Inquilab Logo Happiest Places to Work

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ممالک نے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو برطرف کیا

Updated: July 25, 2026, 10:11 PM IST | New York

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ممالک نے بدعنوانی کے الزامات پر چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو ہٹا نے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ وہ غزہ سے یوکرین تک جنگی جرائم کی تحقیقات کررہے تھے۔

International Criminal Court Chief Prosecutor Karim Khan. Photo: X
بین الاقوامی فوجداری عدالت کےچیف پراسیکیوٹر کریم خان۔ تصویر: ایکس

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ممالک نے بدعنوانی کے الزامات پر چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو ہٹا نے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ وہ غزہ سے یوکرین تک جنگی جرائم کی تحقیقات کررہے تھے۔  بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے رکن ممالک نے جمعہ کو چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا۔اس کے ساتھ ہی  جنسی زیادتی کے الزامات پر مبنی دو سالہ معاملے کا خاتمہ ہوگیا،حالانکہ وہ غزہ سے یوکرین تک جنگی جرائم کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے  تھے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اسمبلی آف اسٹیٹس پارٹیز کے خصوصی اجلاس میں خفیہ رائے شماری کے دوران، عدالت کے۱۲۵؍ ارکان میں سے۸۲؍ نے خان کی برطرفی کی حمایت کی، جو مطلوبہ۶۳؍ ووٹوں کی مطلق اکثریت سے کافی زیادہ تھے۔ جبکہ تیرہ ممالک نے ان کے ہٹائے جانے کے خلاف ووٹ دیا اور۱۵؍ غیرجانبدار رہے۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت

واضح رہے کہ یہ آئی سی سی کی۲۴؍ سالہ تاریخ میں پہلا موقع تھا جب رکن ممالک نے کسی موجودہ چیف پراسیکیوٹر کو ہٹانے کے لیے ووٹ دیا۔تاہم ان کے  جانشین کے انتخاب کے لیے انتخابی عمل شروع ہو گیا، جس کے آئندہ سال سے پہلے مکمل ہونے کی توقع نہیں ہے۔۵۶؍ سالہ خان پر اپنے دفتری عملے کی ایک رکن کے ساتھمبینہ  جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزام تھا۔ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ پر کام کرنے والے ججوں کے ایک پینل نے الزامات کی تحقیقات کی اور پایا کہ خان کا عملے کی رکن کے ساتھ غیررضامندی پر مبنی جنسی رابطہ تھا، لیکن انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شواہد بدعنوانی کے رسمی فیصلے کو برقرار رکھنے کے لیے درکار قانونی حد کو پورا نہیں کرتے۔جمعہ کے ووٹ میں، رکن ممالک نے اس عدالتی جائزے کو مسترد کر دیا اور اس کے بجائے اسمبلی آف اسٹیٹس پارٹیز کے بیورو، جو عدالت کی ایگزیکٹو اور نگرانی کرنے والی باڈی ہے، کے نتائج کو اپنا لیا۔ حالانکہ خان کے خلاف الزام لگانے والی خاتون نے کہا ہے کہ ان کی شکایت حقیقی تھی لیکن اسے عدالت سے متعلق اپنے اپنے ایجنڈوں کی پیروی کرنے والی جماعتوں نے استعمال کیا۔پورے عمل کے دوران، برطانوی شہریت رکھنے والے خان نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔ ان کے وکلاء نے دلیل دی کہ برطرفی کی کارروائی طریقہ کار کے اعتبار سے ناقص اور سیاسی طور پر آلودہ تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں کو البانیز نے ’’منظم قتل عام‘‘ کہا، ایم ایس ایف، ای یو کا اظہار تشویش

بعد ازاں خان نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کی انتظامی ٹریبونل کے سامنے اپنی برطرفی کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو آئی سی سی کے عملے کی جانب سے لائی گئی ملازمتوں سے متعلق تنازعات کو سننے والا ادارہ ہے۔ان کے حامیوں نے اس کارروائی کو مئی۲۰۲۴ء میں غزہ کی جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے صدر نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ طلب کرنے کے ان کے فیصلے کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر بیان کیا ہے۔ حالانکہ خان کی مدت ملازمت کے دوران جاری کیے گئے وارنٹ ان کی برطرفی کے باوجود نافذ العمل رہیں گے۔ صرف عدالت کے ججوں کو انہیں واپس لینے کا اختیار ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے، ڈینی ڈینن نے کہا کہ، ان کا خیال تھا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرکے، دنیا ان کے خلاف سنگین جنسی زیادتی کے الزامات کو نظرانداز کر دے گی۔ساتھ ہی انہوں نے خان پراسرائیل کو بلی بکرا بنانے کا الزام لگایا اور مزید کہا،’’جو لوگ اسرائیل پر مقدمہ چلانے کی کوشش کریں گے وہ احتساب سے بچ نہیں پائیں گے۔ وہ بین الاقوامی برادری کا اعتماد بھی کھو دیں گے۔اسرائیل کے خلاف حملے، جن کا مقصد ان کے شرمناک رویے سے توجہ ہٹانا تھا، کریم خان کو نہیں بچا سکے، اور وہ ظہران ممدانی کی بھی مدد نہیں کریں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کی بمباری سے مسجد شہید

واضح رہے کہ نیویارک سٹی کے میئر ممدانی نے گزشتہ ہفتے اس وقت تنازع کھڑا کر دیا جب انہوں نے تجویز دی کہ اگر نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے شہر آئے تو وہ ان کی گرفتاری کا حکم دے سکتے ہیں۔ بعد میں، قانونی حکام سے مشاورت کے بعد، انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے اور اس کے بجائے انہوں نے وفاقی حکام سے اسرائیلی لیڈرکو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK