غیر تعلیمی کاموں کےساتھ اب اساتذہ کو اسکول کیمپس میں آوارہ جانوروںپرنظر رکھنے کی ڈیوٹی دی گئی ہے، تعلیمی یونینوں نے اسے معلموں کی توہین قرار دیا
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 10:16 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
غیر تعلیمی کاموں کےساتھ اب اساتذہ کو اسکول کیمپس میں آوارہ جانوروںپرنظر رکھنے کی ڈیوٹی دی گئی ہے، تعلیمی یونینوں نے اسے معلموں کی توہین قرار دیا
ریاستی محکمہ تعلیم نےاساتذہ کو غیر تعلیمی کاموں کی ذمہ داریوںکے ساتھ اب اسکول احاطہ میں کتوں اور دیگر آوارہ جانوروں کی نگرانی پر بھی مامورکرنےکا فرمان جاری کیا ہے ۔ ۳۰؍ دسمبر کواس تعلق سے ایک سرکیولر جاری ہواہے جس کے تحت اس کام کیلئے اسکول کے ایک ٹیچرکو نوڈل آفیسر کے طورپر منتخب کرنےکی تجویزدی گئی ہے۔ اس ضمن میں اساتذہ میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔شہر کے ایک ایجوکیشن آفیسر نے اپنے حلقہ کے اسکولوںکو اس کام کو آگے بڑھانے کی ہدایت بھی دےدی ہے جس پر اساتذہ اور تعلیمی یونینوںمیں شدیدبےچینی پائی جارہی ہے۔
واضح رہےکہ اساتذہپہلے ہی تدریسی فرائض اور الیکشن سے متعلق کام کے بوجھ سے دبے ہوئےہیں۔ ایسےمیں اساتذہ کو آوارہ کتوں کو اسکول کے احاطے سے باہر رکھنےاور اس کی نگرانی کرنےکی ذمہ داری دے دی گئی ہےجس کےخلاف اساتذہ کی تنظیموں نے شدید احتجاج کرنےکااعلان کیاہے۔
مذکورہ سرکیولرمیں اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کیمپس میں آوارہ کتوں کے داخلے کی نگرانی اور روک تھام کیلئے اساتذہ کو نوڈل آفیسر کے طور پر مقرر کریں۔ سرکیولر کی بنیادپر ممبئی ایک ڈویژن کے اسکولوںکے پرنسپل کو اس بارےمیں تیاری کرنےکی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے۔اس حکم نامے کے تحت، ضلع پریشدوں، میونسپل کارپوریشنوں اور نگر پنچایتوں کے تحت ہر سرکاری، امداد یافتہ، جزوی طور پر امداد یافتہ اور سیلف فائنانسڈ اسکول کو اس ذمہ داری کیلئے ایک استاد کو نامزد کرنا ہوگا۔
عہدیداروں کے مطابق یہ اقدام آوارہ جانوروں اور انسانوں کے تصادم کے واقعات کی وجہ سے ہونے والی پریشانی پر سپریم کورٹ کے سامنے ایک از خود نوٹس کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل، دسمبر ۲۰۲۵ءکے وسط میں، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے اسی طرح کا حکم جاری کیا تھا جس میں تعلیمی اداروں سے کہا گیا تھا کہ وہ کیمپس میں آوارہ کتوں پر نظر رکھنے کیلئے ایک نوڈل افسر مقرر کریں۔ دہلی کے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ تقابلی ہدایت کے بعد اس ہدایت کو واپس لے لیا گیا۔مہاراشٹر پروگریسو ٹیچرز اسوسی ایشن نے اس معاملہ کی سخت الفاظ میں سرزنش کی ہے اورکہاہےکہ آوارہ جانوروں پر قابو پانا، صفائی رکھنا اور کیمپس کی حفاظت کو یقینی بنانا میونسپل کارپوریشنوںاور مقامی حکام کے دائرہ اختیار میں آتا ہےلیکن محکمہ تعلیم اس کی ذمہ داری بھی اساتذہ پر ڈال رہا ہے جوغیر مناسب ہے۔
اس سلسلےمیںاسوسی ایشن کے صدر تانا جی کامبلے نے کہاکہ ’’اساتذہ کا فرض تعلیمی نظام کو چلانا ہے، انتظامیہ کی نا اہلی کو چھپانا نہیں۔ یہ حکم اساتذہ کے وقار کی توہین کرنےوالا ہے۔ غیر تعلیمی کام کو جواز پیش کرنے کیلئے سپریم کورٹ کی ہدایات کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔‘‘
ریاستی پرنسپلز اسوسی ایشن کے سابق نائب صدر مہیندر گنپولے نے کہاکہ ’’غیر تدریسی کاموں کیلئے بار بار اساتذہ کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے؟ آوارہ کتوں کو بھگانا یا ان پر قابو پانا مقامی خود مختار اداروں کی ذمہ داری ہے لیکن چونکہ اساتذہ کیلئے بولنے والا کوئی نہیں ہے، اس لئے تمام غیر تعلیمی کام ان پر ڈال دیا جاتا ہے۔‘‘
مہانگرپالیکاشکشک سبھاکےجوائنٹ سیکریٹری عابد شیخ نےکہاکہ ’’ ابھی بی ایم سی محکمہ تعلیم نے اس تعلق سےباقاعدہ ہدایت جاری نہیں کی ہے۔ یہ ضرور ہے ایڈمنسٹریٹیوافسران نے سبھی ہیڈماسٹروںکو ایک وہاٹس ایپ پیغام ارسال کیاہے جس میں اس تعلق سے اساتذہ اورطلبہ کو ضروری ہدایتیں دی گئی ہیں اور ان سے کہاگیا ہےکہ وہ اسکول کیمپس میں آوارہ کتوں اور جانوروں سے ہوشیاررہیں۔ ‘‘
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کےجنرل سیکریٹری ساجد نثار نےانقلاب کو بتایاکہ ’’اب اساتذہ کویہی ذمہ داری دینی باقی رہ گئی تھی۔ سمجھ میں نہیں آتاہےکہ محکمہ تعلیم اساتذہ سے کیاکیاکام کرواناچاہتاہے؟کیا آوارہ جانوروںکی نگرانی اساتذہ کی ذمہ داری ہے؟ اگر ایک ٹیچر یہی سب کرےگاتو طلبہ کو پڑھائے گا،کب اور کیسے؟ محکمہ تعلیم کے فیصلوںاور ہدایات پرافسوس ہوتاہے۔‘‘