پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر ۸؍ بیریئر پہلے ہی لگائے جاچکے ہیں
EPAPER
Updated: September 01, 2025, 10:47 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر ۸؍ بیریئر پہلے ہی لگائے جاچکے ہیں
حال ہی بارش سے ایک بار پھر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے پیش نظر بی ایم سی نے ۳؍ ندیوں اور ۳؍ نالوں پر ’’ٹریش بیریئر‘‘ (جالیاں) نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن سے پلاسٹک اور دیگر کچرے کو ندی اور نالوں میں جمع ہونے سے روکا جا سکے گا۔
واضح رہے کہ بہتے پانی پر جالیاں، جنہیں ’’ٹریش بیریئر‘‘ کے علاوہ ’’فلوٹنگ بیریئرس‘‘ یا ’’ٹریش بوم‘‘ بھی کہا جاتا ہے، نصب کرکے کچرا جمع کرنے کا منصوبہ پرانا ہے اور پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر ممبئی میں ۸؍ مقامات پر انہیں نصب کیا جا چکا ہے تاہم اب مزید ۶؍ جگہوں پر انہیں نصب کئے جانے کی امید ہے۔ بی ایم سی ان ۶؍ ندی اور نالوں پر ٹریش بیریئر نصب کرنے پر فی ٹریش بوم ۳ء۶؍ کروڑ روپے ۳۶؍ مہینوں کیلئے خرچ کرے گی۔
فی الحال جن مقامات پر یہ ٹریش بیریئر نصب کئے جائیں گے ان میں دہیسر ندی، پوئسر ندی اور اوشیوارہ ندی اور ۳؍ نالے موگرہ نالا (اندھیری)، گزدر باندھ نالا (جوہو) اور این ایل روڈ (دہیسر) شامل ہیں۔ یہ تمام ندی اور نالے مغربی مضافات میں واقع ہیں اور مختلف گٹروں وغیرہ سے ہوتے ہوئے بحر عرب میں ان کا پانی جاتا ہے۔ بی ایم سی نے اس تعلق سے جو ٹینڈر جاری کیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ کس ندی یا نالے میں جالیاں کہاں نصب کی جانی ہیں تاہم اخیر میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر ان مقامات پر کچرا جمع نہیں ہوتا یا دیگر کسی وجہ سے ضرورت پڑنے پر ان ٹریش بیریئر کو دیگر مقام پر منتقل کرنے کو کہا جاسکتا ہے۔
بی ایم سی کے مطابق ان تمام ۶؍ مقامات پر جو جالیاں نصب کی جائیں گی وہ ۵۷۰ء۵؍ میٹر میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ ان ۶؍ میں سب سے طویل جالیاں دہیسر اور اوشیوارہ ندیوں پر نصب کی جائیں گی جن کی طولت فی ندی ۱۲۳ء۵؍ میٹر ہوگی۔ ان کے بعد پوئسر ندی میں ۱۰۳؍ میٹر طویل جالی لگانا پڑے گی۔
نالوں میں سب سے طویل ٹریش بیریئر اندھیری سب وے (جو اکثر زیادہ بارش ہونے پر بند کردیا جاتا ہے) کے پاس واقع موگرا نالا اور گزدر باندھ نالے پر فی نالا ۸۸؍ میٹر طویل نصب کی جائے گی اور این ایل روڈ نالا پر ۴۴؍ میٹر کی جالی لگائی جائے گی۔
واضح رہے کہ آسان زبان میں سمجھا جائے تو یہ ٹریش بیریئر مچھلی پکڑنے کی جالیوں جیسی ہوتی ہیں جو کسی ندی یا نالے کی چوڑائی پر آر پار باند دی جاتی ہیں۔ جالیوں سے پانی گزرتا رہتا ہے لیکن پلاسٹک اور دیگر کچرا اس میں پھنس کر جمع ہوتا رہتا ہے جسے شہری انتظامیہ نکال لیتی ہے جس سے یہ ایسی جگہوں مثلاً گٹر وغیرہ میں پھنسے نہیں رہتے جن سے نقصان ہو۔
بی ایم سی نے ممبئی میں سب سے پہلے قلابہ میں تجرباتی طور پر یہ بیریئر لگایا تھا اور پھر پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر مزید ۷؍ مقامات پر انہیں نصب کیا گیا ہے۔ بی ایم سی کے ایک افسر کے مطابق ان تمام مقامات پر ان بیریئر کے بہترین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان سب جگہوں سے مجموعی طور پر ۳؍ میٹرک ٹن کچرا نکالا گیا اور اگر یہ بیریئر نہیں ہوتے تو یہ سارا کچرا کسی نہ کسی گٹر وغیرہ میں پھنس گیا ہوتا اور حال ہی میں شہر میں جو سیلابی صورت حال پیدا ہوئی تو وہ مزید سنگین ہوسکتی تھی۔
اس افسر کے مطابق بی ایم سی نے اس کے فائدے دیکھتے ہوئے ایسے مقامات کی نشاندہی کرلی ہے جہاں اس طرح کے بیریئر لگائے جاسکتے ہیں اور مستقبل میں ان جگہوں پر یہ نصب کئے جائیں گے۔
اس کے علاوہ بی ایم سی نے بارش کا پانی لے جانے والے نالوں کے سروں پر بھی جالیاں لگائی ہیں تاکہ پانی میں بہہ کر آنے والا کچرا آبی ذخائر میں نہ داخل ہوسکے۔