طالبان کا اپنے جنگجوئوں کوغیر ملکیوں کو پناہ نہ دینے کا حکم

Updated: February 26, 2021, 11:58 AM IST | Agency | Washington

افغان طالبان نے اپنے جنگجوؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں غیر ملکیوں کو پناہ نہ دیں اور اس تاثر کو زائل کریں کہ امریکہ سے گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

Taliban - Pic : INN
طالبان ۔ تصویر : آئی این این

افغان طالبان نے اپنے جنگجوؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں غیر ملکیوں کو پناہ نہ دیں اور اس تاثر کو زائل کریں کہ امریکہ سے گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔طالبان کے ملٹری کمیشن نے جنگجوؤں کو ارسال کردہ مبینہ پیغام میں ہدایت  دی ہے کہ `تمام کمانڈر اور مجاہدین غیر ملکیوں کو تنظیم میں کسی بھی قسم کا عہدہ دینے یا اُنہیں پناہ دینے سے اجتناب کریں۔‘‘طالبان کا  پشتو زبان میں جاری کر دہ یہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ حکم نامہ کی خلاف ورزی کرنے والے کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایسے شخص کو تنظیم سے الگ بھی کیا جا سکتا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حکمنامے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے ،  ان کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ ذمہ داران سے معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی جواب دے سکتے ہیں۔
  یاد رہے کہ طالبان پر اب بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ تعلقات منقطع نہیں کئے ہیں۔ساتھ ہی افغان حکومت مسلسل الزام لگا رہی ہے کہ  دوحہ میں جاری بین الافغان مذاکرات کے باوجود طالبان سیکوریٹی فورس اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔افغانستان کے سابق سفارت کار عمر صمد نے بدھ کو اپنے ایک ٹویٹ میں طالبان کے اس حکم نامے کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ طالبان ہوشیاری کے ساتھ ایسے موقع پر نئے اقدامات کر رہے ہیں جب امریکی حکومت امن معاہدے پر نظر ثانی کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام فریقین کیلئے ضروری ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ فیصلے اور اقدامات کریں کیونکہ بہت سی چیزیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔طالبان پر گہری نظر رکھنے والے اقوامِ متحدہ کے ایک پینل نے رواں ماہ شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ باغیوں نے اپنے وعدے کے خلاف القاعدہ کے ساتھ رابطوں کو برقرار رکھا۔ اس رپورٹ میں مختلف ملکوں کی انٹیلی جنس سروسز کی معلومات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK