ایسی حرکتوں سےقرآن کا احترام کم نہیں ہوگا

Updated: January 25, 2023, 10:19 AM IST | Washington

سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی پر عالم اسلام کے معروف ادارے جامعہ ازہر کا ردعمل ، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط اور مصر کی حکومت کی جانب سے شدید مذمت ۔امریکہ محتاط، مذمت سے گریز، اس عمل کو اشتعال انگیز بتا نے پر اکتفا

A scene from a demonstration in Turkey
تر کی میں  مظاہرے کا ایک منظر۔

 سویڈن میں  قرآن مجید کی بے حرمتی پر عالم اسلام کے معروف ادارے جامعہ ازہر نےکہا کہ ایسی حرکتوں سے قرآن   پاک کی عظمت اوراُس کا احترام کم نہیں  ہوگا۔  دریں اثنا ء عرب لیگ اور مصر نے سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں انتہا پسند سیاست داں کی جانب سے قرآن پاک کانسخہ نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کی ۔ا دھرقرآن مجید کی بے حرمتی کی امریکہ نے  مذمت نہیں کی  صرف محتاط ردعمل ظاہر کیا ۔
  میڈیارپورٹس کے مطابق  پیر کو عالم اسلام کے معروف ادارے اور مصر کی قدیم علمی درسگاہ  جامعہ  ازہرکی جانب سے کہا گیا ،’’قرآن انسانیت کیلئے ایک رہنما کتاب کےطور پر باقی رہے گا۔یہ مبارک کتاب بنی نوع انسان کو نیکی، سچائی اور  دیگر بہترین اقدار کی ترغیب دیتی ہے۔ ‘‘
 ازہر کی جانب سے مزید کہا گیا ،’’ جان بوجھ کر اور بار بار مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش انتہائی دائیں بازو کی شخصیات کے ساتھ ساتھ سویڈش حکام کی ساز باز کا نتیجہ ہے۔‘‘
 واضح  رہے کہ  سنیچر کو سویڈن میں دائیں بازو کے سیاست داں راسموس پالوڈن نے  اسٹاک ہوم میں ترک سفارت خانے کے سامنے مظاہرے کے دوران مقدس کتاب کا نسخہ نذر آتش کیا تھا جس سے دنیا بھر میں مظاہرے ہونے لگے  ۔ 
 ازہر نے  اپنے بیان میں یہ بھی بتایا،’’ کسی قسم کی وحشیانہ یا مجرمانہ حرکات سے مسلمانوں کے دلوں سے قرآن پاک کااحترام کم نہیں کیا جا سکتا۔  گمراہی کی جانب دھکیلنے اور جنونیت کو فروغ دینے والوں کی بیمار سوچ اور نفرت انگیز اقدامات مذہبی کشیدگی  کا سیاہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ان سب کے باوجود بھی قرآن پاک کی  عظمت کم نہیں ہو گی۔‘‘ ازہر نے اس واقعے کی فوری تفتیش کا  مطالبہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے کہا ،’’مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔قرآن پاک کی بے حرمتی  کی اجازت دینا مشرق اور مغرب کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان امن، بین المذاہب مکالمے اور روابط کو فروغ دینے کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔‘‘
  اسی دوران عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط اور مصر کی حکومت  نے بھی اس کی  سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ابوالغیط نے اپنے ٹویٹ میں کہا  ،’’ میں سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم  میں ایک انتہا پسند کی طرف سے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ سویڈن میں اس طرح کے انتہائی نفرت انگیز کاموں کی ہر کسی کی طرف سے مذمت کی جانی چاہئے۔‘‘
 ابوالغیط نے سویڈن کی وزارت خارجہ کے  ٹویٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ،’’ آزادی اظہار رائے کسی صورت میں انتہاپسندوں کیلئے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکانے کا بہانہ نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
  دوسری جانب مصر کی وزارت خارجہ کی جانب سے ا سٹاک ہوم کی شدید مذمت کے ساتھ ایک بیان میں اسے شرمناک فعل قرار دیا گیا ہے جس نے دنیا  بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا۔دریں اثناء مصر نے نفرت انگیز تقریر اور تشدد کو ہوا دینے کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ رواداری  اور باہمی  اتحاد کو برقرار رکھنے نیز تمام مذاہب کے خلاف جرائم کو روکنا انتہائی ضروری ہے۔
  ادھر امریکہ نے ترکی کے اسٹاک ہوم    سفارتخانے  کے سامنے قرآن ِ کریم  کا   نسخہ نذر آتش کئے جانے کی مذمت نہیں کی   لیکن اس واقعہ کو بے حرمتی اورنفرت  انگیز قرار دیا۔ 
 میڈیارپورٹس کے مطابق  امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان  نیڈ پرائس نے یومیہ پریس  کانفرس میں  سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترکی کے اسٹاک ہوم  سفارتخانے کے سامنے قرآ ن پاک کا نسخہ نذر آتش کئے جانے   کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا   تھا،’’ جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور جلسے کرنے  کی ہم  حمایت کرتے ہیں لیکن  جیسا کہ سویڈش وزیر اعظم نے بیان دیا  کہ  بڑی تعداد کیلئے مقدس کتاب کے نسخے کو جلانا ایک  غیر شائستہ  فعل  ہے۔‘‘   انہوں نے  یہ بھی بتایا ،’’ قانونی اعتبار سے درست ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ یہ  موزوں  بھی ہے۔‘‘۲۰۱۰ءمیں فلوریڈا میں ایک  پادری کی جانب سے  قرآن کریم کا نسخہ نذر  آتش کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کی یاد دہانی کراتے ہوئے  پرائس نے  کہا ،’’ بعض  اقدام  قانونی  کے ساتھ  بیہودہ بھی  ہو سکتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK