Inquilab Logo Happiest Places to Work

صدر مرمونے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور کیا، پرلہاد جوشی نئے وزیر تعلیم

Updated: July 25, 2026, 10:10 PM IST | New York

صدر ہند دروپدی مرمو نے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور کرلیا، جس کے بعد جبکہ کابینی وزیر پرلہاد جوشی کو تعلیم کی وزارت کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے، جوشی اس وقت مرکزی وزیر برائے صارفین امور، خوراک و عوامی تقسیم اور وزیر برائے نئی اور قابل تجدید توانائی کے عہدوں پر فائز ہیں۔

Cabinet Minister Pralhad Joshi. Photo: INN
کابینی وزیر پرلہاد جوشی۔ تصویر: آئی این این

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا مرکزی وزراء کی کونسل سے استعفیٰ قبول کر لیا ہے، جبکہ کابینی وزیر پرلہاد جوشی کو تعلیم کی وزارت کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ یہ بات راشٹرپتی بھون کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہی گئی۔جوشی اس وقت مرکزی وزیر برائے صارفین امور، خوراک و عوامی تقسیم اور وزیر برائے نئی اور قابل تجدید توانائی کے عہدوں پر فائز ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۳۷؍ روز بعد سی جے پی کا احتجاج ختم، حکومت نے تمام مطالبات تسلیم کرلئے

بیان کے مطابق،صدر جمہوریہ ہند، وزیراعظم کے مشورے پر، آئین ہند کے آرٹیکل۷۵؍ کی شق (۲؍)کے تحت، جناب دھرمیندر پردھان کا مرکزی وزراء کی کونسل سے استعفیٰ فوری اثر سے قبول کرتے ہیں۔مزید برآں، وزیراعظم کے مشورے پر، صدر نے ہدایت دی ہے کہ کابینی وزیر جناب پرلہاد جوشی کو ان کے موجودہ قلمدان کے علاوہ تعلیم کی وزارت کا چارج بھی سونپا جائے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کے رضاکار محمد جنید کا یوپی پولیس پر اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کا الزام

واضح رہے کہ نیٹ امتحانی پرچہ لیک کے بعد نیت امتحان منسوخ کئے جانے سے دلبرداشتہ طلبہ نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کا آغازکردیا تھا، جس کی حمایت سماجی خدمت گار سونم وانگچک نے بھی کی اور اپنی مانگیں منوانے کیلئے بھوک ہڑتال شروع کردی۔ دوسری جانب طلبہ بھی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ ۲۰؍ جولائی کو پولیس نے طلبہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لاٹھی چارج کیا، جس میں سیکڑوں طلبہ زخمی ہوئے۔ تاہم پولیس کے اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں غصہ کی لہر پھیل گئی، اور کئی شہروں میں طلبہ کی حمایت میں اسکول اور کالج کے طلبہ نے بھی مظاہرے شروع کردئے۔ حالانکہ مرکزی نمائندوںنے ۲۷؍ دنوں بعد اسپتال میں بھرتی سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کروائی لیکن طلبہ اپنے مطالبات پر اڑے رہے۔ اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ویڈیو پیغام کے ذریعے پرچہ لیک کے ذمہ داروں کے خلاف کڑی کارروائی کا وعدہ بھی کیا، لیکن اس کا بھی مظاہرین پر کوئی اثر نہ ہوا۔ دوسری جانب ملک میں پھیلتے جارہے مظاہروں سے دباؤ محسوس کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے صدر کو اپنا استعفیٰ سونپ  دیا۔جس کے بعد ۳۴؍ دنوں سے جاری طلبہ نےاپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK