آن لائن پڑھائی کے سبب طلبہ ذہنی و جسمانی تکالیف میں مبتلا

Updated: June 30, 2020, 6:38 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

تکنیکی دشواریوں اور متواتر ۴؍گھنٹوںتک موبائل فون پر پڑھائی سے کچھ بچوںکی آنکھیں سرخ اور سوج گئی ہیں تو کچھ بچوںکو قے کی شکایت ہورہی ہے۔ کئی بچوںنے گردن، سر اور بد ن درد کی شکایت کی ہے ۔ان تکلیفوں کے پیش نظر کئی والدین نے آن لائن پڑھائی کا سلسلہ منقطع کردیا اور اس تعلق سے اسکول انتظامیہ کو بھی مطلع کردیا ہے

Online Education - PIC : INN
آن لائن تعلیم ۔ تصویر : آئی این این

 آن لائن پڑھائی میں تکنیکی دشواریوں اور کئی گھنٹوں تک موبائل فون  کے ساتھ مصروف رہنے سے متعدد طلبہ ذہنی  و جسمانی تکالیف سے دوچار ہیں۔ اسکرین پر متواتر دیکھتے رہنے سے کچھ بچوںکی آنکھیں سرخ اور سوج گئی ہیںتو کچھ بچوںکو قے کی شکایت ہورہی ہے۔ کئی بچے گردن، سراور بدن  درد کی شکایت کر رہے ہیں۔ بچوں کی ان تکلیفوں کےسبب کئی والدین نے آن لائن پڑھائی کا سلسلہ منقطع کردیاہے۔
 ملاڈ چارکوپ ناکہ پر واقع ویر بھگت سنگھ انگلش  اسکول کی چھٹی جماعت میں زیر تعلیم طالب علم نیل   سالوی کے والد سچن سالوی نےبتایاکہ ’’ صبح ۹؍بجے سے ایک بجے تک میرےبیٹے کی آن لائن کلاس رہتی ہے۔ ۱۵؍ جون سے آن لائن پڑھائی کا سلسلہ جاری ہے۔ متواتر ایک سےڈیڑھ گھنٹے تک موبائل فون کی اسکرین پر آنکھ گاڑے رہنے سے نیل کو تھکاوٹ اور بوجھل پن کا احساس ہوتاہے ،  اس کےبعد اسے قے محسوس ہوتی ہے ۔ قے ہونے کے بعد ہی اسے سکون ملتا ہے۔ا س کےعلاوہ وہ یہ شکایت بھی کرتا ہےکہ آن لائن پڑھائی میں اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہاہے۔بچے کی اس پریشانی کو دیکھ کر دل دکھتا ہے مگر اسکول والے کچھ نہیں سمجھ رہےہیں،  وہ آن لائن پڑھانے اورفیس وصولنے پر بضد ہیں۔ فیس لینے کے بعد بھی کسی طرح کی سہولت نہیں دے رہے ہیں۔‘‘
  اسی اسکول میں زیر تعلیم ملاڈ کے  محمد صمیان انصاری کے والدنے بتایاکہ ’’ صبح ۹؍بجے سےدوپہر ایک بجے تک متواتر موبائل فون پر آن لائن پڑھائی کرنے سے میرے بیٹے کی آنکھیں سرخ ہورہی ہیں   اور اس کی آنکھوںمیں جلن بھی ہورہی ہے۔آنکھیں اس قدر سرخ ہوگئی ہیںکہ خوف محسوس ہوتاہےکہ کہیں اس پڑھائی  سے اس کی آنکھوںکو نقصان نہ پہنچ جائے ۔میںنے سوچاہےکہ اس معاملہ کی اطلاع اسکول انتظامیہ کو دوں تاکہ اس کاکوئی حل نکل سکے ورنہ  میرے بچےکیلئے مشکل پیداہوسکتی ہے۔‘‘
 مجگائوں کے عمران ملاً کےمطابق ’’میرے ۲؍بچے ہیں ۔ ایک بیٹی اور ایک بیٹا۔ ۷؍سالہ منشاء روزری انگلش ہائی اسکول میں پہلی جماعت اور ۴؍سالہ بیٹا محمد ریحان ناگپاڑہ کے ایک اسکول میں جونیئر کے جی میں زیر تعلیم ہے۔ دونوںکی پڑھائی کا وقت ایک ہے جبکہ گھرمیں ایک ہی موبائل فون ہے  اس لئے  بڑی مشکل پیش آرہی ہے۔ موبائل فون پر متواتر نگاہ جمائے رہنے سے ان دونوںکو پریشانی تو  ہوہی  رہی ہے لیکن پڑھائی کیلئے ہم ان پر زیادہ دبائونہیں ڈالتےہیں ۔ پڑھائی کے بعد ان دونوں کو موبائل فون سے دوررکھنےکی کوشش کی جاتی ہے۔ آن لائن پڑھائی  سے سب سے بڑی پریشانی یہ ہورہی ہے کہ گھر کا کام بری طرح متاثرہورہاہے۔میری اہلیہ کا کافی وقت بچوں کے ساتھ گزرتاہے جس کی وجہ سے گھرکاکام نہیں ہوپاتا ہے ۔ ‘‘
 کرافورڈ مارکیٹ کی ایک خاتون نےبتایاکہ ’’میرے ۲؍بچے ہیں۔ دونوں ہی قلابہ کے ہالی نیم انگلش  ہائی اسکول میں پڑھتےہیں۔ میرے پاس ایک ہی موبائل فون کی گنجائش ہے جس کی وجہ سے میں ایک دن میں ایک ہی بچےکو پڑھاتی ہوں جبکہ دوسرے بچےکی کلاس چھوٹ جاتی ہے۔ کئی گھنٹوں تک موبائل فون پر پڑھنے سے میرے بچے گردن، سراور بدن  درد کی شکایت کرتےہیں۔‘‘ 
  اسی طرح کی شکایت بلابانگ انٹرنیشنل اسکول ملاڈ کی  نرسری کلاس کےبچے کے  والدین نے بھی کی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ نرسری کلاس کے بچے ڈھائی تین سال کے ہوتے ہیں ، انہیں آن لائن پڑھانےکا کیامطلب ؟ آن لائن پڑھانے سے ان میں چڑچڑاپن پیدا ہورہا ہے۔  ان کے سامنے موبائل فون یا لیپ ٹاپ وغیرہ رکھو تو وہ اسے پھینک دیتےہیں ۔ ان کے اس منفی رویہ  سے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بچوںکو آن لائن نہیں پڑھائیں گے ۔ اس تعلق سے ۱۰؍والدین نے ای میل کے ذریعے اسکول انتظامیہ کو مطلع کیاہے۔ ان کایہ بھی کہناہےکہ ریاستی حکومت نے دوسری جماعت تک کے بچوںکو آن لائن پڑھائی سے دور رکھنےکی ہدایت جاری کی ہے، اس کے باوجود نرسری کے بچوںکوآن لائن کیوں پڑھایاجارہاہے؟‘‘
 ایک  اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر مدھوسنگھ کےمطابق ’’ہمارے اسکول میں نرسری کے۱۲۵؍ بچے ہیں جن میں سے  ۱۰؍والدین نے اس ضمن میں شکایت کی ہے ۔ باقی سب مطمئن ہیں ۔رہی بات نرسری کے بچوںکو آن لائن پڑھانےکی  تو اس معاملہ میں ماہرین کے صلاح و مشورے کےبعد ہی  بچوںکو پڑھایا جارہا ہے اور ریاستی حکومت کی شرائط ہم پر نافذ نہیں ہوتی  ہے۔‘‘

lockdown Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK