اومیکرون کے سبب ادویات کی فروخت کا آسمان چھونا تشویشناک ہے: ماہرین

Updated: January 23, 2022, 9:03 AM IST | jalander

ان دنوں کیمسٹ کی دکانوں پر بھیڑ بڑھ گئی ہے اور احتیاط کے طور پر لوگ سردی کھانسی کی دوا،پَیراسیٹامول اور سیرپ بڑے پیمانے پر لے رہے ہیں جس پر ایکسپرٹس نے خبر دار کیا ہے

Nowadays, people are using their own medicine for colds and fevers
آج کل سردی اوربخار میں لوگ اپنے طورپر میڈیکل سے دوائیں لے کر استعمال کررہے ہیں

پنجاب میں گزشتہ کچھ ہفتوں میں اومیکرون لہر کے مضبوط ہونے کے ساتھ ہی اوور- دی- کاؤنٹر (او ٹی سی) ادویات خاص طور پرڈولو۶۵۰؍ (پیراسیٹامول)کی فروخت آسمان چھو رہی ہے۔ڈولو۶۵۰؍ ایم جی ٹیبلٹ میں پَیراسیٹامول ہےجوایک اینٹی بائیوٹک (بخار کے لیے) اورا ینالجسک (درد سے راحت کیلئے) ہےجیسا کہ حکومت نے کہا ہے کہ عام نزلہ اور کھانسی کیلئے لوگوں کو اسپتالوں میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے سبب کیمسٹ کی دکانوں پر بھیڑ بڑھ گئی ہے۔ احتیاط کے طور پر معمولی علامت والے لوگ سردی کھانسی کی دوا، پَیراسیٹامول اور سیرپ بڑے پیمانے پر لے رہے ہیں جس پر ماہرین نے خبر دار کیا ہے۔
  نیشنل کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول پروگرام کے صلاح کار ڈاکٹر نریش پروہت نے سنیچر کو اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئےخبر رساں ایجنسی  یو این آئی کو بتایا کہ  اندازے بتاتے ہیں کہ ڈولو۶۵۰؍کے سلسلے میں۸۰؍ سے زیادہ میم سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرچلن میں ہیں جودواؤں کے غیر معقول استعمال اور  از خود علاج کی  تشویش کو جنم دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی تشہیر اور اشتہار ڈرگس اینڈ میجک ریمیڈیز ایکٹ کی خلاف ورزی ہے اور اسے بے قابو نہیں ہونے دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پیراسیٹامول ایک مقررہ دوا ہے اس لیے بخار  میں ایکٹ کے تحت اس کی تشہیرنہیں کی جا سکتی ۔وبائی امراض کی روک تھام کے سینئر ماہر ڈاکٹر پروہت نے کہا’’ کسی دوا کیلئے پچھلے دروازے سے تشہیر کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔اس سے پیراسیٹامول کا بے تحاشا غلط استعمال اور غیر معقول استعمال ہو رہا ہےجو مریضوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔بہت سے مریض مناسب تشخیص کے بغیر بھی خود دوا لے رہے ہیں جو سنگین رد عمل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔‘‘ 
 انہوں نے کہا کہ پہلی اور دوسری لہر میں کئی وجوہات کی بنا پر فروخت بہت زیادہ نہیں تھی کیونکہ زیادہ لوگوں کو اسپتالوں میں داخل کروایا گیا تھا اور اس وقت لوگ ڈاکٹروں سے رابطہ کررہے تھے۔ اپنے طور پر دوااستعمال کرنے کا رجحان نہیں تھا ۔   ڈاکٹر پروہت نے کہا کہ اگرچہ پیراسیٹامول کو تجویز کردہ خوراک کی حد کے اندر ایک اچھی طرح سے برداشت کی جانے والی دوا کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن اس کا اووَر ڈوز جگر اور لبلبے کیلئےخطرناک حد تک نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس جانب  توجہ مبذول کروائی کہ ماضی میں کچھ فارما کمپنیوں نے آیورویدک بینڈواگن پر سوار ہو کر غذائی عناصر کی خوراک کو بھی فروغ دیا تھا۔ کئی معنوں میں یہ سب روکنے کیلئے کوئی ضابطہ یا ریگولیٹری نہیں ہے۔

medicine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK