امریکہ نے شام کے حوالے سے اپنی دفاعی تجارتی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اسے ان ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے جہاں دفاعی سازوسامان اور خدمات کی برآمد یا درآمد کے لیے لائسنس اور دیگر منظوریوں کو عمومی طور پر مسترد کیا جاتا تھا۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 5:08 PM IST | New York
امریکہ نے شام کے حوالے سے اپنی دفاعی تجارتی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اسے ان ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے جہاں دفاعی سازوسامان اور خدمات کی برآمد یا درآمد کے لیے لائسنس اور دیگر منظوریوں کو عمومی طور پر مسترد کیا جاتا تھا۔
امریکہ نے شام کے حوالے سے اپنی دفاعی تجارتی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اسے ان ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے جہاں دفاعی سازوسامان اور خدمات کی برآمد یا درآمد کے لیے لائسنس اور دیگر منظوریوں کو عمومی طور پر مسترد کیا جاتا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے انٹرنیشنل ٹریفک اِن آرمز ریگولیشنز (آئی ٹی اےآر)میں ترمیم کرتے ہوئے شام کو دفعہ ۱ء۱۲۶؍ کے تحت عائد جامع پابندی والی فہرست سے نکال دیا ہے۔ یہ تبدیلی یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء سے نافذ العمل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے:’’مجھے رومانوی کہانیاں زیادہ پسند ہیں، اسلئے و ہی شوز کرتا ہوں‘‘
نئی پالیسی کے تحت شام کے لیے امریکی دفاعی سازوسامان، فوجی خدمات اور دیگر متعلقہ دفاعی منتقلی کی درخواستیں اب خودکار طور پر مسترد نہیں ہوں گی بلکہ ہر درخواست کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے ۱۹؍اگست ۲۰۲۶ء کو شام کے لیے نئی دفاعی تجارتی پالیسی کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اس فیصلے کو آئی ٹی اے آر میں باقاعدہ شامل کیا گیا۔
اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شام کو امریکی ہتھیاروں کی خریداری کی خودکار اجازت مل گئی ہے۔ اب بھی کسی بھی دفاعی معاہدے یا منتقلی کے لیے امریکی حکومت کی جانب سے کیس بہ کیس لائسنسنگ اور منظوری ضروری ہوگی۔ تاہم، سابقہ جامع پابندی ختم ہونے سے واشنگٹن اور دمشق کے درمیان دفاعی تجارت کے لیے ایک قانونی راستہ ضرور کھل گیا ہے۔ امریکی اقدام شام کے حوالے سے واشنگٹن کی وسیع تر پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں کا تازہ مرحلہ ہے۔ اس سے قبل اگست ۲۰۲۶ء میں امریکہ نے شام کو ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست سے بھی خارج کیا تھا۔ اس کے علاوہ واشنگٹن نے دمشق میں امریکی سفارتخانے کو دوبارہ کھولنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے، جو ۲۰۱۲ء سے بند ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، مشرق وسطیٰ میں ۹؍ ہزار امریکی فوجی بھیجے
دفاعی تجارت کے معاملے میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی حکومت نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں شام سے متعلق بعض دیگر قانونی پابندیوں میں بھی نرمی کی، جن میں کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق قانون کے تحت اسلحے کی فروخت اور اس کی مالی معاونت پر عائد بعض باقی پابندیوں سے دستبرداری شامل ہے۔ یہ اقدام ۱۶؍ ستمبر ۲۰۲۶ء سے مؤثر ہوا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق آئی ٹی اے آر میں حالیہ ترمیم کا مقصد شام کے ساتھ دفاعی تجارت سے متعلق بعض پابندیوں کو ختم کرنا ہے، جبکہ اس تبدیلی کے نتیجے میں متعلقہ ضابطہ جاتی اخراجات بھی محدود رہنے کی توقع ہے۔
شام کو اس فہرست سے نکالے جانے کے بعد امریکہ کی جامع دفاعی برآمدی پابندی کا سامنا کرنے والے ممالک کی تعداد سات رہ گئی ہے۔ ان میں بیلاروس، چین، کیوبا، ایران، میانمار، شمالی کوریا اور وینزویلا شامل ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور شام کے درمیان تعلقات میں نمایاں سفارتی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ امریکی پالیسی میں یہ نرمی شام کی نئی حکومت کے ساتھ واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے روابط اور ملک میں طویل عرصے سے جاری جنگ کے بعد بحالی کی کوششوں کے تناظر میں اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ تاہم، دفاعی سامان کی کسی بھی ممکنہ فروخت یا منتقلی کے لیے حتمی منظوری اب بھی امریکی حکومت کے انفرادی جائزے سے مشروط رہے گی۔