Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیکنالوجی کی دنیا: اے آئی سے تیار کردہ مواد پر جلد ’غیر مرئی واٹرمارک‘ نظر آ سکتے ہیں

Updated: August 17, 2026, 4:57 PM IST | New Delhi

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اب صرف سوالات کے جواب دینے یا معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہی۔ آج اے آئی کی مدد سے خبریں، مارکیٹنگ کا مواد، تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو اتنے حقیقت سے قریب تیار کیے جاسکتے ہیں کہ عام صارف کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ مواد انسان نے بنایا ہے یا مشین نے۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے اب غیر مرئی واٹرمارک یا Invisible Watermarks کی ٹیکنالوجی پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

Invisible Watermark.Photo:INN
غیرمرئی واٹرمارک۔ تصویر:آئی این این

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی  اب صرف سوالات کے جواب دینے یا معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہی۔ آج اے آئی  کی مدد سے خبریں، مارکیٹنگ کا مواد، تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو اتنے حقیقت سے قریب تیار کیے جاسکتے ہیں کہ عام صارف کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ مواد انسان نے بنایا ہے یا مشین نے۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے اب  غیر مرئی واٹرمارک یا Invisible Watermarks  کی ٹیکنالوجی پر توجہ بڑھ رہی ہے۔
یہ ایسے پوشیدہ نشانات ہوں گے جو کسی تصویر، ویڈیو، آڈیو یا تحریر کے اندر اس طرح شامل کیے جاسکتے ہیں کہ عام صارف کو ان کا کوئی فرق محسوس نہ ہو، لیکن خصوصی سافٹ ویئر انہیں شناخت کرکے بتا سکے کہ مواد تیار کرنے میں اے آئی کا استعمال ہوا ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ ایک طرح کا  ڈجیٹل خفیہ سگنل  ہوگا۔مثلاً اگر اے آئی  سے ایک تصویر بنائی گئی ہے تو تصویر دیکھنے والے کو وہ بالکل عام تصویر نظر آئے گی۔ اس میں کوئی بڑا ’’AI Generated‘‘ لیبل ضروری نہیں ہوگا۔ لیکن کسی مخصوص ٹول یا سافٹ ویئر کے ذریعے تصویر کو چیک کرنے پر معلوم کیا جاسکے گا کہ اس میں اے آئی  سے متعلق شناختی نشان موجود ہے۔
  اس ٹیکنالوجی کی ضرورت اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ  اے آئی  نے غلط معلومات اور جعلی میڈیا  تیار کرنا آسان بنا دیا ہے۔مثال کے طور پر اے آئی  ایسی تصویر بنا سکتا ہے جس میں کوئی ایسا واقعہ دکھائی دے جو حقیقت میں کبھی ہوا ہی نہ ہو۔ اسی طرح کسی معروف شخص کی ایسی آواز تیار کی جاسکتی ہے جس میں وہ ایسی بات کہتا ہوا سنائی دے جو اس نے حقیقت میں کبھی نہیں کہی۔ اسی طرح  ڈیپ فیک ویڈیوز میں کسی شخص کے چہرے یا آواز کو اس انداز میں تبدیل کیا جاسکتا ہے کہ ویڈیو حقیقی محسوس ہو۔

یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو کا ریٹائرمنٹ کا اشارہ،۲۷۔۲۰۲۶ء سیزن ممکنہ طور پر آخری سال

غیر مرئی واٹرمارک پلیٹ فارمز، صحافیوں، محققین اور دیگر اداروں کو یہ جاننے میں اضافی مدد دے سکتے ہیں کہ کوئی ڈجیٹل مواداے آئی  کے ذریعے تیار کیا گیا تھا یا نہیں۔ روایتی واٹرمارک عموماً تصویر یا ویڈیو پر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی تصویر پر کمپنی کا لوگو یا ’’AI Generated‘‘ لکھا ہوسکتا ہے۔   اسے مواد کے اندر اس طرح شامل کیا جاتا ہے کہ’’ تصویر عام نظر آئے، ویڈیو عام چلے اور آواز قدرتی سنائی دے، لیکن خصوصی سافٹ ویئر اندر موجود شناختی سگنل کو پڑھ سکے۔‘‘اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اے آئی  سے تیار کردہ مواد پر بار بار بڑے اور نمایاں لیبل لگانے کی ضرورت کم ہوجائے۔  مختلف نظاموں میں غیر مرئی شناختی نشان مختلف مرحلوں پر شامل کیا جاسکتا ہے۔
کچھ ٹیکنالوجیز میں یہ نشان اے آئی  کے ذریعے مواد تیار کرتے وقت ہی  شامل کیا جاسکتا ہے۔ دوسری صورت میں اسے ایڈیٹنگ، پبلشنگ یا کسی پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرتے وقت شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح مواد کے ساتھ اس کی اصل یا تخلیق کے طریقے سے متعلق معلومات بھی سفر کرسکتی ہیں۔ اسی لیے مستقبل کے شناختی نظام میں یہ بتانے کی کوشش ہوسکتی ہے کہ مواد میں اے آئی  کا کردار کتنا تھا  مثلاً مکمل طور پر اے آئی  سے تیار، اے آئی کی مدد سے تیار یا صرف معمولی  اے آئی  ترمیم کے ساتھ تیار کیا گیا۔  اگر مستقبل میں ہر AI-generated تصویر، ویڈیو یا تحریر کے اندر Invisible Watermark موجود ہونے لگے تو یہ سوال بھی اٹھے گا کہ اس میں  کون سی معلومات محفوظ کی جارہی ہیں اور کون انہیں پڑھ سکتا ہے؟ 

یہ بھی پڑھئے:’’آوارہ پن ۲‘‘ نے تاریخ رقم کردی، صرف ۳؍ دن میں عمران ہاشمی کی سب سے بڑی سولو ہٹ

صارف یہ جاننا چاہیں گے کہ کیا واٹرمارک صرف یہ بتاتا ہے کہ مواد اے آئی  سے بنایا گیا ہے یا اس میں تخلیق کار، پلیٹ فارم، وقت یا دیگر معلومات بھی شامل ہوسکتی ہیں۔لہٰذا اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کے لیے  شفافیت اور پرائیویسی  بھی اتنی ہی اہم ہوں گی جتنی کہ شناخت کی درستگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK