راہل گاندھی نے بجٹ پر بحث کے دوران امریکہ سے تجارتی معاہدہ اور ایپسٹین فائلز کے حوالے سے مرکز پر شدیدحملے کئے ،کرن رجیجو سے لفظی جھڑپیں، سرکار کو کھری کھری
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 5:50 AM IST | New Delhi
راہل گاندھی نے بجٹ پر بحث کے دوران امریکہ سے تجارتی معاہدہ اور ایپسٹین فائلز کے حوالے سے مرکز پر شدیدحملے کئے ،کرن رجیجو سے لفظی جھڑپیں، سرکار کو کھری کھری
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایوانِ زیریں میں بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے مودی حکومت پر سخت ترین حملے کئے۔چونکہ انہیں آج اپنی بات پیش کرنے کا موقع دیا گیا تھا اس لئے انہوں نے موقع کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تقریر میں ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ، ایپسٹین فائلز اور ہندوستانی نوجوانوں کی بے روزگاری سمیت کئی اہم مسائل اٹھائے۔
راہل گاندھی نے کیا کیا کہا ؟
لوک سبھا میں لوک سبھا کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ بنگلہ دیش نے نفع بخش تجارتی معاہدہ کیا ہے، جبکہ ہندوستان کو خسارہ ہی خسارہ ہے۔ ہند امریکہ تجارتی معاہدہ کا منفی اثر ٹیکسٹائل سیکٹر پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ٹیکسٹائل کی ریس میں ہندوستان ۱۸؍ فیصد ٹیرف کی بیڑیوں میں دوڑے گا اور بنگلہ دیش صفر فیصد کے کھلے میدان میں۔ وزیر اعظم مودی کا ٹرمپ کی شرائط کے سامنے سرینڈر کا اعلان ہندوستانی ٹیکسٹائل کے لیے موت کا فرمان ہے۔ کیا ہم ریس شروع ہونے سے پہلے ہی پیچھے نہیں چھوٹ رہے؟ ٹیکسٹائل جو کبھی ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی آج اسے ہی مودی حکومت نے توڑنے کا انتظام کردیا ہے۔
ہندوستانیوں کا مستقبل گروی
راہل نے اپنے جارحانہ انداز میں مودی سرکار کو گھیرتے ہوئے کہا کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ نے ۱۴۰؍کروڑ ہندوستانیوں کا مستقبل گروی رکھ دیا ہے۔ نوجوانوں کا روزگار داؤ پر ہے، کسانوں کی فصل سمجھوتے کی میز پر اور توانائی سیکوریٹی بیرون ملکوں کی شرطوں کے بھروسے چھوڑ دی گئی ہے۔ یہ معاہدہ شدید دباؤ کا نتیجہ ہے۔کوئی وزیر اعظم بغیر بھاری دباؤ کے ایسے گھٹنے نہیں ٹیکتا۔ یہ معاہدہ برابری کا نہیں، مجبوری کا ہے۔
ایپسٹین فائلز کا ذکر
اپنی تقریر میںراہل گاندھی نے ’ایپسٹین فائلز‘ کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ ایپسٹین فائلز سے ہو یا اڈانی کیس ، مودی جی نے اپنا اقتدار بچانے کی قیمت قومی مفادات سے ادا کی ہے۔نریندر مودی جی کی آنکھ میں ہمیں ڈر نظر آرہا ہے۔ وہ آنکھ میں آنکھ نہیں ملا پارہے ہیں۔ ایپسٹین کیس میں ۳؍ ملین فائلیں ابھی آنی باقی ہیں۔ اس سے اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سرکار ملک کا کیا کیا گروی رکھے گی۔ انہوں نے انل امبانی کی بھی بات کی اور کہا کہ انہیں کس نے بچایا یہ میںبھی جانتا ہوں اور مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری بھی جانتے ہیں۔ ان کے یہ کہنے پر لوک سبھا میں موجود بی جے پی لیڈران کے تلووئوں سے لگی اور سرپہ بجھی ۔ انہوں نے ہنگامہ شروع کردیا ۔
راہل اور رجیجو میں جھڑپ
مرکزی وزیر کرن رجیجو اور راہل گاندھی نے لفظی جھڑپ ہو گئی ۔ رجیجو نے کہا کہ جو الزام وہ لگارہے ہیں اس کے ثبوت انہیں دینے ہوں گے اور ثابت کرنا ہو گا ورنہ ان کا یہ بیان ریکارڈ پر نہیں جائے گا۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ابھی ثبوت دیتے ہیں۔ بہت ممکن تھا کہ دونوں کی جھڑپ مزید بڑھ جاتی لیکن اس وقت چیئر پر موجود جگدمبیکا پال نے مداخلت کی اور دونوں کو خاموش کرایا۔ ساتھ ہی راہل سے کہا کہ وہ اپنی تقریر جاری رکھیں ۔ ثبوت بعد میں پیش کردیں۔
راہل نے متعدد حوالے دئیے
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران اقتصادی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جیو پولیٹکل ٹکراؤ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ چین، روس اور دیگر طاقتیں امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کر رہی ہیں۔ توانائی اور مالیاتی نظام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے لیکن ہمارے یہاں معاملہ دوسرا ہے۔