Updated: March 28, 2026, 6:14 PM IST
| Washington
ایران جنگ کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹو ممالک آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد نہیں کرتے تو امریکہ اتحاد چھوڑ سکتا ہے۔ اسی دوران ٹرمپ نے ایران کو ’’بدمعاش‘‘ قرار دیا جبکہ ہرمز کے حوالے سے ایک متنازع بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
(۱) ٹرمپ کی دھمکی، ہرمز پر مدد نہ ملی تو امریکہ نیٹو چھوڑ سکتا ہے
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد نہیں کرتے تو امریکہ نیٹو اتحاد چھوڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’اگر وہ وہاں نہیں ہیں، تو ہم کیوں رہیں؟‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اتحادیوں سے ہرمز میں بحری تعاون کا مطالبہ کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کئی یورپی ممالک فوجی شرکت سے ہچکچا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت امریکہ اور نیٹو کے درمیان اختلافات کو ظاہر کرتی ہے۔
(۲) ٹرمپ کا ایران پر حملہ آور بیان، ’’یہ ایک دیرینہ بدمعاش ہے‘‘
ٹرمپ نے ایران کو ایک ’’longtime bully‘‘ (دیرینہ بدمعاش) قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایران کا رویہ خطے کیلئے خطرہ رہا ہے، لیکن اب اسے روکا جا رہا ہے۔‘‘ یہ بیان امریکی فوجی کارروائیوں کے دفاع میں دیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی علاقائی طاقت کم ہو رہی ہے۔ یہ بیان جنگی بیانیے کو مزید سخت بناتا ہے۔
(۳) ’’اسٹریٹ آف ٹرمپ‘‘ بیان، حقیقت یا لغزش؟
ٹرمپ کے ایک بیان میں آبنائے ہرمز کو ’’اسٹریٹ آف ٹرمپ‘‘ کہنے پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ بعد میں وضاحت دی گئی کہ یہ یا تو لغزش تھی یا مذاق۔ ذرائع نے کہا کہ ’’یہ کوئی سرکاری نام نہیں ہے۔‘‘ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ہرمز عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ بیان سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی زیر بحث رہا۔