یوپی میںکانگریس کو جھٹکا دینے والی بی جے پی کو بھی دھچکا

Updated: June 10, 2021, 8:12 AM IST | Jeelani Khan | Lucknow

سابق ریاستی وزیر اور تین باربی جے پی ممبرا سمبلی رہے شیوشنکر پٹیل اپنے حامیوں کے ساتھ سماجوادی پارٹی میں شامل، باندہ اور آس پاس کے اضلاع میں مقبول لیڈرکی حیثیت رکھتے ہیں، اکھلیش کا بی جے پی پر حملہ جاری ، کہا کہ یوپی اور مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں کورونا نے تباہی مچائی اور اتنی اموات ہوئیں

Samajwadi Party President Akhilesh Yadav with Shiv Shankar Singh Patel and other leaders.Picture:Inquilab
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو شیو شنکر سنگھ پٹیل اور دیگر لیڈران کے ساتھ

جتن پرساد کو اپنی پارٹی میں شامل کرکےجشن منارہی بی جے پی کو سماجوادی پارٹی  نے بڑا جھٹکا  دیا ہے۔سینئر بی جے پی  لیڈر  اور سابق ریاستی وزیر شیو شنکر پٹیل سماج وادی پارٹی  میں شامل ہوگئے ہیں۔باندہ ضلع کے ببیرواسمبلی حلقہ کی تین بار نمائندگی کرچکے شیو شنکرکے ساتھ ان کی اہلیہ،بھتیجہ  اور دیگر کئی حامی بھی سائیکل پر سوار ہوگئے ہیں۔انہیں ایس پی صدر اکھلیش یادو نے پارٹی کی رکنیت دلاتے ہوئے اسے خوش آئند قدم بتایا اور کہا کہ اس سے بالخصوص باندہ  اور آاس پاس کے اضلاع میں سماجوادی پارٹی مزیدمضبوط ہوگی۔ ادھر، اکھلیش نے بی جے پی حکومت پر حملہ جاری رکھتے ہوئے اسے کورونا سے نمٹنے میں ناکام بتایا ہے۔
 شیو شنکر سنگھ پٹیل   اپنی اہلیہ کرشنا پٹیل (سابق چیئر پرسن ضلع پنچایت باندہ) اور بھتیجہ راجندر سنگھ(سابق بلاک چیف)اور اپنے  دیگر حامیوں کے ہمراہ لکھنؤ واقع ایس پی ہیڈکوارٹر س پہنچے اور سماجوادی پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔اس موقع پر سماجوادی سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ان ساتھیوں کا پارٹی میں آنا ایک خوش آئند قدم ہے، جس سے ریاست بالخصوص باندہ و آس پاس کے اضلاع میں پارٹی کو تقویت ملے گی۔
 واضح رہے کہ شیو شنکر سنگھ پٹیل پرانے لیڈر ہیں جو تین بار ببیرو حلقہ کی اسمبلی میں نمائندگی کر چکے ہیں۔وہ ریاستی کابینہ کا حصہ بھی رہے ہیں۔وہ وزیر مملکت برائےآبپاشی و تعمیرات عامہ کے قلمدان  سنبھال چکے ہیں۔ اس پورے علاقے میں ان کا کافی دبدبہ ہے۔ انہوں نے اس موقع پر میڈیا سے کہا کہ وہ  بی جے پی کی لیڈر شپ اور صرف ۲؍ لیڈروں کے  ذریعے فیصلے کرنے سے پریشان ہوچکے تھے۔ وہی ماڈل یوپی میں بھی اپنانے کی کوشش ہو رہی تھی جس کی وجہ سے پارٹی کی مقبولیت ختم ہو رہی تھی ۔ اس تعلق سے انہیں بتایا بھی گیا لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں تھے جس کے بعد ان کے پاس پارٹی چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔ شیو شنکر سنگھ پٹیل کے مطابق سماج وادی پارٹی کے پاس نوجوان لیڈرشپ ہے اور اس کے قومی صدر اکھلیش یادو کو صوبے کو بحسن و خوبی چلانے کا تجربہ ہے اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے ایس پی کا دامن تھام کر کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا ہے۔ 
  واضح رہے کہ  شیو شنکر پٹیل کا بی جےپی چھوڑدینا زعفرانی پارٹی کے لئے  بہت بڑا جھٹکا ہے کیوں کہ اس علاقے میں وہ کافی اثر و رسوخ والے لیڈر مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کو آزادامیدوار کے طور پر میدان میں اتارا تھا جس کی وجہ سے انہیں پارٹی سے ۶؍ سال کے لئے نکال دیا گیا تھا ۔ ریاست میں  جولائی میں ضلع  صدور کے انتخابات ہونے کا امکان ہے  اور بی جے پی  یہاں اپنے زیادہ سے زیادہ ضلع صدور بنانا چاہتی ہے تاکہ یوپی الیکشن پر وہ اثر انداز ہو سکے جبکہ سماج وادی پارٹی نےبھی اس مرتبہ ایڑی چوٹی کا زور لگادیا ہے۔ وہ زمینی سطح پر اور بھی زیادہ مضبوط ہونا چاہتی ہے جس سے یوپی کے اسمبلی الیکشن میں اس کے لئے آسانی پیدا ہو جائے گی۔ اس پورے تناظر میں  باندہ ضلع کا ہاتھ سے نکل کر سماج وادی کے پالے میں چلاجانا بی جے پی کے لئے بہر حال بڑا جھٹکا ہے۔
 در یں اثناء ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو  نے  پھر بی جے پی پر نشانہ سادھا اور کہا کہ اس کی سرکار کی غلط پالیسیوں کے سبب کورونا نے اس قدر تباہی مچائی اور اتنی بڑی تعداد میں اموات ہوئیں ۔ انہوں نے نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے اسکالر جس کی پوری دنیا دلدادہ ہے، نے بھی مرکزی حکومت کی کورونا پالیسی پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ ساتھ ہی دیگر کئی ماہرین  نےبھی حکومت کو وقت بوقت نہ صرف آئینہ دکھایا ہے بلکہ اسے اہم مشورے بھی د ئیے ہیں مگر مودی حکومت نے کسی کی بھی نہیں سنی اور تالی تھالی بجواتی رہی ۔اکھلیش نے کہا کہ بی جے پی حکومت عوام کو دھوکہ دے کر اپنی ستائش میں لگی رہی اورلوگ مرتے رہے۔ اکھلیش یادو نے یوگی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ کورونا کے دور میں یوپی کا جو حشر ہوا ہے وہ ڈبل انجن کی اس سرکار کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ انہیں عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK