امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہکانگریس وومن الہان عمر امیگریشن تحقیقات پر جیل جا سکتی ہیں ۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 5:34 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہکانگریس وومن الہان عمر امیگریشن تحقیقات پر جیل جا سکتی ہیں ۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ڈیموکریٹک کانگریس وومن الہان عمر کو وفاقی امیگریشن تحقیقات میں ان کی عمر کے بارے میں سوالات پر نہ صرف ملک بدری بلکہ جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اوول آفس میں پوچھے جانے پر کہ کیا عمر کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے اگر ان کی عمر میں کوئی مسئلہ ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’’خیر، وہ ہو سکتی ہیں۔ وہ جیل بھی جا سکتی ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’آپ جانتے ہیں، وہ ملک بدری کی بات کرتے رہتے ہیں۔ وہ جیل جا سکتی ہیں۔ یہ صرف میری رائے ہے۔‘‘واضح رہے کہ وفاقی ایجنٹوں نے اس ماہ کے شروع میں نمائندہ عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی جس میں سرکاری دستاویزات پر ممکنہ جھوٹے بیانات اور ممکنہ سازش پر کانگریس وومن کو نشانہ بنانے والی امیگریشن فراڈ کی تحقیقات کی گئی تھی۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی ایجنٹوں نے ان کا فون، لیپ ٹاپ، نوٹ بک اور پاسپورٹ ضبط کر لیا۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: استغاثہ کا ایم ای پی ریما حسن کیلئے معطلی اور قید کی سزا کا مطالبہ
تفتیش کار اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا عمر یا ان کے مرحوم والد نے۲۰۰۰ء میں شہریت حاصل کرتے وقت ان کی عمر کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔ عمر نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ۱۹۹۵ء میں ۱۲؍ سال کی عمر میں امریکہ آئیں اور۱۷؍ سال کی عمر میں شہریت حاصل کی۔تاہم وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ان کی شہریت منسوخ کرنے اور بالآخر انہیں ملک بدر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا سےعلاحدگی کی تجویز البرٹا کے عوام نے اکثریت سے مسترد کردی
بعد ازاں الہان عمر نے چھاپے کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’غلطی نہ کریں: یہ سیاسی دشمنوں کو نشانہ بنانے اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہتھیار بنانے کی کوشش ہے۔ یہ سیاسی دھمکیوں کی ٹرمپ کی مہم میں تازہ ترین اضافہ ہے۔‘‘یاد رہے کہ امریکی کانگریس کی پہلی صومالی نژاد امریکی رکن عمر۲۰۱۹ء سے امریکی ایوان نمائندگان میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔