Updated: October 17, 2026, 10:15 AM IST
| New Delhi
ہندوستان میں ال نینو کے اثرات، مانسون کی کم بارش اور عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث گنے کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے تہواروں کے موسم میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عام صارفین، مٹھائی بنانے والوں اور غذائی اشیا تیار کرنے والی کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گنے کا کھیت۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان میں ایل نینو کے اثرات، مانسون کی کم بارش اور عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث گنے کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے تہواروں کے موسم میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عام صارفین، مٹھائی بنانے والوں اور غذائی اشیا تیار کرنے والی کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۶ء میں چینی کی خوردہ قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۸ء۱۸؍ فیصد بڑھ کر۲۱ء۵۵؍ روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’جیلر۲‘‘ کے خلاف مبینہ بدنیتی پرمبنی آن لائن جائزوں پر قانونی کارروائی کی تیاری
چینی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ گنے کی پیداوار سے متعلق خدشات ہیں۔ ایل نینو ایک موسمیاتی رجحان ہے جس کے دوران بحرالکاہل کے بعض حصوں میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے، جس سے دنیا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور درجۂ حرارت کے نظام میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہندوستان میں مہاراشٹر سمیت گنا پیدا کرنے والی اہم ریاستوں میں کم بارش اور خشک سالی جیسے حالات نے فصل کی پیداوار اور گنے میں شکر کی مقدار پر اثرات کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق پانی کی قلت سے چینی کی ملوں کے کام کاج پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
امریکی محکمۂ زراعت کی غیر ملکی زرعی خدمات کی جانب سے جاری کردہ اندازے کے مطابق، ہندوستان میں ۲۷۔۲۰۲۶ء کے چینی پیداوار کے موسم کے لیے پیداوار کا تخمینہ پہلے کے ۳؍ کروڑ ۳۶؍لاکھ میٹرک ٹن سے گھٹا کر۲؍ کروڑ ۹۵؍ لاکھ میٹرک ٹن کر دیا گیا ہے۔ گنے کی مجموعی پیداوار بھی گزشتہ موسم کے ۴۵؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ ٹن کے مقابلے میں ۴۳؍ کروڑ ۴۰؍ لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر یہ خدشات درست ثابت ہوئے تو چینی کی دستیابی اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ہندوستان میں نوراتری، درگا پوجا، دسہرہ اور دیوالی جیسے تہواروں کے دوران مٹھائیوں، ٹافیوں، میٹھے پکوانوں اور دیگر غذائی اشیا کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ چینی کے ساتھ خوردنی تیل، خشک میوہ جات اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بھی مٹھائی تیار کرنے والی کمپنیوں اور دکان داروں کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر ۲۰۲۶ءمیں تیار شدہ مٹھائیوں، ٹافیوں اور میٹھے پکوانوں کی مجموعی مہنگائی کی شرح بڑھ کر۸ء۱۳؍ فیصد ہوگئی، جو اگست میں۹ء۱۰؍ فیصد تھی۔ اس صورت حال سے تہواروں کی خریداری کا بجٹ متاثر ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے:الکاراز نے ’ایرسٹے بینک اوپن‘ میں شرکت کے لیے وائلڈ کارڈ قبول کرلیا
چینی کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے میں صرف کم پیداوار اور موسمیاتی تبدیلیاں ہی نہیں، بلکہ ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائیوں کو بھی اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے تہواروں کے دوران مناسب رسد برقرار رکھنے کے لیے چینی کی درآمدات کی اجازت دی ہے اور چینی کے تاجروں کے ذخیرے پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ یکم اکتوبر کو اعلان کردہ ضوابط کے مطابق، ۱۵؍اکتوبر سے ۳۰؍ نومبر ۲۰۲۶ء تک تاجروں کے لیے ذخیرہ رکھنے کی مدت ۱۵؍دن اور زیادہ سے زیادہ مقدار ایک ہزار کوئنٹل مقرر کی گئی ہے، جبکہ کولکاتا اور آسام کے لیے الگ حد رکھی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد غیر ضروری ذخیرہ اندوزی روکنا اور بازار میں چینی کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔
مجموعی طور پر، ایل نینو کے اثرات، کمزور مانسون، گنے کی پیداوار میں ممکنہ کمی اور تہواروں کے دوران بڑھتی ہوئی مانگ ہندوستان میں چینی کی قیمتوں کو بلند رکھ سکتی ہے۔ اگر آئندہ مہینوں میں بارشوں کی کمی برقرار رہی اور نئی فصل سے رسد توقع سے کم ہوئی تو مٹھائیوں اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم، نئی فصل کی آمد، درآمدی چینی کی دستیابی اور حکومت کے اقدامات قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔