Updated: August 17, 2026, 6:00 PM IST
| New Delhi
وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کئے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ ’دماغی نکسل پارٹی‘ تیزی سے مقبول ہوگئی۔ محض ایک دن میں لاکھوں فالوورز بنانے والے اس اکاؤنٹ نے سیاسی طنز، اختلافِ رائے اور مودی کے بیان پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی یومِ آزادی کی تقریر میں ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کئے جانے کے ایک روز بعد ’دماغی نکسل پارٹی‘ نامی ایک طنزیہ انسٹاگرام اکاؤنٹ سامنے آیا اور راتوں رات تیزی سے مقبول ہوتے ہوئے اس کے فالوورز کی تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ پیر کی دوپہر تک اس انسٹاگرام پیج کے فالوورز کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو چکی تھی، جبکہ اسی سے ملتے جلتے ناموں کے کئی اکاؤنٹس بھی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سامنے آگئے۔ اس اکاؤنٹ نے خود کو ایک آن لائن طنزیہ تحریک کے طور پر پیش کیا، جو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔
اپنی ابتدائی پوسٹس میں سے ایک میں اکاؤنٹ نے رکنیت کے معیار کی فہرست جاری کی، جس میں سب سے اوپر یہ شرط رکھی گئی کہ ’آپ ہماری پارٹی میں صرف اسی صورت شامل ہو سکتے ہیں جب آپ اپنے ہی لیڈروں سے اختلاف کر سکیں۔ ‘
پیر کو یہ پیج کچھ دیر کیلئے ناقابلِ رسائی ہوگیا، جس کے بعد اس کے منتظمین نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ اسے ’سائبر حملوں ‘ کا سامنا ہے۔ بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس اکاؤنٹ کی پوسٹس دوبارہ شیئر کیں اور اسے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں بھی شامل کیا، جبکہ لوگوں سے اپیل کی گئی کہ ’اسے ہٹائے جانے سے پہلے فالو کرلیں۔ ‘ یہ بات زیادہ معلوم نہیں کہ اس اکاؤنٹ کو کون چلا رہا ہے۔ انسٹاگرام بائیو میں بانی کے طور پر ’ایک دماغی بھارتی‘ لکھا گیا ہے۔ گروپ کا نعرہ ہے: ’ہم سوچتے ہیں۔ ہم تحقیق کرتے ہیں۔ ہم مزاحمت کرتے ہیں۔ ‘
گروپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر موجود پوسٹس کے مطابق، یہ بھگت سنگھ کے نظریات کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایک پوسٹ کے کیپشن میں گروپ نے لکھا، ’ہم بھگت سنگھ کے پیروکار ہیں، اگر وہ ہمارے اکاؤنٹس معطل کرنے یا ہمیں غدارِ وطن قرار دینے کی کوشش کریں تو بس اتنا سمجھ لیجئےکہ وہ بھگت سنگھ کی توہین کر رہے ہیں۔ ‘گروپ نے متعدد پوسٹس کے ذریعے مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے تبصرے کا موازنہ جارج آرویل کے ناول ۱۹۸۴ء‘ میں مقبول کئے گئے ’خیالی جرائم‘ کے تصور سے کیا۔ اکاؤنٹ نے ایک کیپشن میں ’دماغی نکسل‘ کی تعریف ’ایسا ذہن جو جابرانہ نظاموں کے منظم طریقۂ کار کو شناخت کر سکے‘ کے طور پر پیش کی اور اسے خود’۱۹۸۴ء‘ سے ماخوذ قرار دیا۔
مودی کے بیان پر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا
مودی کے یومِ آزادی کے خطاب نے ان کے استعمال کردہ ’دماغی نکسل ازم‘ کے تصور پر سوشل میڈیا میں جاری بحث کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔ لال قلعے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے مسلح ماؤ نواز شورش کو بڑی حد تک کچل دیا ہے اور ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرلیا ہے جو کبھی نکسل تشدد سے متاثر تھے۔ مودی نے دلیل دی کہ خطرہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنی شکل بدل لی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماؤ نواز نظریے سے متاثر افراد طویل عرصے تک بااثر عہدوں پر فائز رہے، جن میں حکومتی کمیٹیوں میں ذمہ داریاں بھی شامل ہیں، اور انہوں نے نظام کے اندر رہ کر پالیسی سازی کو متاثر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا، ’برسوں تک ماؤ نواز ذہنیت رکھنے والے لوگ ملک کے اقتدار کے ایوانوں میں اہم مقامات پر قابض رہے۔ حتیٰ کہ حکومتی کمیٹیوں میں مشیر کی حیثیت سے بھی اس ماؤ نواز ذہنیت نے پالیسیوں کو متاثر کیا۔ ‘
کانگریس لیڈر چدمبرم کا وزیر اعظم مودی کو جواب
اس بیان پر ۴۸؍گھنٹوں تک تنازع جاری رہا، جس کے دوران کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے کہا، ’مجھے دماغی نکسل ہونے پر فخر ہے۔ ‘مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وضاحت کی کہ مودی نے اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔ ان کے مطابق یہ اصطلاح ان لوگوں کیلئے استعمال کی گئی ہے جو ماؤ نواز نظریے کی حمایت کرتے ہیں، آئین کو مسترد کرتے ہیں، علیحدگی پسندی کی حمایت کرتے ہیں، آرٹیکل۳۷۰؍کے حق میں ہیں یا شمال مشرقی ریاستوں کو باقی بھارت سے جوڑنے والی ’چکن نیک‘ راہداری کو کاٹنے کی وکالت کرتے ہیں۔ رجیجو نے ایک اور ایکس پوسٹ میں چدمبرم کے بیان کو ہندوستان کے ایک محترم سابق وزیر داخلہ کی جانب سے انتہائی افسوس ناک اور نقصان دہ بیان‘ قرار دیا، اور ان تین نکات کے درست اعداد و شمار بھی پیش کئے جن کے ذریعے انہوں نے پہلے ’دماغی نکسل‘ کہلانے والوں کی وضاحت کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے ۵؍ بڑے تجارتی گھرانوں کا ملک کی کارپوریٹ آمدنی کے ۶۰؍فیصدپر قبضہ
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے بھی چدمبرم کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا۔ حکمراں جماعت کی کمزوری شاید اس کی اپنی تحقیر آمیز سیاسی لغت ثابت ہوئی ہے؛ وہ الفاظ اور القابات جو کبھی اختلافِ رائے رکھنے والوں کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے تھے، اب نئے معنی کے ساتھ اپنائے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا تحریکوں کے ہتھیار بن رہے ہیں۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘، جو اس ڈجیٹل جوابی سیاست کیلئے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوئی، اب انسٹاگرام پر۲؍ کروڑ۶۰؍ لاکھ سے زیادہ فالوورز حاصل کر چکی ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح سیاسی طنز یا توہین کیلئے استعمال کیا جانے والا لفظ ایک طاقتور آن لائن برانڈ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔