ٹفن سروس فراہم کرنے والی ایجنسیوں اور مالکان کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈروں کی قلت کے سبب کہیں۵۰؍تو کہیں۷۰؍فیصد ٹفن سپلائی سروس متاثر ہوئی ہے ۔ نائر، جے جے، کےای ایم اور ٹاٹا اسپتال کے اطراف مریضوں اور ان کے رشتےداروںکوسستاکھانافراہم کرنےوالے دکاندار بھی کاروبار بند کرنے پر مجبور۔کچھ لوگوں نے کھانے کے مینو میں کمی کردی
گیس سلنڈرنہ ملنے کی وجہ سے ایک ہوٹل کے ملازمین سگڑی پر کھانا بنارہے ہیں۔ (تصویر: اتل کامبلے)
ایل پی جی سلنڈروں کی قلت سے گھروں میں ہونے والی پریشانی کے ساتھ ساتھ چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے بھی بری طرح متاثرہورہے ہیں ۔ شہرو مضافات میں ایسی کئی ایجنسیاں اور گھر ہیں جنہوںنے ٹفن سروس کو ذریعۂ معاش بنایا ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی اور ان کے اہل خانہ کی کفالت ہوتی ہے بلکہ ان کے ملازمین کوبھی روزی روٹی ملتی ہے لیکن اب ان کے سر پر بھی بےر وز گاری کی تلوار لٹکنے لگی ہے ۔ شہر میں گھریلو، چھوٹے کارخانوں اور دفاتر میں ٹفن سروس فراہم کرنے والوں کے بقول گیس کی قلت سے ان کی سروس ۵۰؍ سے ۷۰؍ فیصد تک متاثر ہوئی ہے ۔ اسی طرح شہر کے اسپتالوں کے آس پاس مریضوں اور ان کی تیمار داری کرنے والوں ، رشتہ داروں کیلئے سستے کھانے کی سہولت اورراحت کا سبب بنے والےدکاندار بھی سخت پریشان ہیں ۔ متاثر ہونے والوں میں نائر ، جے جے ، کے ای ایم ، ٹاٹا اور واڈیا اسپتال کے آس پاس کھانے کا اسٹال لگانے اور چھوٹے پیمانے پر ہوٹل چلانے والے شامل ہیں ۔
ٹفن سروس فراہم کرنے والے پریشان
شہر اور مضافات میں کئی ایجنسیوں کے علاوہ ٹفن سروس فراہم کرنے والوں میں بہت سی گھریلو خواتین بھی شامل ہیں ۔ ٹفن سروس سے وابستہ خواتین اپنے اہل خانہ کی کفالت میں اہم رول ادا کرتی ہیں ۔ مختلف ایجنسیوں میں کھانا بنانے اور ٹفن سروس فراہم کرنے کے لئے بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار ملتا ہےلیکن ایل پی جی کی قلت نے انہیں بے روز گاری کی دہلیز پر لاکھڑا کیا ہے ۔سائن ، دھاراوی، کھار اور باندرہ میں ایسی کئی خواتین ہیںجو کھانا بنانے اورمختلف کارخانوں ، دفاتر اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ٹفن سروس فراہم کرتی ہیں ، ان دنوں وہ گیس سلنڈر کی قلت سے انتہائی پریشان ہیں ۔ ان کے ساتھ ساتھ مختلف کھانا اور ٹفن سروس فراہم کرنے والی کئی ایجنسیاں بھی گیس سلنڈر نہ ملنے کے سبب پیدا ہونے والے بحران سے جوجھ رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا کاروبار ۱۰، ۲۰؍ فیصد نہیں بلکہ ۵۰؍ تا ۷۰؍ فیصد متاثر ہوا ہے ۔
دھاراوی سائن کے علاقے میں کار خانوں میں ٹفن سروس فراہم کرنے والی سریتا گائتونڈے نے بتایا کہ’’ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزشتہ ۸؍ برس سے چھوٹے پیمانے پر کارخانہ میں کام کرنے والے مزدوروں کو ٹفن سروس فراہم کرتی ہوں ۔ لاک ڈاؤن میں بھی اتنی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا جتنا کمرشیل گیس سلنڈر نہ ملنے کے سبب اب ہورہا ہے ۔اگر یہی حال رہا تو کاروبار بند کرنا پڑے گا اور بھوکے رہنے کی نوبت آجائے گی ۔‘‘
اسی طرح کھار اور چمبور میں ٹفن سروس فراہم کرنے والے اسپائس باکس ٹفن سروس کے امر دیپ نے بتایا کہ ’’۴؍ سو سے ۵؍ سو لوگوں کا ٹفن ہماری ایجنسی سے جاتا تھا لیکن گیس کی قلت سے فی الحال سروس کو روک دینا پڑا ہے ۔ اس سے مجھے مالی نقصان تو برداشت کرنا پڑ رہا ہے لیکن میری ایجنسی میں ملازمت کرنے والے ۱۵؍ لوگوں کی ملازمت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے ۔‘‘
ایک دیگر ایجنسی میں کام کرنے والے شبیر خان کے بقول ’’مالک نے گیس کی قلت کے سبب لکڑی اور کوئلہ سے کھانا بنانا شروع تو کر دیا ہے لیکن اکثر مزدور جنہیں صرف گیس کے چولہے پر کھانا بنانے کا تجربہ ہے ،لکڑی اور کوئلہ ٹھیک سے جلا نہیں پاتے ہیں اور انہیں دھوئیں سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ کام چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔‘‘
باندرہ اورکھار کےمختلف دفاتروںاور کارخانوں میں ۱۰۰؍ ٹفن پہنچانے والے راجو کاکڑے نے بتایا کہ ’’گیس کی قلت کے سبب صرف ۳۰؍ ٹفن دے پارہا ہوں۔ اب یا تو وہ سروس بند کردوں گا یا پھر کوئلہ اور لکڑی کی مدد سے سروس جاری رکھنے کی کوشش کروں گا ۔‘‘
اسپتالوں کے قریب سستا کھانا بیچنے والوں کو دشواریاں
نائر ، جے جے ، کے ای ایم ، ٹاٹا اور دیگر اسپتالوں کے قریب اکثر سبزی پوری ، دال ،چاول ،دو سبزی اور چپاتی کے ساتھ رائس پلیٹ ، وڑا پاؤ اور بھجیا فروخت کرنے والے بعض اسٹال مالکان نے تو۱۶؍ تا۱۸؍ سو اور ۲۲؍ سو کا ملنے والا گیس سلنڈر ۵؍ اور ۷؍ ہزار روپے میں بھی نہ ملنے کے سبب اسٹال ہی بند کر دیا ہے ۔اسی طرح جو لوگ کسی طرح گیس سلنڈر حاصل کرکے کھانا بنا رہے ہیں، انہوں نے دال چاول یا صرف سبزی روٹی بنانے اور فروخت کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔وہیں چند اسٹال والوں نے چپاتی ، وڑا پاؤ اور بھجیا بنانے کے لئے لکڑی کا چولہا جلا لیا ہے ۔
جنگ کے سبب رسوئی گیس سلنڈرنہ ملنے سے ایک طر ف اسپتالوں کے اطراف چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے اور اس میں کام کرنے والے مزدور بری طرح متاثر ہورہے ہیں تو دوسری طرف سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریض اور ان کے اہل خانہ بھی سستا کھانا ملنے کی سہولت میں کمی سے پریشان ہیں کیونکہ انہیں سستے دام میں بھر پیٹ کھانا نصیب نہیں ہورہا ہے ۔ اس ضمن میں کے ای ایم اور ٹاٹا اسپتال کے درمیان سبزی روٹی ، رائس پلیٹ ، اڈلی اور وڑا سامبر کا اسٹال لگانے والے رمیش کٹی نے بتایا کہ گیس سلنڈر کی قلت کے سبب اب انہیں صرف بھاجی پوری اور وڑا پاؤ بنانے پر ہی اتفاق کرنا پڑ رہا ہے اور اس میں بھی وڑا پاؤ وہ لکڑی کا چولہا جلا کر تیار کررہےہیں ۔
ٹاٹا اسپتال میں اپنی والدہ کا علاج کروانے جلگاؤں سے آنے والےالیاس شیخ نے کہا کہ’’ میری والدہ کا علاج ٹاٹا اسپتال میں جاری ہے ، انہیں تو اسپتال سے کھانا مل جاتا ہے لیکن میں اسٹال پرکم قیمت پر ملنے والے کھانے میں کٹوتی کئے جانے سے اب وڑا پاؤ کھا کر پیٹ بھرنے پر مجبور ہوں۔‘‘