Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوجوانوں میں بی ٹی ایس کے تعلق سے اتنا جنون کیوں ہے؟

Updated: March 23, 2026, 9:56 PM IST | Mumbai

جنوبی کوریا کے سپرہٹ کے-پاپ میوزک بینڈ بی ٹی ایس کی مقبولیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ دنیا بھر کے نوجوانوں میں بی ٹی ایس کے ان سات لڑکوں کے لیے ایک الگ ہی دیوانگی پائی جاتی ہے۔ آج کی نوجوان نسل بی ٹی ایس کا نام سنتے ہی پرجوش ہو جاتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ آخر بی ٹی ایس کو لے کر نوجوانوں میں اتنا جوش کیوں ہے۔

BTS Band.Photo:INN
بی ٹی ایس بینڈ۔تصویر:آئی این این

جنوبی کوریا کے سپرہٹ کے-پاپ میوزک بینڈ بی ٹی ایس کی مقبولیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ دنیا بھر کے نوجوانوں میں بی ٹی ایس کے ان سات لڑکوں کے لیے ایک الگ ہی دیوانگی پائی جاتی ہے۔ آج کی نوجوان نسل بی ٹی ایس کا نام سنتے ہی پرجوش ہو جاتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ آخر بی ٹی ایس کو لے کر نوجوانوں میں اتنا جوش کیوں ہے۔
بی ٹی ایس کی شروعات ۲۰۱۰ء میں بگ ہٹ انٹرٹینمنٹ نامی کمپنی سے ہوئی، جو اب ہائب   کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ہائب کے سی ای او بانگ سی-ہیوک نے انڈرگراؤنڈ ریپر آر ایم کو سنا اور ایک ہپ ہاپ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا۔ آہستہ آہستہ دیگر اراکین کو آڈیشن اور اسٹریٹ کاسٹنگ کے ذریعے شامل کیا گیا۔ اس گروپ میں کل سات اراکین   ہیں۔
ان سات لڑکوں کے گروپ میں لیڈر اور ریپر کم نام-جون (آر ایم)، ووکلسٹ کم سوک-جن (جن)، ریپر من یون-گی (سوگا)، ڈانسر اور ریپر جنگ ہو-سوک (جے ہوپ)، ڈانسر اور ووکلسٹ پارک جی-من (جمن)، ووکلسٹ کم تے-ہیونگ (وی)، اور مین ووکلسٹ و ڈانسر جون جونگ-کوک (جنگ کوک) شامل ہیں۔
ابتدا میں کمپنی کے پاس کم وسائل ہونے کی وجہ سے انہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں کافی مشکلات کے ساتھ رہنا پڑتا تھا۔ حالات ایسے تھے کہ اگر ان کے پاس کھانے کے پیسے ہوتے تو بس کا کرایہ نہیں ہوتا تھا۔ بی ٹی ایس نے  ۱۳؍ جون۲۰۱۳ء کو اپنا پہلا گانا ’’نو مور ڈریم‘‘ اور البم ’’ٹو کول فور اسکول‘‘ کے ساتھ ڈیبیو کیا۔ ابتدا میں انہیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں نے ان کے نام اور ہپ ہاپ انداز کا مذاق اڑایا۔ مالی مشکلات کی وجہ سے ۲۰۱۴ءمیں یہ گروپ ٹوٹنے کے قریب بھی پہنچ گیا تھا۔
تاہم اس مشکل وقت میں بھی کمپنی اور تمام اراکین نے ہمت نہیں ہاری، اور آج دنیا کے تقریباً ہر ملک میں بی ٹی ایس کو پسند کیا جاتا ہے اور ان کے گانے سنے جاتے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں تمام اراکین جنوبی کوریا کی لازمی فوجی خدمت میں مصروف رہے۔۲۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو بی ٹی ایس نے نیٹ فلکس پر لائیو اسٹریمنگ کے ساتھ ’’بی ٹی ایس دی کم بیک لائیو: اری رنگ‘‘ پروگرام میں شاندار پرفارمنس کے ساتھ واپسی کی۔

یہ بھی پڑھئے:مغربی ایشیا جنگ: سونے چاندی کی قیمت میں بھاری گراوٹ


بی ٹی ایس کی اتنی بڑی فین فالوئنگ کی ایک بڑی وجہ ان کا اپنے مداحوں کے ساتھ مضبوط تعلق ہے۔ ان کے گانے صرف تفریح کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ ان میں زندگی کی مشکلات اور ان سے نکلنے کے راستوں کا ذکر بھی ہوتا ہے۔آج کے دور میں لوگ ذہنی دباؤ، موٹاپا اور جذباتی تکلیف جیسے مختلف مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے میں بی ٹی ایس کے گانوں میں ذہنی اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے، اور وہ اپنی فنکاری کے ذریعے لوگوں کو آگے بڑھنے، اپنی لڑائی لڑنے اور کامیاب ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: داسُن شَنَاکا، سَم کرن کی جگہ راجستھان رائلز کا حصہ بن گئے


 بی ٹی ایس کے گانوں کے بول اکثر نوجوانوں کے جذبات، جیسے ذہنی صحت، تنہائی، خود سے محبت اور اسکول و کالج کے دباؤ پر مبنی ہوتے ہیں۔ ’’لو یوئرسیلف‘‘ جیسی ان کی البم سیریز نے مداحوں کو خود کو قبول کرنے اور محبت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ بی ٹی ایس کے مداحوں کو ’’آرمی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بینڈ فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے مداحوں سے براہ راست جڑا رہتا ہے۔ بی ٹی ایس اپنے ڈانس مووز، پُرجوش پرفارمنس اور شاندار ویژول اسٹائل کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے میوزک ویڈیوز میں استعمال ہونے والے رنگ اور فیشن (جیسے رنگین بال اور اسٹائلش ملبوسات) نوجوانوں کو بہت متوجہ کرتے ہیں۔ اس گروپ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ صنفی روایتی تصورات کو چیلنج کرنے کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK