نیتن یاہو کو اپنی ہار تسلیم کرکے اقتدار سے ہٹ جانا چاہئے۔ اُن کی لیکوڈ پارٹی عوامی اعتماد کھو چکی ہے۔ اُسے صرف ۲۷؍ سیٹیں ملی ہیں۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 4:46 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
نیتن یاہو کو اپنی ہار تسلیم کرکے اقتدار سے ہٹ جانا چاہئے۔ اُن کی لیکوڈ پارٹی عوامی اعتماد کھو چکی ہے۔ اُسے صرف ۲۷؍ سیٹیں ملی ہیں۔
نیتن یاہو کو اپنی ہار تسلیم کرکے اقتدار سے ہٹ جانا چاہئے۔ اُن کی لیکوڈ پارٹی عوامی اعتماد کھو چکی ہے۔ اُسے صرف ۲۷؍ سیٹیں ملی ہیں۔ ۲۰۲۲ء کے الیکشن میں اس کے پاس ۳۲؍ سیٹیں تھیں جبکہ ۲۰۱۹ء میں ۳۵۔ اس کی طاقت بتدریج کم ہوئی ہے۔ اگر اسرائیل معلق (جھولتی ہوئی) ہے تو یاہو‘ ہَوَنَّق (احمق، بے وقوف) بنے ہوئے ہیں۔ حلیف پارٹیوں کے منتخب اراکین کو ملا کر ان کے پاس ۵۳؍ سیٹیں ہیں۔اقتدار کیلئے کسی بھی اتحاد کو ۶۱؍ سیٹیں درکار ہیں۔
اپوزیشن کا بھی یہی حال ہے۔ آئز نکوٹ جس پارٹی کے سربراہ ہیں اُسے ۲۱؍ نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔ اُن کی حلیف جماعتوں کے پاس ۲۷؍ سیٹیں ہیں۔ اس طرح اپوزیشن کا اتحاد بھی ناکافی سیٹوں (۴۸) پر رُکا ہوا ہے۔ حکومت کیسے بنے گی، کس کی بنے گی، یہ دو سوال ابھی کئی دن اسرائیلی اور عالمی سیاست میں موضوع بحث بنے رہیں گے۔ اسرائیل میں حکومت سازی کیلئے کافی وقت ملتا ہے۔ صدر جس پارٹی کو موزوں تر سمجھتے ہیں اُس کے سربراہ کو حکومت سازی کیلئے مدعو کرتے ہیں۔ اُسے مطلوبہ تعداد ۶۱؍ کے حصول کیلئے پہلے ۲۸؍ دن اور پھر مزید ۱۴؍ دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ اگر وہ تب تک بھی اراکین کی مطلوبہ تعداد کو اپنے ساتھ لینے اور حکومت قائم کرنے میں ناکام رہا تو پھر جو پارٹی دوئم نمبر پر ہے، اُسے مدعو کیا جاتا ہے اور اُسے بھی خاطرخواہ وقت دیا جاتا ہے تاکہ وہ مطلوبہ تعداد تک پہنچ جائے۔ اگر وہ بھی ناکام رہی تو صدر کی جانب سے ایک اور کوشش ہوتی ہے۔ وہ جس رُکن کو عددی اور سیاسی اعتبار سے مضبوط سمجھتا ہے اُسے موقع دیتا ہے۔ یہ بھی نہ ہوپائے تو نئے انتخابات کی بساط بچھائی جاتی ہے۔ ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۲ء کے درمیان پانچ مرتبہ ایسے مواقع آئے جب کسی کے پاس عددی قوت نہیں تھی لہٰذا اَز سر نو انتخابات کروائے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: سوال: کون راہل؟، جواب: رام لیلا والا، سمجھے؟
اس سے واضح ہے کہ اسرائیل سیاسی طور پر منتشر سماج ہے جو کسی ایک سیاسی جماعت کا دل کھول کر ساتھ نہیں دیتا۔ نیتن یاہو کو معلوم تھا کہ اُن کی پارٹی کا کیا حشر ہوگا اسی لئے وہ بہت عرصہ سے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے، غزہ کو تباہ کررہے تھے اور ایران کو برباد کرنے کے درپے تھے۔ اُن کی شکست اُن کی اپنی کارستانی کا نتیجہ تو ہے ہی، اس میں اہم کردار ایران کا بھی ہے جس نے جوابی حملوں سے تل ابیب کے دانت کھٹے کرکے نتین یاہو‘ کے عزائم کو چکنا چور کردیا۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ٹرمپ کی حمایت بھی یاہو‘ کے کام نہیں آئی۔ کیسے آسکتی تھی جبکہ وسط مدتی انتخابات میں وہ بھی ڈوب ہی رہے ہیں۔ ڈوبتا شخص گہرے پانی میں پھنسے ہوئے کو کیسے بچا سکتا ہے۔ نیتن یاہو کو اقتدار سے دور رکھنے میں ایران کے اس بالواسطہ کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جس نے شجاعت کی نئی تاریخ لکھی۔
حکومت سازی کیلئے ایک ڈیڑھ ماہ بھی لگ سکتا ہے اورعرب پارٹیوں سے حمایت لے لی جائے تو یہ مسئلہ چٹکی بجاتے حل بھی ہوسکتا ہے مگر دونوں ہی اتحاد اس کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اُن کی ناک جو کٹ جائیگی۔ وہ ناک بچانا چاہتے ہیں مگر دُنیا ہنس رہی ہے کہ ناک تو عرب پارٹیوں نے پہلے ہی کاٹ دی ہے۔