپور، اورنگ آباد، ممبئی، کولہاپور، امرائوتی، ناسک، لاتور اور کوکن میں سے شعبہ کے لحاظ سے ممبئی ڈویژن میں سب سے زیادہ ۳؍لاکھ ۴۹؍ہزار ۸۷۳؍ طلبہ امتحان میں شریک ہوں گے۔ یہ تعداد ریاست کے تمام ۹؍ڈویژن میں سب سے زیادہ ہے جن میں ایک لاکھ ۸۲؍ہزار ۸۰۸؍لڑکے اور ایک لاکھ ۶۷؍ہزار ۶۶۱؍ لڑکیاں امتحان میں شریک ہوں گی۔ اس کے علاوہ ۴؍خواجہ سراؤں نے بھی امتحان کیلئے رجسٹریشن کرایا ہے۔ ممبئی ڈویژن میں ایک ہزار ۴؍مراکز ہوں گے۔ سینٹر ڈائریکٹرس کی اتنی ہی تعداد ان مراکز کے ذمہ دار ہوں گے۔ ان مراکز میں سوالیہ اور جوابی پرچے پہنچانے کیلئے ۷۱؍کسٹوڈین سینٹر ہوں گے۔ گزشتہ سال کے تجربے کی بنیاد پر ممبئی ڈویژن میں ایک مرکز کو دسویں جماعت کیلئے حساس قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ممبئی ڈویژن میں ۲۱؍فلائنگ اسکواڈ اور ۸؍سیٹنگ اسکواڈ تعینات کئے گئے ہیں تاکہ امتحان کو آسانی سے منعقد کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: آئی ٹی آئی کے طلبہ کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی تربیت دی جائیگی
بورڈ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کل ۱۶؍لاکھ ۱۵؍ہزار ۴۸۹؍طلبہ میں سے ۸؍لاکھ ۶۵؍ہزار ۷۴۰؍ لڑکے اور ۷؍لاکھ ۷۳؍ ہزار ۹۴۰؍لڑکیاں ہوں گی جبکہ ۱۳؍خواجہ سرا ء بھی امتحان میں شریک ہوں گے۔ گزشتہ سال کے مقابلے طلبہ کی تعداد میں ۳؍ہزار ۸۷۹؍کا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں لڑکوں کی تعداد ایک ہزار ۶۳۰؍اور لڑکیوں کی تعداد ۲؍ہزار ۲۵۵؍بڑھ گئی۔ کوکن ڈویژن میں سب سےکم ۲۵؍ہزار ۷۷۹؍ طلبہ امتحان میں شریک ہوں گے۔
بورڈ نے امتحان کے صاف و شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے نقل سے پاک مہم نافذ کی ہے۔ زیادہ تر مراکز پر سی سی ٹی وی سسٹم کو فعال رکھا جائے گا اور بے ضابطگیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ ضلع وار ویجیلنس ٹیمیں مقرر کی گئی ہیں۔ امتحانی مراکز کے ۴۰۰؍میٹر کے اندر زیراکس سینٹرس کو بند کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ پہلا پرچہ پہلی زبان کے طور پر مراٹھی ہوگا۔ طلبہ کے ذہنی دباؤ کو کم کرنے کیلئے امتحانی شیڈول کی تیاری کے دوران اہم مضامین کے پیپرز میں کافی جگہ رکھی گئی ہے۔
بورڈ کی جانب سے صرف سرکاری طور پر اعلان کردہ اور پرنٹ شدہ شیڈول کو ہی قبول کیا جائے، کسی دوسری ویب سائٹس یا غیر قانونی شیڈول پر بھروسہ نہ کیاجائے۔