• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کو عدالتی جھٹکا، سی این این، ایم ایس ناؤ، پولیٹیکو پر پابندی روک دی گئی

Updated: October 14, 2026, 5:01 PM IST | Washington

امریکہ کی وفاقی عدالت نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کو سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے روک دیا ہے۔ جج ٹموتھی کیلی نے ۱۳؍ اکتوبر کو عبوری حکم امتناع جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ تینوں خبر رساں اداروں کے آئینی آزادیٔ اظہار اور قانونی کارروائی کے حق سے متعلق دعووں میں کامیابی کے امکانات ہیں۔ یہ حکم مقدمے کے حتمی فیصلے تک نافذ رہے گا، الا یہ کہ اپیل کی عدالت اسے تبدیل کردے۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ذرائع ابلاغ کے درمیان کشیدگی کے دوران عدالت کا یہ فیصلہ وہائٹ ہاؤس کی جانب سے صحافیوں کی رسائی محدود کرنے کے معاملے میں اہم پیش رفت ہے۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے کہا کہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کرنے کے اقدام سے امریکی آئین کی پہلی اور پانچویں ترامیم کے تحت حاصل حقوق کی خلاف ورزی کا امکان ہے۔ پہلی ترمیم آزادیٔ اظہار اور صحافت کے تحفظ سے متعلق ہے، جبکہ پانچویں ترمیم حکومت کی جانب سے قانونی طریقۂ کار کی پابندی سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تنازع ۱۸؍ ستمبر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ ان کے بقول مسلسل ’’جعلی خبریں‘‘ نشر کرنے کے سبب مذکورہ اداروں کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس فیصلے کے تحت صحافیوں کے مستقل پریس پاس منسوخ کیے جانے تھے، جن کے ذریعے انہیں ہر مرتبہ پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر وہائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے کی سہولت ملتی ہے۔ تینوں اداروں نے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ حکومت ان کی رپورٹنگ سے اختلاف کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نےایران کو چینی اور روسی مدد کی رپورٹس کو مسترد کیا؛ قطر نےآبی راستوں کو محفوظ بنانے پر زور دیا

جج کیلی نے ۲۴؍ ستمبر کو ابتدائی طور پر ۱۴؍ دن کے لیے پابندی روکنے کا حکم دیا تھا اور متعلقہ صحافیوں کے پریس پاس بحال کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس عارضی حکم کی مدت ختم ہونے کے قریب آنے پر تینوں اداروں نے عدالت سے درخواست کی کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک پابندی کے نفاذ کو روکا جائے۔ ۱۳؍ اکتوبر کو جج نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ابتدائی حکم امتناع جاری کردیا۔ اس طرح صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں کام جاری رکھنے کی اجازت برقرار رہے گی، تاہم مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں اس بات پر خاص توجہ دی کہ صحافیوں کو پریس پاس منسوخ کرنے سے پہلے کوئی واضح اطلاع یا اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا تھا۔ جج کے مطابق وہائٹ ہاؤس نے ابتدا میں پابندی کا اعلان کرتے ہوئے رپورٹنگ کو ’’جعلی خبریں‘‘ قرار دیا، جبکہ قومی سلامتی سے متعلق دلائل بعد میں پیش کیے گئے۔ عدالت نے ان دلائل کو غیر مؤید قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایسے شواہد پیش نہیں کیے جن سے پابندی کے لیے قومی سلامتی کا جواز ثابت ہوسکے۔ اس کے ساتھ جج نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا حکم ٹرمپ کے رپورٹنگ کی درستگی اور غیر جانب داری سے متعلق خدشات کو خود بخود بے بنیاد قرار نہیں دیتا اور نہ ہی حکومت کو خفیہ معلومات کے غیر قانونی انکشافات روکنے سے محروم کرتا ہے۔
اس معاملے میں متاثر ہونے والے صحافیوں کی تعداد بھی اہم ہے۔ اسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تینوں اداروں کے مجموعی طور پر ۷۸؍  صحافی اس پابندی سے متاثر ہوسکتے تھے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ وہائٹ ہاؤس کے پریس ایریا تک رسائی سے محرومی صحافیوں کے لیے صرف انتظامی دشواری نہیں، بلکہ انہیں سرکاری سرگرمیوں کا براہ راست مشاہدہ کرنے، حکام سے سوالات پوچھنے اور فوری طور پر خبریں فراہم کرنے سے بھی روک سکتی ہے۔ جج کے مطابق اگر عبوری تحفظ نہ دیا جاتا تو ان اداروں کو ایسے نقصان کا سامنا ہوسکتا تھا جس کی تلافی بعد میں ممکن نہ ہوتی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہائٹ ہاؤس میں داخلہ صحافیوں کا مطلق حق نہیں بلکہ ایک خصوصی سہولت ہے، جس کے لیے صدر اور انتظامیہ ضابطے مقرر کرسکتے ہیں۔ سرکاری وکلا نے یہ بھی کہا کہ پابندی کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ اور غلط معلومات کی روک تھام تھا۔ دوسری جانب میڈیا اداروں کے وکیل تھیوڈور باؤٹروس جونیئر نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ’’جب صدر نے آزاد صحافت پر پابندی عائد کی تو انہوں نے قانونی طریقۂ کار اور پہلی ترمیم کی صریح خلاف ورزی کی۔‘‘ ان کے مطابق اس پابندی سے ان کے موکلین، پہلی ترمیم اور عوام کو گہرا نقصان پہنچا۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک ایئرپورٹ: محمد یونس کے ساتھ بدسلوکی، بنگلہ دیش کا قانونی کارروائی کا عزم

یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی ذرائع ابلاغ کے درمیان رپورٹنگ، سرکاری معلومات تک رسائی اور صحافیوں کے کردار پر اختلافات مسلسل نمایاں ہورہے ہیں۔ تاہم عدالت کا موجودہ حکم صرف سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے متعلقہ صحافیوں کے پریس پاس اور وہائٹ ہاؤس تک رسائی سے متعلق ہے۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے حکومت کے تمام میڈیا سے متعلق اختیارات پر عمومی پابندی عائد ہوتی ہے۔ عدالت میں مقدمے کی کارروائی جاری رہے گی اور انتظامیہ کو فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK