محمد یونس نے ہندوستان کا براہِ راست نام لئے بغیر بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور ’سات بہنوں‘ (اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ) پر مشتمل خطے کی اقتصادی صلاحیتوں کے بارے میں گفتگو کی۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 9:03 PM IST | Dhaka
محمد یونس نے ہندوستان کا براہِ راست نام لئے بغیر بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور ’سات بہنوں‘ (اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ) پر مشتمل خطے کی اقتصادی صلاحیتوں کے بارے میں گفتگو کی۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ملک میں انتخابات کے بعد اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ اتوار کے دن منعقدہ الوداعی تقریب میں انہوں نے اپنے خطاب میں ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں ’سات بہنیں‘ (Seven Sisters) سمیت نیپال اور بھوٹان کا حوالہ دیا اور نئی دہلی و ڈھاکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود گہرے ذیلی علاقائی اقتصادی تعاون کا وژن پیش کیا۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان کی بطور وزیراعظم حلف برداری سے قبل ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں یونس نے کہا کہ ان کے ۱۸ ماہ کے دورِ اقتدار میں بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی نے ”خودمختاری، قومی مفاد اور وقار“ کو بحال کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک اب ”مغلوب“ نہیں رہا اور نہ ہی اسے دیگر ممالک کی ہدایات پر چلایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: طارق رحمان نے بطور وزیر اعظم حلف لیا
ہندوستان کا براہِ راست نام لئے بغیر یونس نے بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور ’سات بہنوں‘ (ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستیں: اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ) پر مشتمل خطے کی اقتصادی صلاحیتوں کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے علاقائی ترقی کو فروغ دینے کے لئے رابطوں میں بہتری، تجارتی معاہدوں، اقتصادی زون اور بنگلہ دیش کی سمندری رسائی کے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے بنگلہ دیش کو وسیع تر ذیلی علاقائی انضمام کے لئے گیٹ وے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہمارا کھلا سمندر محض جغرافیائی حد نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی معیشت کے ساتھ جڑنے کا کھلا دروازہ ہے۔“
ملک میں طلبہ کے احتجاج کے نتیجے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بے دخلی کے بعد، ۸ اگست ۲۰۲۴ء کو عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر مقرر ہونے والے یونس نے کہا کہ وہ انتخابی عمل کے اختتام کے بعد ”تیزی اور فخر کے ساتھ“ اقتدار کی منتقلی کے لئے تیار ہیں۔ ۲۰۲۴ء میں شیخ حسینہ کی بے دخلی کا ذکر کرتے ہوئے یونس نے اسے ”عظیم آزادی کا دن“ قرار دیا اور ملک میں ’آمریت کے خاتمے‘ کا کریڈٹ نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو دیا۔ تاہم، یونس کے دورِ اقتدار میں عبوری دور کے دوران اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات سے نمٹنے پر تنقید بھی کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: ۱۴؍کرکٹ لیجنڈز کا عمران خان کی صحت پر خط، گواسکر اور کپل دیو بھی شامل
واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں بی این پی نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد طارق رحمان ۳۵ برسوں میں بنگلہ دیش کے پہلے مرد وزیراعظم بن گئے ہیں۔ رحمان نے ہندوستان، چین اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ”بنگلہ دیش فرسٹ“ (بنگلہ دیش سب سے پہلے) کے نقطہ نظر کا وعدہ کیا ہے۔ رائے دہندگان نے ریفرنڈم کے ذریعے ’جولائی نیشنل چارٹر ۲۰۲۵ء‘ کو بھی منظور کرلیا ہے، ۵۹ء۶۸ فیصد ووٹرز نے ۸۴ اصلاحاتی تجاویز کی حمایت کی ہے، جن میں ۴۷ آئینی ترامیم بھی شامل ہیں۔