• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ نے بیف ذخیرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے شخص کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا

Updated: November 04, 2026, 5:45 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ بیف ملزم کے گھر کے قریب ایک کھلے پلاٹ سے برآمد ہوا تھا۔ عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے اور ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔ اس نے ریاست کی جانب سے ملزم کے ماضی کے مقدمات پر انحصار کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ کیس کی میرٹ پر کوئی رائے نہیں دے رہی ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ سامول باقاعدہ ضمانت کے حقدار ہیں۔ اس وقت تک وہ تقریباً دس ماہ حراست میں گزار چکے تھے۔

Supreme Court. Photo: X
سپریم کورٹ۔ تصویر: ایکس

سپریم کورٹ نے گجرات کے ایک مسلمان شخص کو ضمانت دے دی ہے جسے ۲۳ کلو بیف حاصل کرنے اور فروخت کیلئے اسے ایک کھلے پلاٹ میں ذخیرہ کرکے رکھنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ عدالت نے مشاہد کیا کہ ملزم کے سابقہ فوجداری مقدمات کو موجودہ کیس میں بذاتِ خود جرم کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بینچ نے ۱۴ اکتوبر کو یہ حکم جاری کیا۔ بنچ محمد عارف عبد الرزاق سامول کی دائر کردہ اپیل کی سماعت کر رہی تھی جو ۳ جنوری ۲۰۲۶ء سے حراست میں تھے۔

سامول کے خلاف گجرات اینیمل پریزرویشن ایکٹ ۲۰۱۱ء کے مختلف حصوں، بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ ۳۲۵ اور گجرات پولیس ایکٹ کی دفعہ ۱۱۹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق، پولیس کو ان کے گھر کے قریب ایک کھلے پلاٹ سے ۲۳ کلو بیف ملا تھا۔ پولیس نے الزام لگایا تھا کہ یہ گوشت غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا تھا، سوئفٹ کار میں لایا گیا تھا اور پرچون فروخت کیلئے ذخیرہ کیا گیا تھا۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جب پولیس نے جائے وقوعہ پر چھاپہ مارا تو سامول فرار ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے: آر ایس ایف کی۲۰۲۶ء پریس کی آزادی مخالف فہرست میں اڈانی گرپ، اوپ انڈیا شامل

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وپولیس نے سامول کی ضمانت کی مخالفت کی۔ اس نے اسی نوعیت کے الزامات پر مشتمل ان کے خلاف پانچ سابقہ فوجداری مقدمات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اگر انہیں رہا کیا گیا تو وہ دوبارہ یہ جرم دہرا سکتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مقدمے کی سماعت اپنے آخری مرحلے میں ہے اور دو ماہ کے اندر ختم ہو سکتی ہے۔ سامول کے وکیل نے دلیل دی کہ یہ کیس زیادہ تر قرائنی شواہد اور مفروضوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سامول کو جائے وقوعہ سے گرفتار نہیں کیا گیا تھا اور یہ گوشت ایسے کھلے پلاٹ سے ملا تھا جہاں دیگر لوگ بھی آسانی سے جا سکتے تھے۔ دفاع نے مزید کہا کہ وہ پلاٹ سامول کی ملکیت نہیں تھا اور نہ ہی سوئفٹ کار ان کی ملکیت تھی۔

سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ بیف ملزم کے گھر کے قریب ایک کھلے پلاٹ سے برآمد ہوا تھا۔ عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے اور ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔ اس نے ریاست کی جانب سے ان کے ماضی کے مقدمات پر انحصار کو مسترد کر دیا۔ بنچ نے مشاہدہ کیا کہ ”محض اس لئے کہ اپیل کنندہ کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، موجودہ کیس میں اس کے جرم کا قطعی ثبوت نہیں ہو سکتا۔“ عدالت نے واضح کیا کہ وہ کیس کی میرٹ پر کوئی رائے نہیں دے رہی ہے۔ عدالت نے فیصلہ سنایا کہ سامول باقاعدہ ضمانت کے حقدار ہیں۔ اس وقت تک وہ تقریباً دس ماہ حراست میں گزار چکے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK