اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے ایک تاجر نے کہا کہ الیکشن میں حکمراں طبقے کاساتھ دینا ہماری مجبوری ہے ، بادل نخواستہ ایساکرنا پڑرہا ہے کیونکہ مخالفت کرنے پر مزیدمسائل میں الجھانے اورپریشان کئے جانے کا اندیشہ ہے
EPAPER
Updated: December 13, 2022, 11:13 AM IST | surat
اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے ایک تاجر نے کہا کہ الیکشن میں حکمراں طبقے کاساتھ دینا ہماری مجبوری ہے ، بادل نخواستہ ایساکرنا پڑرہا ہے کیونکہ مخالفت کرنے پر مزیدمسائل میں الجھانے اورپریشان کئے جانے کا اندیشہ ہے
یہاں کی اہم شناختکپڑا صنعت اور ہیروں کا کاروبارہے جوایک عرصے سے زبردست بحران کاشکار ہے۔ تاجروںنے بار بار حکومت کی توجہ مسائل کی جانب مبذول کروائی لیکن اس پرکوئی توجہ نہیںدی گئی جس کانتیجہ بحران میں اضافے کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔تاجر پریشان ہیں، صنعت تباہی کے دہانے پرہے، اس کے باوجود کچھ کہتے ہوئے خوف زدہ ہیں کہ کہیں ان کی لب کشائی ان کیلئے مصیبت نہ بن جائے ۔ اس حوالے سے تاجروں سے گفتگو کی گئی تو بیشتر نے کچھ کہنے سے انکار کیا البتہ چندتاجروں نے مسائل بیان کئے۔
اس الیکشن میںان صنعتوں کو پٹری پر لانے کیلئے اعلانات کی جھڑی تو لگائی گئی ہے لیکن دیکھنا ہوگاکہ نئی تشکیل پانے والی بھوپیندر پٹیل حکومت اس جانب کس قدر توجہ دیتی ہے یا پھر تاجروں کو آئندہ ۵؍سال بھی یو ںہی گزارنے ہوتے ہیں۔الیکشن کی ہماہمی کے دوران تو یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ ہیرے تراشنے والی فیکٹری کے مالکان کا جھکاؤ حکومت کی جانب تھاجبکہ ملازمین کا رُخ اس کے بالکل برعکس تھا۔
تاجروں کے مسائل اورحکومت سے ناراضگی
مہنگائی ،بےروزگاری ، بہترتعلیم اورصحت عامہ کا نظام، نالی گٹراورپانی جیسے مسائل تو ہیںہی ،کپڑے کی تجارت ہو یا ہیرے کا کاروباریا ہوٹل کا کاروبار ،جس نے سورت کوملک ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پرایک الگ پہچان دلوائی ہے ۔ ان صنعتوں کابرا حال ہے اورجی ایس ٹی نے تاجروں کی کمرتوڑ دی ہے۔ تاجروں کی حالت یہ ہےکہ اگران کوراحت دینے کیلئے کوئی الگ نظام نہیں بنایا گیا اورخصوصی رعایت نہیں دی گئی توشاید تاجر تنگ آکرکسی اور کاروبار کی جانب رخ کرنے پر مجبور ہوں ۔
ہم مجبور ہیں، کھل کر کچھ نہیں کہہ سکتے
جگدیش کوٹھاریکپڑے کے ایک بڑے تاجر ہیں، انہوں نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جی ایس ٹی کے سبب کپڑا بازارٹھپ ہوکررہ گیا ہے۔ ہم لوگوں نے پہلے بھی حکومت سے متعدد مرتبہ مطالبہ کیا تھا کہ کوئی سسٹم کپڑا تاجروں کیلئے ایسا بنایا جائے جس سے ان کو راحت ملے، مندی ختم ہو اوریہ صنعت ترقی کرے لیکن حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی۔‘‘انہوں نےکہاکہ’’الیکشن میں حکمراں طبقے کا ساتھ دینا ہماری مجبوری ہے ، بادل نخواستہ ایساکرنا پڑرہا ہے کیونکہ مخالفت کرنے پر مزیدمسائل میں ہمیں الجھانے اور پریشان کئے جانے کا اندیشہ ہے ۔‘‘
۱۶؍لاکھ مزدور ،۷۰؍ہزار تاجر ۴؍تا ۵؍لاکھ میٹر یومیہ کپڑا
انہوںنے سورت کپڑا صنعت پرروشنی ڈالتےہوئے بتایا کہ ’’یہاں۷۰ ؍ہزارکپڑا تاجر ہیں، تقریباً ۴؍لاکھ پاور لوم ہیں اور۴؍تا ۵؍ لاکھ میٹر کپڑایومیہ تیار کیا جاتا ہے ، ۱۵؍ سے ۱۶؍ لاکھ مزدور روزی روٹی کماتے ہیں اوریومیہ ۲؍ لاکھ تاجروں کی آمد و رفت ہوتی ہے ۔ اتنے بڑے پیمانے پرلوگوںکے کپڑا صنعت سے جڑے ہونے کے باوجود حکومت نے کوئی توجہ نہیںدی اورنہ ہی مسائل حل کئے۔ ‘‘ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیاکہ ’’اگرصورتحال یہی رہی تو تاجر پریشان ہوکر کسی اور کاروبار کی جانب رخ کرنے پر مجبور ہوںگے ۔‘‘
کپڑے کے ایک اوربڑےتاجرندیم (واگھ بکری والا) نے کہا کہ ’’نوٹ بندی کے وقت حکومت نے بے حساب رقم جمع کی ہے اس کے باوجودتاجروں کو کوئی راحت نہیںدی جا رہی ہے ۔دوسری جانب خوف کایہ عالم ہےکہ کوئی کچھ بھی بولنے کو تیار نہیںہے ،اسی کانتیجہ ہےکہ نئی نئی چیزیں تھوپی جا رہی ہیں ۔ ‘‘ انہوںنےمزید کہاکہ ’’یہ ضابطہ ہےکہ کسی بھی تجارت سے وابستہ افرادکے مسائل حل کرنے سے ہی اس صنعت کو ترقی ملتی ہے اور مزید مواقع میسر آتے ہیںلیکن یہاں صورتحا ل اس کےبرعکس ہے ۔جی ایس ٹی لگائے جانے سے ایک طرح سے تاجروں کا جینا محال ہوگیا ہے لیکن خوف کا نتیجہ ہے کہ سب کےلب پرتالے ہیں اورسبھی گھٹ گھٹ کرحالات سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘
جی ایس ٹی سے کریمنلائزیشن ختم کرنے کا پرزور مطالبہ
۱۷؍دسمبر کوجی ایس ٹی کونسل کی ملکی سطح پر میٹنگ بلائی گئی ہے ۔ اس میں تاجر اپنے مطالبات پیش کریںگے اور خاص طور پرجی ایس ٹی سے کریمنلائزیشن ختم کرنے کی سفارش کریں گے ۔جی ایس ٹی میںآئی پی سی کو شامل کئے جانے سے جی ایس ٹی افسران کو پکڑدھکڑکا بھی اختیارحاصل ہوگیا ہے۔ یہ تاجروں کیلئےبڑی پریشانی کا سبب ہے۔ چنانچہ وہ میٹنگ میں اس کوختم کرنے کا پرزور مطالبہ کریںگے۔
ہوٹل مالکان بھی جی ایس ٹی سے پریشان
ہوٹل میں نگرانی کی ذمہ داری اداکرنے والے ایک سپروائزر مولانا محمد احمد سے بات چیت کرنے پر انہوںنے کہا کہ’’جی ایس ٹی سے ہوٹل کاروبار پرکافی اثر پڑا ہے۔ صورتحال یہ ہےکہ حکومت کوکچھ سننے کوتیار نہیں ہے۔ پہلے ایک ہزارروپے کے اوپر ۱۲؍فیصد جی ایس ٹی لگتا تھا، اب اس سے کم پربھی ۱۲؍فیصدجی ایس ٹی لگادیا ہے جس سے گاہکوں پربوجھ پڑتاہے کیونکہ ہوٹل مالک توگاہکوں سے ہی جی ایس ٹی کی رقم وصول کرتا ہے ،اسلئے ہوٹل کا کاروبار بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔حکومت کی جانب سے کوئی ایسی امید یا وعدہ بھی نہیںکیا گیاہے جس سے کچھ راحت ملنے کی توقع ہو۔اس لئے ہوٹل کا کاروبار کرنے والے بھی حکومت سے ناراض ہیں۔‘‘ سپروائزر کےمطابق ’’پہلے کووڈ نے کمر توڑی تھی اب رہی سہی کسر جی ایس ٹی نے پوری کردی ہے ۔‘‘
اسی طرح ریئل اسٹیٹ سے وابستہ لوگ بھی پریشان ہیں۔خاص طور پر ’ریرا‘ قانون اور حکومت کی ناقص پالیسی کے سبب اس کاروبارکو بھی ایک طرح سے بریک لگ گیا ہے اوربڑے بڑے پروجیکٹ التوا ء کا شکار ہیں۔اس کاروبار سے وابستہ شاہد شیخ (احمدآباد) نے بتایاکہ’’بیشتربڑے پروجیکٹ اسلئے التواء کا شکار ہیں کیونکہ بینک سے قرض آسانی سے نہیں مل رہا ہے اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے بھی یہ کاروبار متاثر ہوا ہے۔‘‘
دنیش نوادیا (سابق چیئرمین چیمبرآف کامرس)نے کہا کہ ’’ دیگر باتوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس وقت ڈیمانڈ اورمال تیار ہونے میںکافی فرق ہے۔ ان کے مطابق اس وقت صورتحا ل یہ ہے کہ اگرایک لاکھ میٹر کپڑے کا ڈیمانڈ ہے تو ۴؍ لاکھ میٹر تیار کیا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جن صنعت کاروں نے ایکسپورٹ کوالیٹی پرتوجہ دی ہے ، ان کیلئے اس قسم کے مسائل نہیں ہیں۔‘‘دنیش نوادیا نے حکومت کی ہم نوائی کرتے ہوئے کہا کہ ’’مواقع خود تاجروں کو ہی تلاش کرنے ہوں گے۔‘‘