Updated: March 27, 2026, 10:36 PM IST
| Tel Aviv
صہیونی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے نیتن یاہو کو انتباہ دیا کہ فوج کو افرادی قوت کے سنگین بحران کا سامنا ہے ، وہ زیادہ دنوں تک جنگ نہیں لڑسکتی ۔ اس کے برعکس ایران نے اپنی موجودہ فوج کے علاوہ ۱۰؍ لاکھ سے زائد زمینی فوج اور ریزرو فورس کو مقابلے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا
ایرانی میزائلوں نے اندرون ِاسرائیل بھی تباہی مچائی ہے ، ایسےمیں فوج کے حوصلے تو ٹوٹیں گے
سرائیل ،امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اب پوری طرح سے ایران کے حق میں نظر آرہی ہے کیوں کہ ایران کے جوابی حملوں نے اسرائیل کے نہ صرف دانت کھٹے کردئیے ہیں بلکہ اس کی فوج کا حوصلہ بھی توڑ دیا ہے جبکہ دوسری جانب ایران اور اس کی فوج پوری طرح سے تازہ دم ہے اور پرجوش انداز میں مقابلے کے لئے پرتول رہی ہے۔
اسرائیل کو لینے کے دینے پڑگئے
اسرائیلی فوج(آئی ڈی ایف) اس وقت اپنے وجود کے سب سے برے دور سے گزر رہی ہےبلکہ اس کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے کیوں کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے نیتن یاہو حکومت کو سنگین انتباہ دیا ہے کہ فوج کو بڑھتے ہوئے افرادی قوت کے بحران کا سامنا ہے اور اگر اسے ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو ایران کے محاذ پر مقابلہ یا لبنان کے محاذ پر مقابلہ تو جانے دیجئے اسرائیلی فوج اپنی معمول کی ذمہ داریاں بھی ادا کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اسرائیلی میڈیا اورٹائمزآف اسرائیل کی رپورٹس کے مطابق جنرل زمیر نے سیکوریٹی کا بینہ کے ایک اہم اجلاس میں وزراء کے سامنے فوج کی حالت کے تعلق سے ’’دس ریڈ فلیگز‘‘ پیش کئے اور واضح کیا کہ موجودہ حالات میں فوج کو فوری طور پر نئی بھرتیوں، ریزرو سروس کے قوانین اور لازمی فوجی مدت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو فوج کا ریزرو سسٹم زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکے گا۔
اسرائیلی فوج کا یہ حال کیوں ہوا ؟
جنرل زمیر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اس وقت بیک وقت کئی محاذوں پر برسرپیکار ہے جس کے باعث افرادی دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوج اندر سے کمزور ہو رہی ہے اور یہ صورتحال قومی سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیک وقت ایران ، غزہ ، مغربی کنارہ اور لبنان کے محاذوں پر لڑنا فوجیوں کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ساتھ ہی ان میں ذہنی و جسمانی تھکاوٹ بھی بہت زیادہ ہے۔ جو ریزرو فورس آرہی ہے وہ فی الحال اس قابل نہیں ہے کہ اسے فوری طور پر کسی بھی محاذ پر بھیجا جائے ۔ ایسے اسرائیل کو فوجیوں کی بہت بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسرائیل چاروں طرف سے گھر گیا ہے
اس وقت اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع فوجی تنازع میں الجھا ہوا ہے۔ ۲۸؍ فروری سے اسرائیل ایران پر مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب پڑوسی ملک لبنان کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے خلاف زمینی کارروائیاں جاری ہیں لیکن حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی پیش قدمی کے خلاف مزاحمت جاری رکھی ہے اور گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اسرائیل پر سیکڑوں راکٹ داغ چکی ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے،جہاں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر اسرائیلی فوج نے وہاں ہزاروں اضافی اہلکار تعینات کئے ہیں۔ سیاسی سطح پر بھی اس صورتحال نے اسرائیل کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن لیڈریائر لیپڈ نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بغیر کسی واضح حکمت عملی، وسائل اور مناسب افرادی قوت کے فوج کو ایک کثیر الجہتی جنگ میں جھونک دیا ہے جس سے اب نکلنا مشکل محسوس ہو رہا ہے۔
ایران تازہ دم اور پرجوش
دریں اثناء اسرائیل کے مقابلے میں ایران بالکل تازہ دم اور پرجوش نظر آرہا ہے۔ حالانکہ اسرائیلی اور امریکی حملوں میں کئی شہادتوں کے باوجود ایرانی فوج ، پاسداران انقلاب اور دیگر فورسیز کے حوصلے بلند ہیں۔ ایرانی حکومت نے فوج کو مزید ۱۰؍ لاکھ سے زائد زمینی فوج اور ریزرو فورس فراہم کی ہے۔ حکومت نے ان فوجی اہلکاروں کو زمینی حملے کی صورت میں بالکل تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اس تعلق سے ایرانی میڈیا کے متعد ایکس اکائونٹ اور ایرانی فوج کے بھی ایکس اکائونٹ پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے ایرانی فوج اسرائیل اور امریکہ پر طنز کررہی ہے اور انہیں ایک مرتبہ ایران کی زمین پر اترنے کیلئے للکار بھی رہی ہے۔ایرانی فوج یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اگر امریکہ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی غلطی کرتا ہے تو وہ ویتنام ، عراق اور افغانستان بھول جائے گا۔