• Mon, 05 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الیکشن کمیشن نے بلامقابلہ جیت حاصل کرنے والے امیداروں کی جانچ کا حکم دیا، جیتنے والوں کے نتائج معطل

Updated: January 04, 2026, 5:08 AM IST | Mumbai

الیکشن کمیشن نے ریاست کے ۲۹؍ میونسپل کارپوریشنوں میں بلا مقابلہ منتخب قرار دیئے گئے ۶۹؍ امیدواروں کے معاملے کی جانچ کا حکم دیا ہے۔

A female candidate submitting a form
ایک خاتون امیدوار فارم جمع کرواتے ہوئے

الیکشن کمیشن نے ریاست کے ۲۹؍ میونسپل کارپوریشنوں میں بلا مقابلہ منتخب قرار دیئے گئے ۶۹؍  امیدواروں کے معاملے کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم فارم واپس لینے کی آخری تاریخ (۳؍ جنوری ۲۰۲۶ء)کو موصول ہوئی شکایات کے پیش نظر دیا گیاہے۔ کمیشن نے  یہ بھی ہدایت دی ہے کہ جانچ مکمل ہونے تک ان بلا مقابلہ امیدواروں کو باضابطہ طور پر کامیاب قرار نہ دیا جائے، جسکے نتیجے میں امیدوار منتخب تو سمجھے جا رہے ہیں لیکن ان کی کامیابی کی رسمی توثیق معطل رہے گی۔
 سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلا مقابلہ جیتی گئی ۶۹؍ نشستوں میں سے ۶۸؍ نشستیں برسراقتدار مہایوتی کے حصے میں آئی ہیں، جن میں بی جے پی کو ۴۴؍، شیو سینا کو ۲۲؍ اور این سی پی (اجیت) کو ۲؍ ملی ہیں۔ جبکہ ایک  مالیگائوں کی انڈین سیکولر پارٹی کی خاتون امیدوار ہیں۔  اس پر کانگریس، جنتا دل (ایس) اور عام آدمی پارٹی سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔  اپوزیشن کا الزام ہے کہ مہایوتی امیدواروں نے منظم طریقے سے دباؤ، دھمکی اور مالی لالچ کے ذریعے مخالف امیدواروں کو  اپنا فارم واپس لینے پر مجبور کیا۔
  یاد رہے کہ بلا مقابلہ کامیابیاں چند مخصوص میونسپل کارپوریشنوں میں نظر آتی ہیں، جن میں کلیان۔ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن سب سے نمایاں ہے جہاں۱۲۲؍ نشستوں میں سے ۲۲؍ نشستیں بلا مقابلہ جیتی گئیں، جو کل نشستوں کا تقریباً ۱۸؍ فیصد بنتی ہیں۔ اس کے بعد جلگاؤں میں ۱۲؍، تھانے میں ۷؍ جبکہ پنویل، بھیونڈی، دھولیہ، پونے، پمپری۔چنچواڑ اور احمدنگر میں ۲؍ تا ۶؍ کے درمیان نشستیں بلا مقابلہ رہیں۔ذرائع کے مطابق موجودہ انتخابی ضابطوں کے تحت یہ جانچ لازمی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ نامزدگیاں کسی دباؤ، مالی لالچ یا کسی اور جبر کے تحت تو واپس نہیں لی گئیں؟ اسی سلسلے میں ریٹرننگ افسران، میونسپل کمشنروں، پولیس کمشنروں اور ضلع کلکٹروں سے تفصیلی رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔ تاہم موجودہ انتخابی قوانین کے باعث ایک بڑی عملی رکاوٹ بھی سامنے آئی ہے کیونکہ ۲؍ جنوری کی آخری تاریخ کے بعد نہ تو نئی نامزدگیاں داخل کی جا سکتی ہیں اور نہ ہی بلا مقابلہ منتخب امیدواروں کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ 
 ایسی صورت میں کمیشن صرف ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ ممبئی کے قلابہ حلقے سے متعلق الزامات کو سب سے زیادہ سنگین قرار دیا جا رہا ہے، جہاں اسمبلی اسپیکر اور بی جے پی رکن اسمبلی راہل نارویکر پر متعدد انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی امیدوار مارگریٹ ڈی کوسٹا نے الزام لگایا کہ وہ ۳۰؍ دسمبر کو شام ۵؍ بجے کی مقررہ مدت سے پہلے ریٹرننگ افسر کے دفتر میں موجود تھیں اور تمام کارروائی مکمل کر چکی تھیں اسکے باوجود انہیں حتمی طور پر نامزدگی داخل کرنے سے روک دیا گیا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ دفتر کے سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ سابق رکن پارلیمان اور سابق رکن اسمبلی ہری بھاؤ راٹھور نے بھی ایک تحریری شکایت درج کروائی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ راہل نارویکر نے انہیں دھمکایا اور ان کی سیکوریٹی واپس لینے کیلئے پولیس کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا، حالانکہ انہیں ایسا کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔یاد رہے کہ اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ ایک امیدوار کو فارم واپس لینے کیلئے دھمکاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK