قندھار پر پاکستان کی بمباری کے بعد افغانستان نے کوہاٹ میں ڈرون حملہ کیا، دونوں جانب سے الزام تراشیاں ۔
EPAPER
Updated: March 14, 2026, 9:32 AM IST | Islamabad
قندھار پر پاکستان کی بمباری کے بعد افغانستان نے کوہاٹ میں ڈرون حملہ کیا، دونوں جانب سے الزام تراشیاں ۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک دوسرے پر حملہ کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ ۱۲؍ اور ۱۳؍ مارچ کی درمیانی شب اس نے افغانستان میں مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ’ایکس‘ پردعویٰ کیا کہ گزشتہ رات کی گئی کارروائیوں میں دارالحکومت کابل، پکتیا اور قندھار میں شدت پسندوں اور اُن کے معاون ڈھانچے اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اپنے اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جاری کردہ ویڈیو واضح طور پر دکھاتی ہے کہ پاکستان نے صرف انھی تنصیبات کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جو براہِ راست یا بالواسطہ افغانستان کے اندر سے دہشت گردی اور دہشت گرد کیمپوں کی حمایت کرتے ہیں۔ کسی بھی شہری آبادی یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا جیسا کہ افغان حکومت کے حکام اور میڈیا کی جانب سے غلط طور پر پروپیگنڈہ کیا گیا ہے۔ ‘
یہ بھی پڑھئے: ایران کی قیادت پر قیاس آرائیاں، سپریم لیڈر سے متعلق متضاد بیانات
اس سے قبل افغانستان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی طیاروں کی گزشتہ رات کی گئی بمباری کے دوران ’عام شہریوں کے گھر بھی نشانہ بنے جس میں چند خواتین اور بچے ہلاک ہوئے۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’پاکستانی طیاروں نے قندھار کے ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک نجی ایئرلائن کام ایئر کے ایندھن اسٹوریج کو بھی نشانہ بنایا۔ ‘ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ایک ’تاجر حاجی خان زادہ کے نجی فیول ڈیپو کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ‘جمعہ ہی کی صبح افغان طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ میں فوجی چھاؤنی کو ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔ وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ کوہاٹ چھاؤنی پر ڈرون حملہ گذشتہ رات کی گئی پاکستانی بمباری کے جواب میں کیا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق جمعہ کی صبح کوہاٹ میں یکے بعد دیگرے تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ مقامی حکام نے ان واقعات میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کے درمیان جاری تنازع اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔