• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا بڑا قدم: کیون وارش بنیں گے نئے فیڈ چیئرمین

Updated: January 30, 2026, 8:02 PM IST | Washington

یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب ٹرمپ اور موجودہ فیڈ چیف جیروم پاویل کے درمیان تناؤ پہلے سے ہی کافی بڑھا ہوا ہے۔

Trump And Kevin Warsh.Photo:INN
ٹرمپ اور کیون وارش۔ تصویر:آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے طویل انتظار کے بعد فیڈرل ریزرو (فیڈ) کے نئے چیئرمین کے نام کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے جیروم پاویل کی جگہ سابق فیڈ گورنر کیون وارش کو اس اہم عہدے کے لیے منتخب کیا ہے۔ گزشتہ تقریباً پانچ مہینوں سے اس بارے میں قیاس آرائیاں جاری تھیں جو اب ختم ہو گئی ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب ٹرمپ اور موجودہ فیڈ چیف جیروم پاویل کے درمیان تناؤ پہلے سے ہی کافی بڑھ چکا ہے۔
 ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر کیون وارش کی کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ۵۵؍ سالہ وارش مستقبل میں فیڈ کے بہترین چیئرمین ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے وارش کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ۲۰۰۶ء سے ۲۰۱۱ءتک فیڈرل ریزرو کے گورنر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، بینک آف انگلینڈ کے لیے تیار کی گئی ان کی معاشی اصلاحات سے متعلق رپورٹ کو برطانیہ کی پارلیمنٹ نے بھی قبول کیا تھا۔
پاویل سے ٹرمپ کے  پرانے  اختلافات 
ڈونالڈ ٹرمپ اور جیروم پاویل کے درمیان تنازع کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ۲۰۱۸ء میں پاویل کی تقرری کے بعد سے ٹرمپ ان پر شرح سود کو تیزی سے کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا الزام رہا ہے کہ پاویل کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکی معیشت کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ حال ہی میں یہ تنازع مزید گہرا ہوا، جب امریکی محکمہ انصاف نے واشنگٹن میں فیڈ کے ہیڈکوارٹر کی مرمت پر خرچ کے سلسلے میں پاول کو طلب کیا۔ اس پر پاویل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام فیڈ پر دباؤ ڈالنے اور ٹرمپ کی پسند کی پالیسیوں کو نافذ کرنے کا بہانہ ہے۔
فیڈ کی کارکردگی پر وارش کی رائے 
کیون وارش بھی فیڈ کی موجودہ کارکردگی کے ناقد رہے ہیں۔ پچھلے سال ایک انٹرویو میں انہوں نے فیڈ میں ’’طاقت کی تبدیلی‘‘ یعنی ریجم چینج کی ضرورت بتائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور اس میں اصلاحات ضروری ہیں۔ تاہم، فیڈرل ریزرو میں فیصلے عام طور پر اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں، اس لیے وارش کے لیے اپنے خیالات نافذ کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:فیصل خان شینوزادہ نے انڈر ۱۹؍ ورلڈ کپ میں تاریخ رقم کر دی

معیشت کی مشکلات اور آئندہ چیلنجز 
کیون وارش ایسے وقت میں یہ ذمہ داری سنبھالنے جا رہے ہیں جب امریکی معیشت کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ٹرمپ چاہے مہنگائی ختم ہونے کا دعویٰ کر رہے ہوں، لیکن یہ اب بھی فیڈ کے  ۲؍ فیصد ہدف سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، روزگار کے شعبے میں سست روی کے آثار بھی تشویش بڑھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:رانی مکھرجی نے بالی ووڈ میں کامیابی کا سہرا سلمان، شاہ رخ اور عامر خان کے سر باندھا

وارش کے سامنے سب سے بڑی چیلنج فیڈ کی آزادی کو برقرار رکھنا ہوگی۔ ٹرمپ انتظامیہ فیڈ پر زیادہ نگرانی رکھنے اور شرح سود کے فیصلوں میں صدر کی شمولیت بڑھانے جیسے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ دوسری جانب، جیروم پاویل کی مدتِ کار ابھی دو سال باقی ہے۔ عام طور پر چیئرمین ہٹائے جانے کے بعد استعفیٰ دے دیتے ہیں، لیکن پاول عہدے پر رہ کر فیڈ کی آزادی کے حق میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس دوران، ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس جیسے کچھ رہنما کہہ چکے ہیں کہ جب تک محکمہ انصاف کی تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، وہ اس تقرری کو روک سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK