ممبئی سے لے کر پونے تک، اورنگ آباد سے لے کر ناگپور تک جہاں کہیں بھی احتجاج ہوا ،طلبہ کے ساتھ ساتھ سرپرستوں نے، بزرگوں نے ، اساتذہ نے حتیٰ کہ تیسری صنف کے لوگوں نے بھی شرکت کی
EPAPER
Updated: July 26, 2026, 7:54 AM IST | Mumbai
ممبئی سے لے کر پونے تک، اورنگ آباد سے لے کر ناگپور تک جہاں کہیں بھی احتجاج ہوا ،طلبہ کے ساتھ ساتھ سرپرستوں نے، بزرگوں نے ، اساتذہ نے حتیٰ کہ تیسری صنف کے لوگوں نے بھی شرکت کی
نیٹ پیپر لیکن معاملے پر دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دینے والے طلبہ نے پولیس کی لاٹھیاں کھائیں، ان کا مقابلہ کیا لیکن ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ بالآخر حکومت کو ان طلبہ کے آگے جھکنا پڑا اور سنیچر کے روز مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیدیا جو ان طلبہ کی سب سے اہم مطالبہ تھا۔ یوں تو طلبہ پر لاٹھی چارج کے بعد ملک بھر میں ناراضگی دکھائی دی لیکن مہاراشٹر کے عوام نے سڑکوں پر اتر کر ان طلبہ کا یہاں سے بھر پور ساتھ دیا۔ ممبئی تا پونے اور اورنگ آباد تا ناگپور جہاں بھی احتجاج ہوا عوام نے اس میں بڑی تعداد میں شرکت کی۔
پونے کو علم کا گھر کہا جاتا ہے ۔ یہاں گزشتہ جمعرات اور جمعہ دونوں دن جم کر احتجاج کیا گیا۔ جمعرات کو پرکاش امبیڈکر کی جانب سے مہاراشٹر بند کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس میں سب سے بڑا احتجاج پونے ہی میں ہوا۔ دوسرے دن یعنی جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس دن دوبارہ سی جے پی اور مختلف طلبہ تنظیموں کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر احتجاج کیا گیا اور حیرانی کی بات ہے کہ دوسرے دن بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترے۔ شدید بارش کے باوجود ہزاروں طلبہ نے لال محل چوک (شنیوار واڈا) سے ضلع کلکٹر کے دفتر تک `ترنگا پدایاترا نکالی۔ روایتی سیاسی نعرے لگانے کے بجائے، طلبہ نے اپنا تیار کردہ ’’ پیپر نہیں سسٹم لیک ہوا ہے ‘‘ جیسے طنزیہ گیت گائے۔ اس مارچ میں نہ صرف امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ بلکہ ان کے سرپرست، بزرگ شہری، اساتذہ ، حتیٰ کہ تیسری صنف کے لوگ بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے۔ طلبہ نے ضلع کلکٹر کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا پرزور مطالبہ کیا۔
دوسری جانب شیوسینا ( ادھو)اور ایم این ایس کی جانب سے دارالحکومت ممبئی کے شیواجی پارک میں ترنگا مارچ نکالا گیا جس میں ہزاروں نوجوانوں نے بغیر کسی سیاسی جماعت کا جھنڈا استعمال کئے اس میں شرکت کی۔ان مظاہرین کے ہاتھوں میں صرف قومی پرچم تھے جو انہیں متحد کئے ہوئے تھے۔ اس احتجاج کی قیادت ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے بیٹے امیت ٹھاکرے کے ہاتھوں میں تھی۔ یہ دونوں نوجوان لیڈر، پہلی بار طلبہ کے مسئلہ پر اکٹھے ہوئے اور پلیٹ فارم کا اشتراک کیا۔ اس موقع پر ادھو ٹھاکرے نے مرکزی حکومت پر ان الفاظ کے ساتھ حملہ کیا، ’’مرکز میں لاٹھیاں اور آنسو گیس ہو سکتی ہے، لیکن ہمارے طلبہ کے ہاتھوں میں قومی پرچم ہے۔‘‘ امیت ٹھاکرے نے طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔دہلی میں ہونے والی کارروائی کے اثرات صرف ممبئی اور پونے تک محدود نہیں رہے بلکہ مہاراشٹر کے ہر بڑے بڑے شہر میں محسوس کئے گئے ۔
ناگپور میں بھی مختلف طلبہ تنظیموں نے سڑکوں پر نکل کر مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور وزیر تعلیم کا پتلا جلانے کی کوشش کی۔ جمعرات کو پرکاش امبیڈکر کے اعلان کردہ’ مہاراشٹر بند‘ کا سب سے زیادہ اثر کہیں دکھائی دیا تو وہ ناگپور کا سنویدھان چوک تھا جہاں طلبہ کی ناقابل یقین تعداد جمع ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن میں براہ راست نریندر مودی پر طنزدرج تھے ۔ حالانکہ ان میں کچھ قابل اعتراض بھی تھے۔ غالباً اسی کی وجہ سے ناگپور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی دکھائی دیں۔ پولیس نے بڑی تعداد میں مظاہرین کو گاڑیوں میں بھر کر پولیس اسٹیشن پہنچایا۔ حالانکہ بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔
مراٹھواڑہ کے اورنگ آباد میں جمعہ کے روز جب کاکروچ جنتا پارٹی نے شہر کے کرانتی چوک پر احتجاج کی اجازت مانگی تو پولیس نے اجازت نہیں دی۔ مقامی تنظیموں نے عدالت کا رخ کیا۔ اس کے بعد کسی طرح اجازت ملی اور کرانتی چوک مقامی باشندوں سے بھر گیا۔ خاص بات یہ رہی کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے اس احتجاج میں مقامی سطح پر دبدبہ رکھنے والی مجلس اتحاد المسلمین کے علاوہ کانگریس، شیوسینا (ادھو)، اور سی پی آئی وغیرہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ناسک میں بھی اسی دن سیکڑوں طلبہ اکٹھے ہوئے اور دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس کی لاٹھیوں سے زخمی ہونے والے طلبہ سے یکجہتی کے اظہار کیلئے کینڈل لائٹ مارچ نکالا۔ یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کا تعلق بھی مہاراشٹر کے اورنگ آباد ضلع ہی سے ہے اور ان کے والدین اورنگ آباد ہی میں رہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر کے لیڈران اور عوام نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کی مکمل تائید کی۔ دہلی میں بھی ریاست کے کئی نوجوان پہنچے تھے اور پہلے دن سے وہاں خیمہ زن تھے۔ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد سب سے زیادہ جشن بھی مہاراشٹر ہی میں دکھائی دے رہا ہے۔