مدارس کے خلاف کار روائی پر ممبئی کے ذمہ داران کو بھی تشویش

Updated: September 05, 2022, 11:43 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ممبئی اورتھانے رابطۂ مدارس اسلامیہ کی جانب سےآسام اور یو پی میں مدارس کیخلاف کارروائی کی مذمت،کہا: گھبرانے کی نہیںمگرپیش بندی کے طور پرضابطے کی تکمیل بہرحال ضروری ہے، ذمہ داران کو کاغذات کی درستی ، طلبہ کی تفصیل رکھنے اورحساب کتاب کی شفافیت کی جانب متوجہ کیا جارہاہے۔جلد ہی بڑی میٹنگ بھی بلائی جائیگی

Students can be seen reciting the Holy Quran in a seminary in the city.Picture:INN
شہر کے ایک مدرسہ میں طلبہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ تصویر:آئی این این

مدارس ِ اسلامیہ کے خلاف یوپی اور آسام حکومتوں نے جو روش اپنا رکھی ہے اس سے ممبئی کے ذمہ داران ِ مدارس میں بھی تشویش پائی جارہی ہے۔ہر چند کہ وہ خائف نہیںہیں لیکن اس بات سے متفکر بہرحال ہیں کہ مدارس کیخلاف مسلسل جاری رہنے  والی زہرافشانی اورشرانگیزی کے بعد اب نوبت یہاںتک آگئی ہے کہ دینی اداروں کوبغیرتحقیق اورقانونی عمل مکمل کئے ، مسمار کیا جارہا ہے۔ واضح ہوکہ مدارس کےتعلق سےسنی جمعیۃ العلماء اور ممبئی امن کمیٹی کےدفاترمیںہونے والی میٹنگوں میں بھی اس تعلق سے تبادلۂ خیال کیا جاچکا ہے۔ عروس البلاد کےقلب میں اورمضافات کے ساتھ تھانے ، پال گھر اوربھیونڈی وغیرہ میںمدارس کا جال پھیلا ہوا ہے اور ہزاروں کی تعداد میںطلبہ زیرتعلیم ہیں۔ ان مدار س کے باہم رابطے کیلئے بنائی گئی تنظیم رابطۂ مدارس ِ اسلامیہ ممبئی ،تھانے اور پال گھرکے ترجمان حافظ عبدالقدوس شاکر حکیمی سے نمائندۂ انقلاب نے بات چیت کی ۔ انہوںنے کہاکہ’’ سبھی اداروں کے ذمہ داران کا تشویش میں مبتلا ہونا لازمی ہے ۔ خاص طورسے آسام میں جس طرح یکے بعددیگرےمدارس کو منہدم کیا جارہا ہے اور یوپی حکومت نے مدارس کاسروے کرانے کے اعلان کیساتھ فارم وغیرہ بھی جاری کیا ہے ،یہ عمل  باعث تشویش ہے۔‘‘
 انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’ ان ہی حالات کی بناء پر ممبئی کے ذمہ داران ِ مدارس میں تشویش ہے لیکن خائف نہی ںہیں کیونکہ ہم سب کویہ معلوم ہےکہ آئین نےہم سب کو باعزت زندگی گزارنے کے ساتھ اپنے ادارے چلانے کا بھی حق دیا ہے ،یہ حق ہم سے کوئی نہیںچھین سکتا ۔ اسی لئے مدارس کے ذمہ داران کو مختلف اہم امور کی جانب توجہ دلائی جارہی ہے۔‘‘ 
کن امور کی جانب متوجہ کیا جارہا ہے
 جن امورپرتوجہ دلائی جارہی ہے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے حافظ عبدالقدوس شاکرحکیمی نے کہا کہ ’’ مدارس میں آمد و خرچ کا باضابطگی سے حساب کتاب رکھا جائے اوراسے چیریٹی وغیرہ میں پابندی ٔ وقت کے ساتھ پیش کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ مدارس کا رجسٹریشن ضروری ہے اس میںکوتاہی نہیں ہونی چاہئے اورتیسرے زیرتعلیم طلبہ کی تفصیل اوران کی مکمل معلومات رکھی جائے ۔ ‘‘ ان کے مطابق ’’حالانکہ ہمیںیہ اندازہ ہے کہ زیادہ تر اداروں میںاس طرح کااہتمام پہلے سے ہی کیا جاتا ہے لیکن یاد دہانی اس لئے کروائی جارہی ہے کہ اگرکوئی کمی بیشی رہ گئی ہو تو ضابطے کی تکمیل کرلی جائے اورقانونی اعتبار سے تمام چیزیں پختہ ہو جائیں تاکہ عین وقت پرکوئی مسئلہ نہ ہو۔‘‘
 رابطۂ مدارس اسلامیہ کے ترجمان نےحکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہاکہ’’ جن مدارس کے فارغین اورعلماءنے انگریزوں سے لوہا لیا اورملک کی آزادی کیلئے صف ِ اول میںکھڑے رہے ، آج ان ہی اداروں کے فارغین اوراداروں پرانگشت نمائی ہی نہیں بلکہ ان کوشک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اوراداروں کو ڈھایا جارہا ہے۔ حکومتوں کا یہ قدم انتہائی افسوسناک اورقابل مذمت ہے۔ اس لئے بھی کہ اگرکسی ادارے میں کوئی شخص غلطی کا مرتکب ہوتواس کی سزا ادارے کو کیسے دی جاسکتی ہے؟ اگرایساہی ہے توکیا کسی عصری ادارے کے تعلق سے بھی حکومت نے کبھی ایسا کوئی قدم اٹھایا ہے۔‘‘
یہ وقت پیش بندی کا ہے 
 بزرگ عالم دین اوردارالعلوم محمدیہ (محمدعلی روڈ )کے ناظم اعلیٰ مولانا سیدخالد اشرف نے کہا کہ ’’ یہ واقعی انتہائی تشویش کا باعث ہے ۔ اس سلسلے میںہمیں ایک دوسرے پرطعن وتشنیع نہیں بلکہ سرجوڑکر بیٹھنے کی ضرورت ہے ۔ باہمی مشورہ کیا جائے اور آئندہ کالائحۂ عمل طےکیاجائے ۔ اس میں قانونی ماہرین اوردیگر شعبوں سے متعلق لوگوں کو بھی مدعو کیا جائے ۔‘‘ انہوں نےیہ بھی کہاکہ ’’ چونکہ یہ معاملہ انتہائی نازک اوراہم ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کے ذمہ داران سے بھی رابطے میں ہم لوگوں کوپس وپیش نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ 
اس مسئلے پرجلدہی بڑی میٹنگ بلائی جائے گی
 رابطہ مدارس اسلامیہ کے ترجمان نے یہ بھی بتایاکہ باہمی رابطے کے ساتھ تمام ذمہ دارانِ مدارس کی جلد ہی بڑی میٹنگ بلائی جائے گی ۔ اس میںتمام اداروں کے احوال اوران کی کاغذی اعتبار سے تیاری کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ اگرکسی کی رہنمائی کی ضرورت ہو تو اس کی مدد اوررہنمائی کرتے ہوئے پیش بندی کی جاسکے۔

assam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK