محافظ پولیس خود اب خطرہ بن گئی ہے

Updated: May 06, 2022, 11:21 AM IST | Agency | Jhansi

للت پور سانحہ پر ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کا تبصرہ ، حکومت سے سوال کیا :’’جب پولیس سے غلط کام لوگے تو پھر پولیس کے غلط کام یا اس کی من مانی کیسے روکو گے؟‘‘ جھانسی میں پریس کانفرنس کے دوران بلڈوزر چلانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا

Samajwadi Party chief Akhilesh Yadav addressing a press conference in Jhansi.Picture:INN
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو جھانسی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این

سماجوادی پارٹی (ایس پی)  کےسربراہ اکھلیش یادو نے للت پور سانحہ کے پس منظر میںکہا کہ محافظ پولیس خود اب خطرہ بن گئی ہے۔  ان کے مطابق بی جے پی کےدور میں پولیس کا اتنا غلط استعمال کیا گیا ہے اور اسے اتنے اختیارات دئیے گئے کہ آج پولیس  بے لگام ہوگئی ہے اور پولیس اسٹیشن لاقانونیت کا اڈہ بن چکے ہیں۔ واضح رہےکہ  للت پور کے تھانہ پالی میں ایک عصمت دری کی متاثرہ شکایت کرنے گئی تھی ، وہاں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں ہی نےاس کی آبر و نیلام کی ۔ اس معاملے میں ضلع کے ایس پی نکھل پاٹھک نے تھانہ انچارج سمیت ۵؍ پولیس اہلکاروںکو معطل کردیا تھا۔للت پور عصمت دری کی متاثرہ اور اس کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے جمعرات کو جھانسی پہنچے ایس پی  سربراہ اکھلیش یادو نے   پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ جب پولیس سے غلط کام لوگے تو پھر پولیس کے غلط کام یا اس کی من مانی کو کیسے روکو گے؟اس لئے تھانے لاقانونیت کے اڈے بن گئے ہیں۔ للت پور کا سانحہ کوئی پہلا  سانحہ نہیں ہے۔ لگاتار پولیس کے آمرانہ رویہ کے معاملے سامنے آرہے ہیں۔
 للت پور کی متاثرہ کی روداد
  ۴؍ ملزمین گزشتہ ۲۲؍اپریل کو متاثرہ کو بہلا پھسلا کر بھوپال لئے گئے تھے جہاں ۳؍ دن ان لوگوں نے اس کی عصمت تار  تار کی۔ اس کے بعد۲؍اپریل کو پالی میں  اسے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ بعد میں پولیس نے متاثرہ کی خالہ کو بلا کر اس کے حوالے کردیا۔الزام ہے کہ ۲۷؍اپریل کو تھانہ انچارج نے بیان لینے کیلئے متاثرہ کو تھانے میں بلایا اور اپنے کمرے میں لے جا کر اس  کی آبرو نیلام کی۔ ۳۰؍اپریل کو پولیس نے ایک بار  پھر متاثرہ کو تھانے بلایا اور تھانے سے لڑکی کو چائلڈ لائن بھیج دیا گیا جہاں اس نے چائلڈ لائن کے افسران کو اپنی آب بیتی سنائی۔ اس پر چائلڈ لائن والوں نے متاثرہ کی ماں کو بلایا  جہاں لڑکی نے بتایا کہ اس کے ساتھ ۴؍ لڑکے اور ایک داروغہ نے عصمت دری کی ہے جس کے بعد ان کی ماں نے تھانہ انچارج سمیت ۶؍افراد کیخلاف عصمت دری کا معاملہ درج کرایا ہے۔
 حکومت سے سوال 
    اسی پس منظر میں پریس کانفر نس میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ  نے میڈیا  کے نمائندوں  کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھاکہ آخرپولیس کو اتنے اختیارات کس نے دئیے؟اسی کا نتیجہ ہے کہ  محافظ پولیس خود اب خطرہ بن گئی ہےاور جب ایسا ہو تو سوچئے کہ ہم کس سمت میں جارہے ہیں؟انہوں نے سوال کیا کہ ایسے لوگوں کو حکومت کب معطل  اوربرخاست کرے گی؟ للت پور تھانے کا واقعہ ابھی زیر بحث ہی تھا کہ ایک اور خاتون کے ساتھ بدسلوکی کامعاملہ سامنے آگیا ہے۔جرائم کے معاملوں میں سب سے زیادہ نوٹس یوپی کومل رہے ہیں۔ ان کے مطابق  سماجوادیوں کے احتجا ج کرنے سے دباؤ  میں انہیں پولیس کے خلاف کارروائی کرنی پڑی۔
 یو پی پولیس کے مظالم کے اور بھی ثبوت 
 ایس پی سربراہ نے   یہ بھی کہا کہ گورکھپور کاروباری کی موت ہی کو  دیکھ لیجئے۔ چاہے دو بہنوں کو پیٹنے کا معاملہ لے لیجئے۔ آخر اترپردیش کی پولیس کو اتنے اختیارات کس نے دئیے؟
 بلڈ وز رچلنے پر تشویش 
  اکھلیش یادو نے مسلمانوںکےگھروں پر بلڈوزر چلانے   سے متعلق انتہائی محتاط انداز میں تبصرہ کیا  ۔ انہوں نے کہا کہ  جہاں چاہتےہیں ، بلڈوزر چلا دیتے ہیں۔ بی جے پی کے لوگ کچھ بھی کریں تو کچھ نہیں ہوتا ہے اور ایک ذات کا نام آئے تو بلڈوزر نکل پڑتے ہیں۔ 
 نیو ز چینلوں پر سنگین الزام 
 سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ آج کل نیوز چینل وزیر اعظم مودی کے اشارے پر چل رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK