عمر خالد کو۲۰۲۰ء کے دہلی فسادات سازش معاملے میں منگل کو عبوری ضمانت سے انکار کر دیا گیا،عدالت نے کہا کہ عبوری ضمانت کے لیے پیش کردہ بنیادیں غیر معقول ہیں۔ خالد نے۱۵؍ دن کی عبوری ضمانت کی استدعا کی تھی۔
EPAPER
Updated: May 19, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi
عمر خالد کو۲۰۲۰ء کے دہلی فسادات سازش معاملے میں منگل کو عبوری ضمانت سے انکار کر دیا گیا،عدالت نے کہا کہ عبوری ضمانت کے لیے پیش کردہ بنیادیں غیر معقول ہیں۔ خالد نے۱۵؍ دن کی عبوری ضمانت کی استدعا کی تھی۔
عمر خالد کو۲۰۲۰ء کے دہلی فسادات سازش معاملے میں منگل کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا، عدالت نے کہا کہ عبوری ضمانت کے لیے پیش کردہ بنیادیں غیر معقول ہیں۔جبکہ خالد نے۱۵؍ دن کی عبوری ضمانت کی استدعا کی تھی تاکہ وہ اپنے چچا کی وفات کے۴۰؍ویں کی رسم (چہلم) میں شامل ہو سکیں اور اپنی والدہ کی دیکھ بھال کر سکیں، جن کا ۲؍ جون کو آپریشن ہے۔ اضافی سیشن جج سمیر باجپائی نے کہا کہ محض اس لیے کہ خالد اور دیگر ملزمان کو پہلے عبوری ضمانت مل چکی ہے، ہر بار ضمانت کی درخواست منظور کرنا ضروری نہیں۔ جج نے سوال کیا کہ انہوں نے چچا کی وفات کے فوراً بعد ضمانت کا مطالبہ کیوں نہیں کیا۔ عدالت نے والدہ کے معاملے پر کہا کہ ان کے والد اور بہن آپریشن سے پہلے اور بعد میں دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق آپریشن بہت معمولی ہے اور درخواست گزار کی طرف سے کوئی حقیقی ضرورت نہیں دکھائی دیتی۔
یہ بھی پڑھئے: گنگا ندی پر افطار کرنے والے چھ افراد کوالہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی
واضح رہے کہ۵؍ جنوری کو سپریم کورٹ نے خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کیا تھا، جبکہ دیگر پانچ ملزمان کو ضمانت دی گئی۔ تاہم، پیر کو ایک بنچ نے کہا کہ یو اے پی اے جیسے قوانین میں بھی ’’ضمانت اصول ہے، جیل استثنیٰ۔‘‘ جس کے بعد گمان کیا جارہا تھا کہ شائد اس بناء پر عمر خالد کو ضمانت مل جائے۔ذہن نشین رہے کہ فروری۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، جن میں۵۰ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ پیپر لیک کا ۱۰؍ واں ملزم شیوراج رگھوناتھ لاتور سے گرفتار
تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ تشدد حکومت کو بدنام کرنے کی بڑی سازش کا حصہ تھا۔جس کے بعد عمر خالد پر یو اے پی اے، املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق قانون، آرمس ایکٹ اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔اور وہ۱۳؍ ستمبر۲۰۲۰ء سے جیل میں ہیں۔اور اس سے قبل سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ سے ان کی ضمانت کی درخواست متعدد مرتبہ مسترد کی جاچکی ہے۔