Updated: February 11, 2026, 10:14 PM IST
| Indore
والدین نے نشان دہی کی کہ اسکول کی ویب سائٹ پر ہولی، دیوالی، نوراتری، کرسمس اور ٹیچرز ڈے کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے لیکن ’عید میلاد النبی‘ کے علاوہ عید کی کسی تقریب کا ذکر نہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ جیسے بڑے تہوار غائب ہیں، جس سے ثقافتی اخراج کے دعوؤں کو تقویت ملتی ہے۔
دی انٹرنیشنل اسکول آف بامبے۔ تصویر: ایکس
اندور کے مسلم اکثریتی علاقے کھجرانہ میں واقع ’انٹرنیشنل اسکول آف بامبے‘ پر مذہبی تفریق اور امتیازی سلوک کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ اسکول میں زیر تعلیم بچوں کے والدین نے دعویٰ کیا کہ مسلم طلبہ کو کلاس رومز اور سالانہ تقریب سمیت اسکول کی سرگرمیوں میں منظم طریقے سے ان کے ہندو ساتھیوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔
متعدد والدین، استاد اور مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس نجی اسکول نے حال ہی میں دو الگ الگ سالانہ تقاریب منعقد کیں جن میں سے ایک صرف مسلم طلبہ کے لیے اور دوسری غیر مسلم (زیادہ تر ہندو) طلبہ کے لیے تھی۔ والدین کا الزام ہے کہ یہ تفریق صرف تقریبات تک محدود نہیں بلکہ کلاس رومز میں بھی دکھائی دیتی ہے، جہاں مسلم طلبہ کو مخصوص ”ایم سیکشنز“ میں رکھا جاتا ہے۔ یہ تفصیلات سامنے آنے کے بعد والدین نے سالانہ تقریب کے دن اسکول کے گیٹ کے باہر احتجاج کیا جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا ہے۔
’سالانہ پروگرام کی مختصر تقریب، کوئی مہمانِ خصوصی نہیں‘
آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ کی والدہ نگہت نے بتایا کہ ۲ فروری کو رویندر ناٹیہ گرہ میں منعقدہ سالانہ تقریب میں ان کی بیٹی نے شرکت کی، یہ تقریب اگلے دن ہونے والی غیر مسلم طلبہ کی تقریب سے بالکل مختلف تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر مسلم طلبہ کو اپنی پرفارمنس کی تیاری خود کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا، انہیں حب الوطنی کے گیت گانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس کے بجائے پنجابی گانوں پر پرفارم کرنے کیلئے کہا گیا۔ ان کا پروگرام تقریباً دو گھنٹے جاری رہا، اس پروگرام میں نہ کوئی مہمانِ خصوصی تھا اور نہ ہی حاضرین کی تعداد زیادہ تھی۔
اس کے برعکس ۳ فروری کو غیر مسلم طلبہ کے لیے ہونے والی تقریب اساتذہ کی نگرانی میں بہترین انداز میں ترتیب دی گئی تھی، جو تین سے چار گھنٹے تک جاری رہی، اس میں مہمانِ خصوصی نے شرکت کی اور والدین کو ریفریشمنٹ بھی دی گئی۔ نگہت نے یہ الزام بھی لگایا کہ برقع، عبایہ، ٹوپی یا روایتی مسلم لباس پہننے والے والدین کو داخلے سے روک دیا گیا۔ جب والدین اگلے دن پرنسپل سے اس معاملے میں وضاحت کیلئے پہنچے تو انہیں اسکول کے گیٹ بند ملے۔
یہ بھی پڑھئے: تمام سرکاری تقریبات میں قومی ترانے سے پہلے وندے ماترم کے چھ بند گائے جائیں:حکومت
کلاس رومز میں ’ایم سیکشنز‘
والدین کا روپ دھار کر ایک صحافی نے ریاضی کی ٹیچر پونم تیواری سے بات کی، جنہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ششم اور ہفتم جماعت کے ”ایم سیکشنز“ کو پڑھاتی ہیں، جس کا مطلب یہ لیا گیا کہ ان سیکشنز میں مسلم طلبہ شامل ہیں۔ انہوں نے ”اے ون“ اور ”اے ٹو“ سیکشنز میں داخلے کا مشورہ دیا جن میں ہندو طلبہ کی اکثریت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم طلبہ پہلے دوپہر کی شفٹ میں تھے لیکن تقریباً ایک سال قبل انہیں صبح کی شفٹ میں ضم کر دیا گیا، تاہم ان کے سیکشنز تبدیل نہیں کیے گئے۔
ایک اور انتظامی رکن، ندھی جوشی نے کسی بھی قسم کے امتیاز سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم کیوں تفریق کریں گے؟ ہم یہاں علم اور مساوی مواقع فراہم کر رہے ہیں۔“ انہوں نے اسکول کی سہولیات اور ممبئی کے اعلیٰ اداروں کے ساتھ مبینہ روابط کا ذکر کیا لیکن کلاس رومز دکھانے سے انکار کر دیا۔
اسکور کارڈز اور ’نرم ہندوتوا‘ کے دعوے
سید قاسم علی، جن کا چھوٹا بھائی مذکورہ اسکول میں پانچویں جماعت میں پڑھتا ہے، نے الزام لگایا کہ گزشتہ سال مسلم طلبہ کے اسکور کارڈز سے سرنیم ہٹا دیئے گئے تھے جبکہ غیر مسلم طلبہ کے پورے نام درج تھے۔ انہوں نے اسکول پر ”فرقہ وارانہ خیالات“ کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائی ہے۔
قاسم نے یہ الزام بھی لگایا کہ کسی استاد نے ایک بار طلبہ سے کہا کہ ”M سے مینگو (آم) ہوتا ہے، منکی (بندر) نہیں، کیونکہ بندر کو ہنومان جی سے منسوب کیا جاتا ہے۔“ انہوں نے ’نرم ہندوتوا‘ پر مبنی پیغام قرار دیا۔ قاسم نے مزید دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے فیس کے حوالے سے ہراساں کیے جانے پر آواز اٹھائی تو ان کے بھائی پر ”بیڈ ٹچ“ (غیر اخلاقی لمس) کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا: ابھیشیک بنرجی نے ’’ٹو انڈیاز‘‘ کا حوالہ دیا، بحث تیز، ویر داس کا ردعمل
اسکول کے تہواروں کا کیلنڈر
والدین نے نشان دہی کی کہ اسکول کی ویب سائٹ پر ہولی، دیوالی، نوراتری، کرسمس اور ٹیچرز ڈے کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے لیکن ’عید میلاد النبی‘ کے علاوہ عید کی کسی تقریب کا ذکر نہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ جیسے بڑے تہوار غائب ہیں، جس سے ثقافتی اخراج کے دعوؤں کو تقویت ملتی ہے۔
سیاسی ردِعمل
عوامی ردعمل سامنے آنے کے بعد کانگریس کارپوریٹر روبینہ خان نے اسکول کا دورہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی تبدیلی نہ آئی تو وہ یہ معاملہ وزیراعلیٰ موہن یادو تک لے جائیں گی اور والدین سے اپنے بچوں کے داخلے واپس لینے کی اپیل کریں گی۔
اسکول کے خلاف فی الحال کوئی ایف آئی آر یا قانونی کارروائی درج نہیں کی گئی ہے۔