Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں ۵۶؍ افغان شہریوں کی موت

Updated: March 07, 2026, 9:37 AM IST | New York

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے مطابق اس میں ۲۴؍ بچے بھی شامل۔ تنازع ختم کرنے کی اپیل کی۔

A house in Pakistan`s Khyber Pakhtunkhwa province was damaged in an Afghan attack. Photo: PTI
افغانستان کے حملے میں پاکستان کے خیبرپختونخوا کے علاقہ میں گھر کو نقصان پہنچا۔تصویر: پی ٹی آئی

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں گزشتہ ہفتے سے اب تک۵۶؍ افغان شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ۲۴؍ بچے بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد نے اب تک شہریوں کی اموات کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے فوجیوں نے۴۳۰؍ سے زیادہ افغان سیکوریٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔ 
دوسری طرف افغانستان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فوج کے تقریباً ۱۵۰؍اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں جانب سے بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے۔ 
فولکر ترک نے ایک بیان میں کہا کہ امسال کے آغاز سے اب تک افغانستان میں شہریوں کی اموات کی تعداد ۶۹؍ہو چکی ہے جبکہ۱۴۱؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ فولکر ترک نے پاکستان کی فوج اور افغانستان کی سیکوریٹی فورسیز سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں اور ان لاکھوں لوگوں کی مدد کو ترجیح دیں جو انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں اور جن کی زندگیاں طویل عرصے سے تشدد اور بدحالی سے متاثر رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: محکمہ انصاف نے ایپسٹین دستاویزات جاری کیں، ٹرمپ کے خلاف جنسی زیادتی کے الزام

۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ نے افغانستان میں ۸۷؍ شہریوں کی ہلاکت اور۵۱۸؍افراد کے زخمی ہونے کی ذمہ داری پاکستانی فوجی دستوں پر عائد کی تھی۔ ترک نے کہاکہ ’’سرحد کے دونوں طرف شہری اب فضائی حملوں، بھاری توپ خانے کی گولہ باری، مارٹر شیلنگ اور فائرنگ سے بچنے کیلئے نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں تمام فریقین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس تنازع کو ختم کریں اور شدید مشکلات کا سامنا کرنے والے لوگوں کی مدد کو ترجیح دیں۔‘‘
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ سرحد پر جھڑپوں کے باعث تقریباً ۶۶؍ ہزار افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کے باعث پاکستان سے واپس آنے والے افغان باشندوں کیلئے انسانی امداد بھی رک گئی ہے اور ہنگامی غذائی امداد بھی معطل ہو گئی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اس امداد کے رکنے سے تقریباً ایک لاکھ۶۰؍ ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ افغانستان پہلے ہی بھوک کے سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ 
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق تقریباً ۲؍کروڑ۲۰؍ لاکھ افراد جو افغانستان کی آبادی کا تقریباً نصف ہیں، انسانی امداد کے محتاج ہیں جن میں ایک کروڑ۱۶؍ لاکھ سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK