Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک میں شکر کی کوئی کمی نہیں، چند ہفتوں میں قیمتیں کم ہوں گی:آئی ایس ایم اے

Updated: August 24, 2026, 6:57 PM IST | New Delhi

ملک میں شکر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان صارفین کی تشویش کو دور کرتے ہوئے انڈین شوگر اینڈ بایو انرجی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (آئی ایس ایم اے) نے کہا ہے کہ ملک میں چینی کی کوئی حقیقی کمی نہیں ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں قیمتوں میں نرمی آنے کی توقع ہے۔

Sugar Mills.Photo:INN
شکرکی مل۔ تصویر:آئی این این

ملک میں شکر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان صارفین کی تشویش کو دور کرتے ہوئے  انڈین شوگر اینڈ بایو انرجی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (آئی ایس ایم اے) نے کہا ہے کہ ملک میں چینی کی کوئی حقیقی کمی نہیں ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں قیمتوں میں نرمی آنے کی توقع ہے۔ صنعتی تنظیم کے مطابق حالیہ دنوں میں قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر مارکیٹ کی قیاس آرائی، محدود مدت کی سپلائی سے متعلق خدشات اور عالمی حالات  کی وجہ سے ہوا ہے، نہ کہ ملک میں چینی کی حقیقی قلت کے باعث۔
 آئی ایس ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل  دیپک بالانی نے  بتایا کہ گزشتہ ۱۵؍ سے ۲۰؍ دنوں کے دوران چینی کی قیمتوں میں تیزی کے کئی عوامل رہے ہیں۔ ان کے مطابق بازار میں قیاس آرائی اور گھبراہٹ میں کی گئی خریداری نے قیمتوں کو اوپر پہنچایا۔ اس کے علاوہ  اتر پردیش میں ریڈ روٹ بیماری  اور گنے میں وقت سے پہلے پھول آنے کے باعث گزشتہ سال چینی کی پیداوار توقع سے کم رہی، جس سے مارکیٹ کے جذبات متاثر ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے:پنت نے بیرون ملک ٹیسٹ میچوں میں رنز بنانے کے معاملے میں دھونی کو پیچھے چھوڑ دیا

دوسری جانب عالمی سطح پر چینی کی دستیابی میں کمی کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی قیمتیں بڑھی ہیں، جس کا اثر  ہندوستانی بازار پر پڑا۔  دیپک بالانی نے واضح کیا کہ موجودہ۲۶۔۲۰۲۵ءشوگر سیزن  میں  ہندوستان  میں خالص چینی کی مجموعی پیداوار تقریباً  ۲۷۹؍ لاکھ ٹن  رہنے کا اندازہ ہے۔جنوبی کرناٹک اور تمل ناڈو میں جاری خصوصی کرشنگ سیزن سے بھی پیداوار میں اضافی حصہ شامل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ۳۰؍ ستمبر کو ختم ہونے والے موجودہ سیزن تک ملک میں چینی کی مناسب مقدار موجود رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں پہلے ہی نرمی کے ابتدائی آثار نظر آنا شروع ہوگئے ہیں اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کا اثر خردہ بازار میں بھی دکھائی دے گا، جس سے صارفین کو راحت ملے گی۔
 آئی ایس ایم اے   کے صدر نیرج شیرگاؤنکر  نے بھی یقین دلایا کہ ملک میں چینی کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور آنے والی طلب پوری کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ان کے مطابق نئے شوگر سیزن کے آغاز تک بھی ملک کے پاس کافی اسٹاک موجود رہے گا، جس سے مارکیٹ میں سپلائی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی میں بھی بہتری آئی ہے اور گزشتہ دو تین دنوں میں مارکیٹ میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگلے  دو سے تین ہفتوں  میں جب مزید چینی خردہ بازار تک پہنچے گی تو صورتحال مزید بہتر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:۳۰۰؍فلموں میں کام کرنے والے ’’ینگ امیتابھ‘‘ نے بچپن میں جنسی استحصال کا انکشاف کردیا

نیرج شیرگاؤنکر کے مطابق ۲۶۔۲۰۲۵ء سیزن کے اختتام پر تقریباً ۳۵؍ لاکھ ٹن چینی کا کلوزنگ اسٹاک  موجود رہنے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدار ملک کی گھریلو طلب کے مقابلے میں ایک مضبوط بفر اسٹاک ہے، اس لیے سپلائی کے حوالے سے کسی بڑی تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے واضح کیا’’ہندوستان میں شکر کی کوئی کمی نہیں ہے۔ پیداوار اور ذخیرہ دونوں اطمینان بخش سطح پر ہیں۔ موجودہ صورتحال بنیادی طور پر تہواروں کے سیزن سے پہلے مارکیٹ میں پیدا ہونے والی تشویش سے جڑی ہے۔ یہ کوئی ساختی سپلائی بحران نہیں ہے۔  آئی ایس ایم اے  کے نائب صدر  مادھو بی شری رام  نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے ایتھنول پروگرام کو ذمہ دار قرار دینے سے اختلاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایتھنول بلینڈنگ پروگرام شروع ہوا تھا تو مجموعی ایتھنول سپلائی میں شوگر انڈسٹری کا حصہ تقریباً۸۰؍ فیصد تھا  لیکن اب یہ حصہ کم ہوکر تقریباً ۲۸؍ فیصد  رہ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK