Inquilab Logo Happiest Places to Work

اردگان کا اسرائیل پر سخت حملہ، مغرب پر تنقید، ٹرمپ نے میکرون کو نشانہ بنایا

Updated: March 18, 2026, 6:07 PM IST | Ankara

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ پر عالمی لیڈروں کے بیانات میں شدت آ گئی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیلی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ خطے کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے فرانس کی جانب سے آبنائے ہرمز ٹاسک فورس میں شامل نہ ہونے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

Turkish President Tayyip Erdogan. Photo: INN
ترکی کے  صدر طیب اردگان۔ تصویر: آئی این این

(۱) اردگان کا بیان، اسرائیلی قیادت خطے کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیلی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے نیٹ ورک کے زیر اثر ہے جو خود کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور خطے کو بتدریج تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’یہ پالیسی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے خطرناک ہے اور اس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔‘‘ اردگان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر کا ایران جنگ کے خلاف استعفیٰ

(۲) ٹرمپ نے میکرون کو نشانہ بنایا، کہا وہ جلد عہدے سے ہٹ جائیں گے
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فرانس کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ٹاسک فورس میں شامل نہ ہونے کے فیصلے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ’’وہ جلد ہی عہدے سے ہٹ جائیں گے‘‘، جو ایک غیر معمولی سفارتی بیان سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب فرانس نے ہرمز میں امریکی قیادت میں بننے والے اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطینیوں سے ہمدردی، اسرائیل سے نفرت میں تیزی سے اضافہ: امریکی سروے

(۳) برطانیہ کے مشیر کا انکشاف، ایران جوہری معاہدہ قریب تھا
برطانیہ کے ایک مشیر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے اپنے اختتام کے بہت قریب تھا۔ انہوں نے کہا کہ’’ہم ایک ایسے مرحلے پر تھے جہاں معاہدہ ممکن تھا، لیکن جنگ نے اس عمل کو روک دیا۔‘‘ ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ ہو جاتا تو ممکن ہے کہ موجودہ کشیدگی کو روکا جا سکتا تھا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس انکشاف سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا جنگ کو سفارتی عمل کے بجائے ترجیح دی گئی۔ یہ بیان عالمی سطح پر جنگ کے جواز پر نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

(۴) اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر، امریکہ اور اسرائیل کا جواز قابل قبول نہیں
اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوینی نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کوئی جواز بین الاقوامی قانون کے تحت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کسی بھی صورت میں قبول نہیں کی جا سکتی۔‘‘ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال پر واضح موقف اختیار کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK