بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (بی ٹی ایم اے) نے یکم فروری سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال اور ملیں بند کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔
سورت میں واقع کپڑوں کی ایک دکان کی تصویر۔ تصویر: آئی این این
گجرات کے شہر سورت کے کپڑا تاجروں کے لیے موجودہ بین الاقوامی حالات ایک آفت میں موقع بن کر سامنے آئے ہیں اور وہ بڑے کاروبار کی امید کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی کپڑا ملوں کی اعلیٰ تنظیم، بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (بی ٹی ایم اے) نے یکم فروری سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال اور ملیں بند کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔
اس بحران کی بنیادی وجہ ہندوستان سے بڑی مقدار میں سستے اور ڈیوٹی فری دھاگے (یارن) کی درآمد بتائی جا رہی ہے، جس سے بنگلہ دیش کی مقامی ٹیکسٹائل صنعت شدید متاثر ہوئی ہے۔ ہندوستانی یارن کی کم قیمت اور بہتر معیار کی وجہ سے بنگلہ دیشی ملیں مقابلہ نہیں کر پا رہی ہیں اور کئی یونٹس بینک قرض ادا کرنے سے بھی قاصر ہو گئی ہیں۔ ایسے حالات میں سورت کے کپڑا تاجروں کو نئے تجارتی مواقع نظر آ رہے ہیں۔
سورت ٹیکسٹائل اینڈ ٹریڈ فیڈریشن ایسوسی ایشن کے صدر کیلاش حاکم نے کہا کہ بنگلہ دیش میں سیاسی افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان یہ حالت ہندوستانی صنعت، خاص طور پر سورت کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان گارمنٹنگ اور برآمدات کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا اور یہ معاملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستانی دھاگہ اعلیٰ معیار کا ہے۔ بنگلہ دیش میں مقامی مینوفیکچرنگ محدود تھی اور وہاں ہندوستانی کپڑے پر ہی گارمنٹنگ کی جاتی تھی۔ اب آنے والا وقت ہندوستان کا ہے اور حکومت اور صنعت کار مل کر اسکل ڈیولپمنٹ پر کام کر رہے ہیں۔