• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسام میں بی جے پی کی سطحی سیاست، یہ ہمکہاں جار ہے ہیں؟

Updated: February 15, 2026, 11:35 AM IST | Rajdeep Sardesai | Mumbai

سوشل میڈیا کے پہلے ہی قابل اعتراض اخلاقی معیارات کے باوجود، آسام بی جے پی کی طرف سے شیئر کیا گیا ویڈیو ایک نئی نچلی سطح کو چھونے والا تھا۔ اس متنازع ویڈیو (جسے اب ہٹا دیا گیا ہے) میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کو ’پوائنٹ بلینک رینج‘ پر ایک ایئر رائفل سے فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سوشل میڈیا کے پہلے ہی قابل اعتراض اخلاقی معیارات کے باوجود، آسام بی جے پی کی طرف سے شیئر کیا گیا ویڈیو ایک نئی نچلی سطح کو چھونے والا تھا۔ اس متنازع ویڈیو (جسے اب ہٹا دیا گیا ہے) میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کو ’پوائنٹ بلینک رینج‘ پر ایک ایئر رائفل سے فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ان کے نشانے پر۲؍ آدمی تھے- ایک نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی اور دوسرے نے ڈاڑھی رکھی تھی۔ ویڈیو میں بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف اور آسامی شناخت کے تحفظ کی حمایت کی مہم کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم، اس نے جو پرتشدد، فرقہ وارانہ تصویر پیش کی ہے وہ صریح نفرت انگیز تھی۔ ایک وزیر اعلیٰ کیلئے آئینی طور پر منتخب لیڈرکیلئے کھلے عام کسی کمیونٹی کی طرف بندوق اٹھانا آئینی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا واقعی اب ہمارے ملک میں سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے؟

شرما نے بعد میں دعویٰ کیا کہ وہ ایسے کسی ویڈیو سے لاعلم تھے لیکن اس طرح کی وضاحتیں اب بے معنی ہیں کیونکہ ویڈیو آسام بی جے پی کے آفیشل ایکس ہینڈل سے شیئر کیا گیا تھا۔ اسے ہٹانے سے پہلے ایک ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا تھا اور یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ بھی نہیں تھا۔کئی ماہ سے شرما ’میاں‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے زہریلا پروپیگنڈہ مہم چلا رہے ہیں، جو آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کیلئے استعمال ہونے والی توہین آمیز اصطلاح ہے۔ شرما نے انتہائی سطحی رویہ اختیار کرتے ہوئے ’میاں‘ کے معاشی بائیکاٹ کا مطالبہ تک کیا ہے، چاہے وہ دکاندار ہوں، سبزی فروش ہوں یا آٹو رکشا ڈرائیور ہوں۔ اپنے موقف پر افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے، شرما نے اپنے بیانات کو آسام کی ثقافتی اور تہذیبی شناخت کے تحفظ کیلئے’ضروری‘ قرار دیا ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ شرما کو اس طرح کے بیانات میںانتخابی فائدہ دکھائی دیتا ہے۔ آج جب شرما اور ان کے ’پریوار‘ پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، فرقہ وارانہ بیان بازی نہ صرف اہم مسائل سے توجہ ہٹاتی ہے بلکہ معاشرے کو پولرائز کرنے کا ایک ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔’باہری‘ کے خلاف غصہ آسام کے پیچیدہ نسلی منظر نامے کا کئی دہائیوں سے حصہ رہا ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی کا تخمینہ تقریباً۳۸؍ فیصد ہونے کی وجہ سے آبادیاتی تبدیلی اور ثقافتی کٹاؤ کے بارے میں خدشات کو ہوا دینا آسان ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آسام سے باہر ابتدائی طور پر نفرت انگیز تقریر کو ریاست کے اندر مقامی آبادی کے تاریخی، لسانی، ثقافتی اور اقتصادی حقوق کے دفاع کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔بی جے پی قیادت نے بھی اس قابل اعتراض ویڈیو پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کے نعرے کے باوجود آنے والے انتخابات کے پیش نظر آسام میں فرقہ وارانہ ماحول کو گرم رکھنے میں سیاسی فائدہ دیکھا جا رہا ہے۔ بی جے پی لیڈران ’دراندازوں‘ کے مبینہ خطرے کا ذکر کرنا بھی نہیں بھولتے، حالانکہ بین الاقوامی سرحدوں کی نگرانی مرکزی فورسز کی ذمہ داری ہے۔اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ خود ساختہ ’سیکولر‘ طبقہ بھی آج اکثریتی سیاست کے ’وجے رتھ‘ کے سامنے تقریباً بے بس اورلاچار نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہر دوسرے سال ورلڈ کپ کرکٹ! کیا اب واقعی اتنا دلچسپ رہا ہے؟

 کچھ بیدار شہریوں نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے جس میں مذکورہ ویڈیو کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاہم سیاسی جماعتوں نے شرما کی فرقہ پرستی کا براہ راست مقابلہ کرنے میں ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے۔ انہیں خوف ہے کہ اس کی وجہ سے ہندو ووٹرس ان سے مزید دورہوسکتے ہیں۔ایک وقت تھا جب کانگریس جیسی پارٹیوں پر مسلمانوں کی خوشامد کرنے کا الزام لگایا جاتا تھا لیکن آج اکثریتی ہندو ووٹوں کیلئے ’تشٹی کرن‘ کی مقابلہ آرائی ہے۔ اگر اسدالدین اویسی نے حیدرآباد میں شرما کے خلاف پولیس شکایت درج کروائی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہندو ووٹوں پر منحصر نہیں ہیں۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ شرما اتنی آزادی سے نفرت انگیز تقاریر کرنے کے قابل ہیں۔ طویل عرصے سے کانگریسی لیڈر کا بی جے پی کیلئے پوسٹر بوائے بننا بھی عصری سیاست میں موقع پرست انحراف کی ایک نادر مثال ہے۔آسام کے وزیر اعلیٰ نے۲۰۱۵ء میںیہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کانگریس اسلئے چھوڑ دی تھی کیونکہ راہل گاندھی نے ایک نجی ملاقات میں ان کی ’توہین‘ کی تھی۔ بقول شرما راہل گاندھی نے آسام کے مسائل پر بات کرنے سے زیادہ اپنے پالتو کتے کو بسکٹ کھلانے کو اہم سمجھا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: حفظ مراتب کا فقدان سماجی اقدار کو مسخ کر رہا ہے

سچ تو یہ ہے کہ جب کانگریس میں ان کے سیاسی عزائم میں کمی آئی تو بی جے پی ان کیلئے ایک محفوظ اور سازگار متبادل بن گئی۔ تب بھی اس حقیقت کو بھلا دیا گیا کہ بی جے پی نے ایک بار شرما پر بدعنوانی کا الزام لگایا تھا تاہم، جیسے ہی انہوں نے رخ بدلا، ان کے خلاف تمام مقدمات یا تو واپس لے لئے گئے یا پھر ان کی رفتار دھیمی کردی گئی۔۵۷؍ سالہ شرما آج بی جے پی کی نئی نسل میں سب سے آگے ہیں۔ یہ نسل سیاسی اخلاقیات، اخلاقی ضبط یا آئینی اقدار کی ان حدوں کی پابند نظر نہیں آتی جس کے پابند اٹل بہاری واجپائی اوراڈوانی دور کے بی جے پی لیڈر کسی حد تک تھے۔ اس نسل کے نزدیک اقتدار ہی سب کچھ ہے۔یہی وجہ ہے کہ شمال مشرق میں پارٹی کے سرکردہ چہرے، ایک ہنر مند الیکشن منیجر، اور ایک ٹربل شوٹر کے طور پر، شرما کو آج ایک انمول اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جو شہری سیاست سے بہتر کی توقع رکھتے ہیں وہ بلاشبہ شرما کے رویے سے پریشان ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK