Inquilab Logo Happiest Places to Work

احمدآباد میں دورِشاہی کی تاریخی مساجد اپنی مثال آپ ہیں

Updated: December 17, 2022, 11:51 AM IST | Saeed Ahmad Khan | Mumbai

شہر میں شاہی دور کی ۱۰۰؍ سے زائد مساجد موجود ہیں۔ ہرمسجد خوبصورتی ،مضبوطی اور اپنے طرز تعمیر میں اپنی مثال آپ ہے ۔ احمدآباد شہر کے ۱۲؍ دروازے بھی اسے ایک الگ پہنچان فراہم کرتے ہیں

The area outside Sarkhej Mosque
سرخیز کی مسجد کے باہر کا علاقہ

احمدآباد کا پرانا شہر ۱۲؍دروازوں کے اندر ہوا کرتا تھاجواب کافی وسیع ہوچکا ہے ۔ہر دروازے کا باقاعدہ نام تھا، جسے آج بھی لوگ ان ہی ناموں سے یادکرتے ہیں۔ شہر کے اندر شاہی دور کی ۱۰۰؍ سے زائد مساجد موجود ہیں۔ حالانکہ معلومات رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مساجد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی ۔ یہ مسلم امراء وسلاطین کا وہ عظیم کارنامہ  جس نے تاریخ کے اوراق کے ساتھ انہیں لوگوں کے قلب وذہن میںمحفوظ کردیا ہے۔  
 شہرکے ۱۲؍دروازوں کے نام کچھ اس طرح ہیں۔ کالوپور  دروازہ، پریم دروازہ ، دریاپور دروازہ ، دہلی دروازہ ، شاہ پور دروازہ ، خان پور دروازہ ، آسٹوڈیا دروازہ ، رائے پور دروازہ ، پانچ کنواں دروازہ ، خان جہاں کا دروازہ، جمال پور دروازہ ، راہ خیر دروازہ جوبگڑکراب رائے کڈھ ہوگیا ہے۔
 مساجد اُس دور کے طرز تعمیرکےشاہکار نمونے ہیں۔ سیکڑوں برس گزر جانےکے  بعد بھی ستون اپنی جگہ قائم ہیں، گول گنبد اسی طرح موجود ہیں، دیوار اور چھتیں بوسیدہ ہونے کے باوجود محفوظ ہیں اور فرش برقرار ہیں۔ 
  قطب الدین شاہ کی مسجد(جو محمود شاہ بیگڑا کےبھائی نے تعمیر کروائی تھی)  جمال پور میںکیلی کومی کے پاس بابا لؤلؤی کی مسجد، شاہ عالم کی مسجد جو شاہ عالم علاقے میںہے ، ملک عیسن کی مسجدعیسن پور علاقے میںواقع ہے، وٹواعلاقے کی قطب عالم مسجد، باپو نگرمیںبی بی رانی کی مسجد، سارنگ پور میں سدی بشیر کی مسجد ، ساروا میںدَدَا حریر کی مسجد( یہ مسجد محمود بیگڑے کے زنان خانے کی انچارج بائی حریر سے موسوم ہے)،   ان زائد از ۱۰۰؍ مساجد میں شامل ہیں جو احمدآباد کی اسلامی شناخت کو واضح کرتی ہیں۔ دَدَا حریر کی مسجد  کے قریب ہی ان کی آخری آرام گاہ ہے اوربالکل متصل پانی سپلائی  کا ایسا نظام اورتہہ خانہ  ہے کہ اس کی کاریگری دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں ۔آج بھی یہاںکنویں میںپانی موجود ہے۔کنویں میں جانے کے لئے تہہ خانے کے ساتھ سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ یہاں باجماعت نماز کا معمول قائم ہے مگر نگرانی کرنے والے محمدعمران نے بتایا کہ نماز میںایک دو لوگ ہی ہوتے ہیں اورکبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تنہا نمازادا کرنا پڑتاہے۔ 
  مرزاپور علاقے میںواقع رانی روپ متی سے موسوم خوبصورت مسجد،اچیوت کوئی کی مسجددَدِیشور علاقے میںواقع ہے، آسٹوڈیا دروازے کے پاس واقع رانی صبرائی کی مسجد  اور سارنگ پور دولت خانہ کے پاس واقع رانی بی بی کی مسجد  بھی  خوبصورتی کی مثال ہے۔
  سرخیزوہ علاقہ ہے جہاںمعروف بزرگ ولی کامل شیخ احمد گنج بخش کھٹوؒ ؒمغربی آرام فرما ہیں۔ حضرت گنج بخش کٹھوؒ صاحب کشف وکرامت بزرگ تھے ،آپ نے اپنے دور میں بڑی تعداد میں لوگوں کی اصلاح فرمائی اوران کی زندگیو ںکا رخ بدل دیا ۔ احمدآباد کے بسانے میںآپؒ نے بھی اہم رول ادا کیا ۔یہیں بادشاہ محمود بیگڑا اوران کے اہل خانہ میںسے کچھ لوگوںکی قبریں ہیں۔محمود بیگڑا حضرت کے خاص معتقد تھے ۔ آستانے سے چند میٹر پہلے حضرت شیخ احمدؒکے نام سے دارالعلوم بھی ہے جہاںتشنگانِ علوم  اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔  اسی احاطے میںسرخیز کی مسجد واقع ہے جوانتہائی کشادہ ، خوبصورت اورفن تعمیرکانمونہ ہے۔مسجد کے اندرونی حصہ میںمنبر کے دائیں جانب(منبر پربیٹھنے پربائیں جانب ) خواتین کے لئے نمازادا کرنے کانظم کیا گیا تھا ،اسےملوک خانہ کہا جاتا تھا ،یہ آج بھی موجود ہے۔ اسی کےپیچھے وسیع وعریض تالاب اوررانی کا محل بھی ہے ،لیکن یہ تالاب اور محل بڑی حد تک کھنڈرہوگیا ہے اور اب اجاڑ دکھائی دیتا ہے ،اس کے کنارے بنائی گئی چہار دیواری بھی کافی حد تک ڈھہ گئی ہے۔
 نمائندے کے حضرت شیخ احمدؒکے آستانے پرآنے کے بعد محمود بیگڑا کے تعلق سے یہ خیال گزرا کہ آخر بیگڑاکیوں کہا جاتا ہے ؟ تو آستانے پر موجود لوگوں نے بتایا کہ دراصل یہ گجراتی زبان  کے ۲؍ الفاظ ’بے ‘ یعنی ’۲ ‘اور’گڑھ‘ یعنی قلعہ  کے مرکب کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ محمود بیگڑا نے۲؍قلعے فتح کئے تھے اس لئے   ’’ بیگڑا‘‘ یعنی دوقلعوں والا ان کے نام کا جزوبن گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK