’دی وائر‘ کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے ماضی میں دیئے گئے مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں وزیراعظم نے جمہوریت میں تنقید کی اہمیت پر زور دیا تھا، اس کارروائی کی مذمت کی۔
EPAPER
Updated: February 11, 2026, 7:05 PM IST | New Delhi
’دی وائر‘ کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے ماضی میں دیئے گئے مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں وزیراعظم نے جمہوریت میں تنقید کی اہمیت پر زور دیا تھا، اس کارروائی کی مذمت کی۔
نیوز پورٹل ’دی وائر‘ کی جانب سے پوسٹ کی گئی وزیراعظم نریندر مودی پر ایک طنزیہ اینی میشن ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور ایکس سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پورٹل نے اس اقدام کو ”طنز اور مزاح“ پر حملہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ کارروائی حکومت کی ایماء پر کی گئی ہے۔ اس کارروائی کے بعد اظہارِ رائے کی آزادی اور آن لائن سینسر شپ سے جڑے خدشات پھر موضوع بحث بن گئے ہیں۔
’دی وائر‘ نے مودی کو نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر طنزیہ ویڈیو شیئر کیا تھا۔ ’۵۶ پروڈکشنز‘ کی تیار کردہ ۵۳ سیکنڈ کی اس اینی میٹیڈ ویڈیو میں جاری بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ کے حالیہ مناظر، خاص طور پر لوک سبھا سے وزیراعظم مودی کی غیر حاضری کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیک گراؤنڈ میں ۱۹۸۰ء کی دہائی کے بچوں کے ایک گانے کی پیروڈی کو شامل کیا گیا ہے۔
’دی وائر‘ کے مطابق، پیر کے دن اس کا انسٹاگرام اکاؤنٹ تقریباً دو گھنٹے کے لیے عارضی طور پر بلاک کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ اکاؤنٹ رات ۸:۳۰ بجے کے قریب بحال کر دیا گیا، لیکن طنزیہ ویڈیو تک رسائی بحال نہیں ہوئی۔ ’ایکس‘ نے بھی ”قانونی مطالبے“ کا حوالہ دیتے ہوئے اس ویڈیو تک رسائی کو روک دیا ہے۔
حکومت نے مواد ہٹانے کے قوانین سخت کر دیے
یہ پیش رفت عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے چند دنوں بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے آئی ٹی قوانین کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے غیر قانونی مواد ہٹانے کا وقت اطلاع ملنے کے بعد ۳۶ گھنٹے سے کم کرکے صرف ۳ گھنٹے کر دیا ہے۔ ملک کے آئی ٹی قوانین ۲۰۲۱ء میں ترامیم مودی حکومت اور عالمی ٹیک کمپنیوں کے درمیان پہلے ہی تنازع کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
متنازع ویڈیو کے پیچھے پارلیمنٹ کا پس منظر
یہ اینی میشن ویڈیو گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش آنے والے حقیقی واقعات پر مبنی تھی۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے عوامی طور پر کہا تھا کہ کانگریس کے ممبرانِ پارلیمنٹ، خاص طور پر خواتین ممبران سے منسلک سیکوریٹی خدشات کی بنا پر انہوں نے مودی کو ایوان میں نہ آنے کا مشورہ دیا تھا۔ اسی دن، اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو سابق آرمی چیف ایم ایم نرونے کی ایک غیر مطبوعہ کتاب کے اقتباسات پڑھنے سے روک دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے برسر اقتدار بی جے پی کے لیڈران اور اپوزیشن کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی تھی۔ متنازع ویڈیو میں مودی کی غیر حاضری اور پارلیمنٹ کے اندرونی سیاسی ڈرامے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور اسے مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا: ابھیشیک بنرجی نے ’’ٹو انڈیاز‘‘ کا حوالہ دیا، بحث تیز، ویر داس کا ردعمل
’دی وائر‘ کا ردعمل
’دی وائر‘ کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے ماضی میں دیئے گئے مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں وزیراعظم نے جمہوریت میں تنقید کی اہمیت پر زور دیا تھا، اس کارروائی کی مذمت کی۔ وردراجن نے ۲۰۱۸ء کے لندن ٹاؤن ہال میں مودی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ’ایکس‘ پر لکھا: ”میں تمام قارئین سے اپیل کرتا ہوں کہ اس کارٹون کو بڑے پیمانے پر شیئر کریں۔ تنقید جمہوریت کو مضبوط بناتی ہے۔“
وردراجن نے حکومت پر آئی ٹی وزیر اشوینی ویشنو کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ویڈیو بلاک کرنے کا حکم دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ویڈیو نے وزیراعظم کو ”واضح طور پر پریشان“ کر دیا ہے۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ آئی ٹی قانون کے تحت، پبلشرز کو پیشگی اطلاع دینا لازمی ہے الا یہ کہ کوئی ہنگامی صورتحال یا ایمرجنسی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”حقیقت یہ ہے کہ ’دی وائر‘ کو کبھی مطلع نہیں کیا گیا، اس کا مطلب ہے کہ مزاح اور طنز مودی کے لیے ’ایمرجنسی‘ کا معاملہ بن چکے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: صحافی روی نائر کو اڈانی ہتک عزت کیس میں ایک سال قید کی سزا
تخلیقی آزادی سے جڑے خدشات
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ملک میں طنز و مزاح کو جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ سال دو سے زائد معروف ہندوستانی کارٹونسٹوں کو حکومت کے ذریعے مطلع کیا گیا تھا کہ ان کے خاکے آئی ٹی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس تازہ ترین کارروائی کے بعد، اظہارِ رائے کی آزادی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سخت ڈجیٹل قوانین اور ان کے جارحانہ نفاذ سے آن لائن پلیٹ فارمز پر اختلافِ رائے اور تخلیقی اظہار کو دبانے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔