سی ایم لا ءکالج دربھنگہ کا نام اردو میں دوبارہ لکھا گیا

Updated: May 23, 2020, 4:48 AM IST | Asfar Faridi | Patna

کالج کے صدر دروازہ پر اردو میں لکھے نام کو مٹانے کے خلاف متھلا اور اردو دوستوں نے شدید ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔

CM Law College. Photo: Inquilab
سی ایم لاء کالج۔ تصویر: انقلاب

سی ایم لاءکالج دربھنگہ کے انتظامیہ نے آخرکار اردو کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کرلیا۔ چند روز قبل سی ایم لاء کالج کے صدر دروازہ پراردو میں لکھے اس کے نام کو مٹا دیا گیا تھا۔ اس کے خلاف معروف سماجی کارکن نظر عالم کے ساتھ ہی ایس آئی او اور کیمپس فرنٹ کے ذمہ داروں نے زوردار آواز بلند کی تھی۔ روزنامہ انقلاب (بہار ایڈیشن)نے اس خبر کو اہمیت کے ساتھ شائع کیا تھاجسے بعد میں سوشل میڈیا پر بھی خوب شیئر کیا گیا۔ اس دوران منگل کو ’اردو لکھو سی ایم لاء کالج‘ ٹوئٹر پر دیر رات تک ٹرینڈ کرتا رہا۔ اس معاملے کو کم وبیش۵۰؍ افراد نے ری ٹوئٹ کیا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے دوسرے چینلوں نےبھی اس کی آواز بلند کی۔ اردو کے حق میں لگاتار تیز تر ہوتی آواز کے سامنے انتظامیہ نے کھٹنے ٹیک دئیے اور جمعرات کو سی ایم لاء کالج کے صدر دروازہ پر اردو میں نام لکھنے کا حکم جاری کیا گیا۔ 
  اس بارے میں سی ایم لاء کالج کے پرنسپل بدر عالم نے بتایا کہ شرپسندوں نے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی، ہم نے اسے بچانے کے مقصد سے کالج کے مین گیٹ پر اردو میں لکھے نام کو ہٹوا دیا تھا۔ انہوں نے جمعرات کو جاری پریس بیان میں کہا ہے کہ کالج کانام لکھے جانے کے سلسلے میں پیدا شدہ تنازع پر فوری طور سے روک لگانے کے مقصد سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر راجیش سنگھ نے بورڈ پر اردو میں بھی نام لکھنے کی اجازت دی ہے۔ اس پر عمل کے لیے کالج انتظامیہ نے اقدام کیا ہے۔ انہوں نے امیدظاہر کی کہ ’’آج (جمعرات) ہی کو اردو میں بورڈ لگ جائے گا۔ کالج انتظامیہ کی طرف سےجمعرات کو دوپہر بعد اردو میں بورڈ لگانے کیلئے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت جاری کی گئی۔ یہ کام دوپہر بعد جیسے ہی شروع ہوا ، بہت سے لوگ اپنا اپنا کریڈٹ لینے کیلئے فوٹو شوٹ میں مصروف ہوگئے۔ اس سے ماحول کے کشیدہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا، اسی اندیشہ کے پیش نظر انتظامیہ نے وہاں پولیس تعینات کردی۔ اس صورت حال کے بارے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن اور اس مسئلہ کو اٹھانے میں پیش پیش رہنے والے نظر عالم نے بتایا کہ ’’پہلی بار جیت کر بھی ہار محسوس کررہاہوں ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم لوگ متھلا کی ثقافت ، زبان اور دوسری خوبیوں کے دشمن نہیں ہیں ۔ ہم متھلا والے ہیں ، سب سے محبت کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کو مٹانے کی سازش کے خلاف ہم لگاتار نبرد آزما ہیں ۔‘‘ نظر عالم نے کہا کہ اردو کے حق کی لڑائی میتھلی یا کسی اور زبان کے خلاف نہیں ہے۔ اس لیےکالج کا نام اردو میں دوبارہ لکھے جانے کو ہم اپنی جیت نہیں بلکہ میتھلی زبان اور متھلا تہذیب وثقافت کے دشمنوں کے منھ پر طمانچہ کے طور پر دیکھتے ہیں ۔

patna bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK