Updated: October 15, 2026, 5:03 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت نے ٹیلی مواصلات کے صارفین کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے یکم نومبر ۲۰۲۶ء سے ملک بھر میں کال کرنے والے کے نام کی شناخت کی سہولت نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمۂ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) نے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنے تمام خدماتی علاقوں میں کالنگ نیم پریزنٹیشن (سی این اے پی) سہولت شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
موبائل یوزر۔ تصویر:آئی این این
مرکزی حکومت نے ٹیلی مواصلات کے صارفین کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے یکم نومبر ۲۰۲۶ء سے ملک بھر میں کال کرنے والے کے نام کی شناخت کی سہولت نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمۂ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) نے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنے تمام خدماتی علاقوں میں کالنگ نیم پریزنٹیشن (سی این اے پی) سہولت شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس نئی سہولت کے تحت موبائل فون پر آنے والی کال کے دوران صرف فون نمبر ہی نہیں بلکہ کال کرنے والے شخص کا نام بھی دکھائی دے گا۔ اس اقدام کا مقصد نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالوں کی شناخت آسان بنانا اور صارفین کو کال موصول کرنے سے پہلے زیادہ معلومات فراہم کرنا ہے۔ سرکاری ہدایات کے مطابق، ٹیلی کام کمپنیوں نے پہلے ہی چوتھی نسل (فور جی) اور اس سے جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے وائرلیس نیٹ ورکس پر اس سہولت کی جانچ مکمل کرلی ہے۔
حکومت کی ہدایات کے مطابق، سی این اے پی سہولت اہل صارفین کے لیے خودکار طور پر دستیاب ہوگی اور اس کے لیے موبائل صارفین کو الگ سے درخواست دینے یا کوئی اضافی کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، فی الحال اس سہولت کا نفاذ فور جی اور اس سے جدید نیٹ ورکس پر کیا جائے گا۔ دوسری نسل (ٹو جی)، تیسری نسل (تھری جی) اور روایتی عوامی سوئچڈ ٹیلی فون نیٹ ورک پر اس سہولت کو نافذ کرنے کے بارے میں بعد میں جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت کال کرنے والے کی شناخت کالنگ لائن آئیڈینٹیفکیشن (سی ایل آئی) کا حصہ ہوگی۔ اس وقت عام طور پر آنے والی کال کے دوران موبائل اسکرین پر فون نمبر دکھائی دیتا ہے، لیکن نئی سہولت کے تحت فون نمبر کے ساتھ نام کی معلومات بھی دستیاب ہوں گی۔ اگر کال کرنے والے کا نمبر وصول کنندہ کے موبائل فون کی رابطہ فہرست میں پہلے سے محفوظ ہے تو اسکرین پر وہی محفوظ شدہ نام دکھائی دے گا۔ دوسری جانب، اگر نمبر محفوظ نہیں ہے تو ملک کے اندر سے آنے والی کال کے معاملے میں کال کرنے والے کا نام متعلقہ ٹیلی کام کمپنی کے صارفین کے ریکارڈ میں درج معلومات کے مطابق دکھایا جائے گا۔ بین الاقوامی کالوں کی شناخت اس سہولت کے تحت صرف ’’بین الاقوامی کال‘‘ کے طور پر ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:رشمیکا کام کے بعد خود کو الگ کرلیتی ہیں، میں ایسا نہیں کر پاتا: وجے دیورا کونڈا
محکمۂ ٹیلی مواصلات نے واضح کیا ہے کہ نئی سہولت کو ٹیلی کمیونی کیشنز (پرنسپل ٹیلی کمیونی کیشن سروسز کی فراہمی کے لیے اجازت نامہ) قواعد، ۲۰۲۶ء کے ضابطہ ۴۸(ایک) کے مطابق نافذ کیا جائے گا۔ اس ضابطے کے تحت متعلقہ اداروں کو کال کرنے والے کی شناخت محفوظ طریقے سے ظاہر کرنے اور اس معلومات میں ردوبدل روکنے کے انتظامات یقینی بنانے ہوں گے۔حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ صارفین کی رازداری اور نیٹ ورک کی حفاظت کے لیے ’’سیکوریٹی بائی ڈیزائن‘‘ کا اصول اپنائیں۔ اس کے تحت کال کرنے والے کے نام کی معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے سوال و جواب کے عمل میں کال ختم ہونے کے بعد نام کی معلومات محفوظ نہیں رکھی جانی چاہئیں۔ اس اقدام کا مقصد ذاتی معلومات کے غیر ضروری ذخیرے اور ممکنہ غلط استعمال کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوں کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے نیٹ ورک، صارفین کے ریکارڈ کے نظام اور رابطہ کاری کے بنیادی ڈھانچے میں اتنی صلاحیت موجود ہو کہ سی این اے پی سے متعلق درخواستوں کو مؤثر انداز میں نمٹایا جا سکے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئی سہولت نافذ ہونے سے کالنگ خدمات کے معیار یا نیٹ ورک کی کارکردگی پر منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ حکومت نے کاروباری اداروں اور بڑے پیمانے پر کال کرنے والے صارفین کے لیے بھی ایک اہم سہولت فراہم کی ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق، ایسے ادارے اپنے صارفین کو کال کرتے وقت صارفین کے ریکارڈ میں درج نام کے بجائے اپنی پسند کا کاروباری نام دکھا سکیں گے، بشرطیکہ وہ نام ٹریڈ مارک رجسٹری میں درج تجارتی نشان یا اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) پورٹل پر رجسٹرڈ کاروباری نام ہو۔ اس کے لیے متعلقہ قواعد اور تصدیق کے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:شامی حجام نے کرسٹیانو رونالڈو سے اچانک ملاقات کی دلچسپ کہانی سنادی
سی این اے پی سہولت سے موبائل صارفین کو نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالوں کے بارے میں بہتر معلومات ملنے کی توقع ہے۔ اس سے کال کرنے والے کی شناخت میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے اور صارفین کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ انہیں کال موصول کرنی چاہیے یا نہیں۔ تاہم، صرف نام دکھائی دینے سے ہر دھوکہ دہی والی کال کی شناخت یا روک تھام کی ضمانت نہیں ملتی۔ صارفین کو مشکوک کالوں پر احتیاط برتنی چاہیے اور کسی بھی نامعلوم شخص کے ساتھ ذاتی معلومات، بینک کی تفصیلات یا یک وقتی تصدیقی رمز شیئر نہیں کرنا چاہیے۔
مجموعی طور پر، یکم نومبر ۲۰۲۶ء سے کال کرنے والے کے نام کی شناخت کی سہولت نافذ کرنے کا فیصلہ ہندوستان کے ٹیلی مواصلاتی نظام میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ اس سے کالنگ کے تجربے کو بہتر بنانے، صارفین کی رازداری کے تحفظ اور کاروباری اداروں کی شناخت کو زیادہ واضح بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔