جے این پی ٹی بندرگاہ پر چین سے درآمد۱۲۰۰؍ ڈرونز پر مشتمل ذخیرہ ضبط

Updated: March 23, 2022, 8:48 AM IST | siraj shaikh | kokan

ڈرونز کا یہ ذخیرہ چین سے کھلونا اور فیول پمپ کے نام پر لایا جارہا تھا جسے ایک خفیہ رپورٹ پر کسٹم ڈپارٹمنٹ کے افسران نے پکڑا

JNPT Port, Uran, Raigarh
جے این پی ٹی پورٹ، اُرن،رائے گڑھ

:رائے گڑھ ضلع  کے اُرن میں واقع جے این پی ٹی بندرگاہ  پر چین سے غیر قانونی طور درآمد کئے گئے۱۲۰۰؍ ڈرونز کا ذخیرہ ضبط کیا گیا ہے۔ اس کی مالیت تقریباً پونے پانچ کروڑ روپے  بتائی گئی ہے۔ یہ کارروائی نہوا شیوا کسٹم ڈپارٹمنٹ کے کرائم انٹیلی جنس یونٹ کے اہلکاروں نے کی۔ واضح ہو کہ مرکزی حکومت کے ذریعے گزشتہ ماہ سے ڈرون کی درآمد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ  ملک میں ڈرون کی مقامی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسلئے مرکزی حکومت نے دیگر ممالک سے ڈرونز کی درآمدگی پر پابندی عائد کردی  ہے۔اس پابندی کے بعد پہلی بار اتنا بڑا ذخیرہ پکڑا گیا ہے۔اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ڈرونز کا ذخیرہ چین سے کھلونا اور فیول پمپ کے نام سے ایک ایجنسی کے ذریعے جے این پی ٹی بندرگاہ کے ذریعے درآمد کیا گیا تھا۔ ڈرون کو’نہوا شیوا‘ کے کوڈ نام سے اسمگل کیا جا رہا تھا۔ اس سے قبل، متذکرہ محکمہ نے اسی بندرگاہ سے چین سے درآمد کئے گئے تقریباً ۱۴؍ لاکھ روپے کے ۳۶؍ ڈرونز کا ذخیرہ ضبط کیا تھا۔ہندوستانی حکومت نے باضابطہ طور پر دوسرے ممالک سے ڈرون  در آمدگی پر پر پابندی کا حکم جاری کیا ہے۔ 
  خیال رہے کہ وزارت تجارت اور صنعت کی طرف سے گزشتہ دنوں جاری کردہ حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ڈرون کی درآمد پر پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔وزارت تجارت اور صنعت کے حکم نامے میں چند اداروں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہیں اس اپ ڈیٹ کے بعد بھی ڈرون درآمد کرنے کی اجازت ہے۔ اس فہرست میں وہ ڈرونز شامل ہیں جو خاص طور پر تحقیق و ترقی، دفاع اور سلامتی کے مقاصد کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔
 واضح رہے کہ ’میک ان انڈیا‘ مہم کو کامیاب بنانے کے ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ کہیں ان ڈرونز کا غلط استعمال  نہ ہوسکے،اسلئے سرکاری طورپر اس بات کی نگرانی رکھی جاتی ہے۔ 

JNPT PORT Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK