• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بجٹ ۲۰۲۶ء:اس بار کے بجٹ میں حکومت کا زور خسارے کے بجائے قرض پر

Updated: January 30, 2026, 9:07 PM IST | New Delhi

اتوار کو بجٹ پیش کیا جائے گا، لیکن اس بار کے بجٹ میں حکومت کی حکمتِ عملی پوری طرح بدلی ہوئی نظر آئے گی۔ اس مرتبہ حکومت کی پوری توجہ مالی خسارے کے بجائے جی ڈی پی اور قرض کے تناسب کو کم کرنے پر ہوگی۔

Nirmala Sitharaman.Photo:INN
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این

بس ایک دن اور، پھر دنیا کے سامنے سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کا بجٹ ہوگا۔ اس بار کے بجٹ پر صرف ہندوستان  کے عوام ہی نہیں بلکہ امریکہ سے پاکستان تک ہر ملک بدلتے ہوئے ہندوستان کی سوچ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومت کے سامنے مینوفیکچرنگ بڑھانے، ٹیرف جیسے مسائل سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مالی خسارے اور بڑھتے ہوئے سرکاری قرض کے درمیان توازن قائم کرنے کا بھی بڑا چیلنج ہوگا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس بار کے بجٹ میں مالی خسارے کو زیادہ ترجیح دینے کے بجائے حکومت بڑھتے ہوئے قرض پر زیادہ توجہ دے سکتی ہے۔
یہ مانا جا رہا ہے کہ آنے والے عام بجٹ میں کسی مخصوص مالی خسارے کے ہدف کے بجائے قرض اور جی ڈی پی کے تناسب کو کم کرنے پر زور دیا جائے گا، جو اس وقت تقریباً ۵۶؍ فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک ایف آر بی ایم قانون میں دیے گئے مالی استحکام کے راستے کے تقریباً اختتام پر پہنچ چکا ہے۔ ہندوستان جیسی تیزی سے بڑھتی اور ترقی پذیر معیشت کے لیے۳؍سے ۴؍فیصد کا مالی خسارہ مناسب اور قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے، جس کا مقصد مالی استحکام کے ساتھ معاشی توسیع میں توازن قائم رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں : پریہ درشن، بھوت پولیس۲‘ کی ہدایتکاری کریں گے

مالی خسارے کا ہدف کیا تھا؟
ترمیم شدہ مالی ذمہ داری اور بجٹ مینجمنٹ (ایف آر بی ایم) ایکٹ کے تحت مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کے لیے مالی خسارے کا ہدف جی ڈی پی کے ۵ء۴؍ فیصد سے کم رکھا گیا تھا۔ اسی لیے مرکزی حکومت نے قرض اور جی ڈی پی کے تناسب کو ایک نیا معیار قرار دیا ہے۔اگلے چھ سال کا خاکہ یکم فروری ۲۰۲۵ء کو جاری کیے گئے ایف آر بی ایم بیان میں پیش کیا گیا تھا۔ وزیرِ خزانہ نرملا سیتارامن نے جولائی ۲۰۲۴ء کی اپنی بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ  ۲۰۲۱ء میں اعلان کیا گیا مالی استحکام کا راستہ ہماری معیشت کے لیے بے حد فائدہ مند ثابت ہوا ہے اور ہمارا مقصد اگلے سال مالی خسارے کو ۵ء۴؍ فیصد سے نیچے لانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سدھیش لاڈ کی سنچری، ممبئی نے معمولی برتری حاصل کرلی

قرض اور جی ڈی پی کا تخمینہ
وزیرِ خزانہ نے کہا تھا کہ ۲۷۔۲۰۲۶ء کے بعد ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ہر سال مالی خسارے کو اس طرح برقرار رکھا جائے کہ مرکزی حکومت کا قرض، جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر مسلسل کم ہوتا رہے۔ یہ سخت سالانہ مالی اہداف کے بجائے زیادہ شفاف اور عملی طور پر لچکدار مالی معیارات کی طرف ایک تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسے مالی کارکردگی کی زیادہ قابلِ اعتماد پیمائش بھی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ ماضی اور حال کے مالی فیصلوں کے مشترکہ اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK